محترم قارئین، پشتون قوم گزشتہ نصف صدی سے ایک ایسے مسلسل اور ہولناک خونی کھیل کا شکار ہے جس کی ڈوریاں عالمی استعمار، علاقائی مقتدر قوتوں اور مذہب و قومیت کے نام نہاد لیبل سجائے تاجروں کے گٹھ جوڑ سے ہلائی جا رہی ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی عالمی طاقتوں کو اپنے مفادات کی جنگ لڑنی ہوتی ہے، پشتونوں کی دھرتی کو اکھاڑا اور ان کے خون کو ایندھن بنایا جاتا ہے۔ اس بھیانک کھیل کا آغاز اس وقت ہوا جب قوم پرستی کی دعویدار نیشنل عوامی پارٹی (اے این پی) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اسفندیار ولی خان اور محمود خان عرف اچکزئی جیسے رہنماؤں نے کابل کے کمیونسٹ حکمرانوں نور محمد ترکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ سمیت سوویت یونین کے سرخ سامراج کا کھل کر ساتھ دیا۔ پشتونوں کے حقوق کا نعرہ لگانے والے ان عناصر کی اس ناعاقبت اندیشانہ اور غیر فطری نظریاتی یاری کے نتیجے میں تیس لاکھ سے زائد افغان جامِ شہادت نوش کر گئے اور چھ ملین سے زائد بے گناہ انسان ہجرت کی اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔
اس علاقائی تباہی کا دوسرا متوازی رخ مذهبی دکانداری کا تھا جس کے روحِ رواں مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام بنے۔ اس مکتبِ فکر نے عرب ممالک کے توسط سے خطیر مالیاتی فنڈز حاصل کیے اور اپنے مدارس کے نیٹ ورک کو اس طرح استعمال کیا کہ ایک ایسی بلواسطہ جنگی قوت (مرسنریز) تیار کی جا سکے جو وقت کے کمیونسٹوں کے خلاف امریکی اور مغربی ایجنڈے کو پایہِ تکمیل تک پہنچا سکے۔ ان نام نہاد مقدس جنگوں نے پشتونوں کے پرامن علاقوں کو بارود کے ڈھیر میں بدل دیا جس کی تپش آج بھی ہماری نسلوں کو جلا رہی ہے۔ سال 2001 میں جب امریکہ نائن الیون کا بہانہ بنا کر خطے میں براہِ راست داخل ہوا، تو یہی قوم پرست اور مذهبی ٹھیکیدار اپنے نئے آقاؤں کے ساتھ یکجا ہو گئے۔ امریکہ کا اصل مشن چین کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کا راستہ روکنا اور وسطی ایشیا کی پانچ ترک نژاد ریاستوں سمیت چین کے سنکیانگ صوبے میں آباد چودہ ملین ایغور مسلمانوں میں بدامنی پھیلا کر مشرقی ترکستان تحریک کے ذریعے بیجنگ کو غیر مستحکم کرنا تھا۔ اس اسٹریٹجک مقصد کے لیے دہشت گردوں کو امریکی فضائی اڈوں پر ابتدائی عسکری تربیت فراہم کی گئی اور چترال کی دشوار گزار گزرگاہوں کے ذریعے چین میں داخل کرنے کی کوشش کی گئی، جس دوران ہزاروں پشتون لقمہ اجل بنے۔ اس مشن کے اگلے مرحلے میں ان جنگجوؤں کو جنوبی اور شمالی وزیرستان میں عارضی پناہ گاہیں فراہم کی گئیں۔ پاکستان کو ان علاقوں کو خالی کرانے کے نام پر ڈیڑھ ارب ڈالر دیے گئے، جس کے بعد ایف-16 طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شوال کے پہاڑوں اور دیہاتوں پر وحشیانہ بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں مسید اور وزیر قبائل اپنے ہی وطن میں مہاجر بن کر رہ گئے۔اس ہولناک کھیل کا سب سے شرمناک پہلو ان سیاسی سوداگروں کے پارلیمانی اور آن کیمرہ سیشنز میں دیے گئے وہ دستخط تھے جنہوں نے اس فوجی کشی کو آئینی و قانونی جواز فراہم کیا۔ پشتونوں کے خون کے سودے کے عوض ان جماعتوں کو وزارتیں، خلوتیں اور مراعات دی جاتی رہیں۔ اس سنگین منافقت کا اعتراف خود مولانا فضل الرحمن نے سلیم صافی کے پروگرام ‘جرگہ’ میں علانیہ طور پر کیا کہ جب سب نے وزیرستان پر فوجی کشی کے مسودے پر دستخط کیے تو مجھ پر بھی دباؤ تھا اور میں نے بھی دستخط کر دیے۔ اب جبکہ پشتون قوم تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے، اغیار کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ پشتونوں کے مابین اتحاد کا کوئی مرکز باقی نہ رہے، اسی لیے اب براہِ راست پشتونوں کی روایتی ‘جرگہ’ اور اتحاد کے مراکز کو باہمی بے اعتمادی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بلوچستان میں سرگرم نام نہاد قوم پرست جماعتوں کی براہِ راست نگرانی اور سرپرستی میں ایسے منظم سوشل میڈیا پیجز اور ڈجیٹل نیٹ ورکس چلائے جا رہے ہیں جن کا واحد مقصد دنیا بھر میں پشتون قوم کو ایک غیر مہذب، وحشی، متشدد اور غیر انسانی تہذیب کی حامل قوم کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ان نام نہاد لبرل اور قوم پرست عناصر کو شعور، سچائی اور بیداری سے شدید نفرت ہے کیونکہ اگر پشتونوں میں حقیقی شعور بیدار ہو گیا تو ان کی سیاسی دکانداری ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گی۔ ایک طرف شہدا کے لواحقین اپنے پیاروں کے پاک خون کا انصاف مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف یہی سیاسی دلال پسِ پردہ حکومت کے ساتھ نئی وزارتوں کے لیے چنیں مار رہے ہیں اور عنقریب ایک یا دو پارٹیاں دوبارہ اقتدار کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔ چمن، سوات اور وزیرستان کے دھرنوں سے اب پشتون قوم کو یہ سبق سیکھنا ہوگا کہ وہ اپنے پاک شہدا کے خون کا سودا ان کاروباری دلالوں کو ہرگز نہ کرنے دیں، اپنی بات اور اپنی قیادت خود متعین کریں اور ان سیاسی عناصر سے سوال کریں کہ آخر کب تک پختونوں کا خون بہتا رہے گا اور تمہاری وزارتیں اور رتبے بڑھتے رہیں گے؟
49











