8

بلوچستان کا زخمِ مسلسل اور تاریخی المیے: محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام، بلوچستان کی تاریخ طویل جدوجہد، گہرے احساسِ محرومی اور دلخراش انسانی ضیاع سے عبارت ہے۔ دہائیوں پر محیط اس بحران میں ریاست اور اس خطے کے عوام کے مابین تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی بندوق کی زبان پر مکالمے کو ترجیح دی گئی، وہاں امن کی کوئی نہ کوئی راہ ضرور نکلی۔ تاہم، حالیہ دنوں میں زیارت اور ہنہ وڑک کے المناک واقعات اور اس کے نتیجے میں جاری طویل دھرنے اس بات کا ثبوت ہیں کہ زخم اب بھی گہرے ہیں اور ان کی فوری چارہ گری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بلوچستان میں تصادم کی تاریخ کو پانچ مختلف ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن کا آغاز 1947ء سے ہوا اور یہ سلسلہ 1957ء، 1962ء، 1973ء سے ہوتا ہوا 2006ء کے بعد سے تاحال پانچویں اور سب سے طویل لہر کی صورت میں جاری ہے۔ مختلف آزاد ذرائع، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سات دہائیوں میں ہونے والے تصادم، فوجی آپریشنز، دہشت گردانہ حملوں، اور فرقہ وارانہ تشدد میں ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے۔ ان اموات میں عام شہری، سیکورٹی فورسز کے اہلکار، سیاسی کارکن، اور کان کن شامل ہیں۔ یہ نقصان محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی تباہی اور نسلوں کی محرومی کا نوحہ ہے۔ وسائل پر اختیار کی جنگ، لاپتہ افراد کا دیرینہ اور حساس معاملہ، اور وفاق کی جانب سے سیاسی و معاشی وعدوں کی عدم تکمیل نے اس خلیج کو مسلسل وسیع کیا ہے۔ تاریخی طور پر جب بھی بلوچستان کا مسئلہ سنگین ہوا، اس کا حتمی حل فوجی طاقت کے بجائے سیاسی تدبر اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہو سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور کا سخت تصادم بالاخر جنرل ضیاء الحق کے دور میں عام معافی کے اعلان، قیدیوں کی رہائی اور مذاکرات کے بعد سرد پڑا۔ یوسف رضا گیلانی کے دور میں آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج (2009ء) کے ذریعے سیاسی اور معاشی خودمختاری کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا، جس نے کچھ حد تک تناؤ کو کم کیا۔ حالیہ برسوں میں پرامن بلوچستان پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے ناراض بلوچوں کے لیے مالیاتی پیکجز اور قومی دھارے میں شمولیت کی پالیسی نے بھی مثبت نتائج دیے۔ ان تمام مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی ریاست نے “بڑے بھائی” کا کردار ادا کرتے ہوئے مقامی قیادت اور عمائدین کو عزت دی، تو بحران کے بادل چھٹ گئے۔ حالیہ دنوں میں زیارت اور ہنہ وڑک کے علاقوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات، ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات اور مقامی ہلاکتوں نے ایک بار پھر صوبے کو سوگ اور احتجاج کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان واقعات کے خلاف لواحقین اور سول سوسائٹی کا دھرنا تاحال جاری ہے، جو سرد و گرم موسم اور کٹھن حالات کے باوجود حل طلب اقدامات کا منتظر ہے۔ یہ دھرنے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عوام اب محض تسلیوں پر راضی ہونے کو تیار نہیں، بلکہ وہ عملی انصاف، شفاف تحقیقات اور اپنے آئینی حقوق کی بحالی کا ٹھوس مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس تعطل نے عوام اور حکومت کے مابین پہلے سے موجود بے اعتمادی کی فضاء کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بلوچستان کے اس دیرینہ اور پیچیدہ بحران کو حل کرنے کے لیے روایتی اور عارضی اقدامات کے بجائے ایک ہمہ جہت اور پائیدار حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بنا کسی تاخیر کے تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول دھرنا منتظمین، قوم پرست رہنماؤں اور نوجوانوں کے ساتھ غیر مشروط اور بااختیار مذاکرات کا آغاز کرے۔ لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے عدالتی کمیشن کو متحرک کیا جائے، اور اگر کسی پر کوئی جرم ثابت ہو تو اسے ملکی قوانین کے تحت کھلی عدالتوں میں پیش کیا جائے، نہ کہ ماورائے عدالت اقدامات کا سہارا لیا جائے۔ سی پیک، ریکوڈک اور سیندک جیسے بڑے منصوبوں کے فوائد میں پہلا حق مقامی آبادی کا تسلیم کیا جائے اور گوادر کے ماہی گیروں اور تاجروں کے تحفظات کو دور کیا جائے۔ چیک پوسٹوں پر عوام کے ساتھ رویوں کو دوستانہ بنایا جائے اور مقامی پولیس و لیویز کو اندرونی سیکورٹی کے لیے مضبوط کیا جائے تاکہ عوام خود کو محصور نہ سمجھیں۔بلوچستان کا مسئلہ کوئی فوجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک خالصتاً سیاسی اور معاشی مسئلہ ہے۔ بندوق کی گولی سے وقتی خاموشی تو خریدی جا سکتی ہے لیکن دل نہیں جیتے جا سکتے۔ زیارت اور ہنہ وڑک کے دھرنے کو ختم کرانے کے لیے حکومت کو سنجیدگی، لچک اور مخلصانہ ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف کے کٹہرے کو سب کے لیے برابر کرنا ہوگا، تبھی بلوچستان کے پہاڑوں میں امن کا سورج طلوع ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں