انبیاء و رسلؑ میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا مقام ہے، کوئی آدم صفی اللہ، کوئی موسیٰ کلیم اللہ، کوئی ابراہیم خلیل اللہ ہے تو کوئی اسمٰعیل ذبیح اللہ، کوئی حُسن میں بے مثل ہے تو کوئی معجزات میں بے عدیل لیکن ان تمام تر عظمتوں اور رفعتوں کے باوصف کوئی نبی و رسول ایسا نہیں جس پر براہ راست اللہ اور اس کے فرشتے ہمہ وقت درود و سلام کی برسات کر رہے ہوں۔ نہ صرف خود مصروف ثناء ہوں بلکہ اہل ایمان کو حکم دیا جارہا ہو کہ تم بھی اس سعادت میں شامل ہوجاؤ۔ یہ عزت و شرف، یہ توقیر و کمال صرف اور صرف مرکز ارادت ارض و سما حضور رسول کائنات ﷺ کی ذات والا صفات کو حاصل ہے۔
ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ظہور سرکار دو عالم ﷺسے پہلے کا ئنا ت میں کچھ بھی نہ تھا۔ سب سے پہلے جس چیز کی تخلیق عمل میں آئی وہ نور محمدی ﷺ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے محبوب سرکار دو عالم احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی تخلیق فرمائی۔ اس کے بعد ہی لوح وقلم ، عر ش و کرسی ،فرشتے ، جن و انس ، زمین و آسمان ، آب و ہوا و دیگر مخلوقات کو پیدا فرمایا۔
علامہ ابن القیم لکھتے ہیں :
’’ اللہ پاک انبیاء علیہم السلام کو اور آخر میں حضورﷺکو نبی بناکر نہ بھیجتے تو پورے عالم میں یقینی طور پر علم نافع نہ ہوتا اور نہ کہیںعمل صالح نظر آتا اور نہ ہی معاشرے میں کوئی اچھائی نظر آتی اورنہ ہی کسی مملکت میں کوئی مضبوطی دکھائی دیتی اور لوگ، جانور، درندےاور باؤلے کتے کی طرح ہوکر ایک دوسرے پر حملے کرکے جان لینے والے ہوتے۔ پورے عالم میں کہیں بھی کسی صورت میں خیر کی چنگاری نظر آتی ہے تو یہ آپ ﷺ کی نبوت کے آثارِ تعلیمات کے نتیجے میں سے ہے اور ہرقسم کا شر جو عالم میں واقع ہواہے یا ہوگا وہ آثارِ نبوت، تعلیماتِ نبوت کے پردۂ خفا میں چلے جانے کی وجہ سے ہے۔اس لیے کہ عالم بمنزلہ جسم کے ہے اور اس کی روح نبوتِ محمدی( ﷺ ) ہے اور کوئی بھی جسم بغیر روح کے قائم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جب نبوت کا سورج عالم میں گرہن ہوگا اور نبوت کے آثار وتعلیمات دنیا میں باقی نہ رہیںگے تو آسمان پھٹ جائے گا، ستارے جھڑ جائیںگے، سورج لپیٹ لیا جائے گا۔ اس لیے دنیا کا قیام ہی آپﷺ کی نبوت ورسالت کے آثار وتعلیمات کے بقا میں ہے۔‘‘
اگر یوں کہا جائے تو کجا نہ ہو گا کہ انسانی تاریخ میں اگر کوئی ہستی سب سے زیادہ عظیم، کامل اور قابل تقلید ہے تو وہ صرف اور صرف رسول کائنات ﷺ کی ذا ت اقدس ہے۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ ایک ایسا روشن مینار ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو صحیح راستہ دکھاتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور آپ ﷺکی زندگی کے ہر پہلو کو ہمارے لیے عملی نمونہ قرار دیا۔
رسول کائناتﷺ کی تعلیم و تربیت کا اثر اس بات میں نمایاں ہے کہ آپ ﷺ کے صحابہِ کرام ؇ نے ذاتی تعلیم یا جدید ڈگریوں کے بغیر بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق نے مرتدین اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کا منہ توڑاحالانکہ وہ کسی سیاسی مدرسے کے فارغ التحصیل نہ تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب نے عدل و شجاعت سے سلطنتیں سنواری حالانکہ ان کے پاس بین الاقوامی قانون کی کوئی ڈگری نہیں تھی۔ سیدنا عثمان غنی دولت و سخاوت میں ممتاز تھے مگر انہوں نے معاشیات کی کتابیں پڑھنے کی بنا پر یہ مقام حاصل نہیں کیا تھا۔اسی طرح، سیدناعلی المرتضیٰ حکمت و دانائی کے ماہر تھے،حضرت خالد بن ولید تاریخ کے بے مثال جرنیل اور حضرت ا بو عبیدہ بن جراح شاندار منتظم و قائد تھے ۔ یہ سب رسولِ کائنات ﷺ کی انقلابی تربیت کا ثمر ہیں۔ اگر آپ ﷺ کی تعلیمات اتنی عظیم نہ ہوتیں تو یہ شخصیات تاریخ کے روشن صفحات میں اس قدر نمایاں نہ ہوتیں اور دنیا انہیں تہذیب و انسانیت کے احیاء کرنے والوں کے طور پر نہ جانتی۔
سیرت نگاری کا آغاز خود عہد صحابہ میں ہو گیا تھااس وقت سے لیکر عصر حاضر تک بے شمار کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ بعض نے تحقیقی پہلو نمایاں کیے، بعض نے ادبی شان بیان کی اور بعض نے عصری مسائل کے تناظر میں سیرت کو پیش کیا۔ یہ تمام کوششیں اس بات کی دلیل ہیں کہ سیرت کا سمندر اتنا وسیع ہے کہ ہر دور میں نئی غواصی ممکن ہے۔رسولِ کائنات ﷺ کی حیاتِ طیبہ قابلِ ذکر، لائقِ تقلید اور مظاہرِ قدرتِ الٰہی و مناظرِ حسنہ سے معمور ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے تمام پیش آمدہ مسائل کا حل سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں تلاش کرے۔ آپ ﷺ کی یتیمی، مالی تنگی، غم و اندوہ کی کثرت اور راستے میں حائل رکاوٹوں کے باوجود ترقی کی وہ منازل طے کرنا، جو بیک وقت لاکھوں انسانوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں اور جن پر آج تک مسلم و غیر مسلم مفکرین بحث کرتے ہیں۔کیا یہ گوشۂ سیرت اپنے اندر لافانی راہنمائی کی صلاحیت نہیں رکھتا؟
دُنیائے اسلام اور دنیائے کفر و الحاد نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حضورﷺ کا معاشی، تمدنی اور معاشرتی مجبوریوں اور زمانے کی ناہمواریوں کے باوجود آسمان کو چھو لینے والی بلندیوں کو حاصل کر لینا یہ سبق دیتا ہے کہ زندگیاں مال، ماحول، حکومت اور عہدوں سے نہیں بنتیں بلکہ کردار، اخلاق، جہد مسلسل، صداقت اور امانت کے ساتھ ساتھ صبر و استقامت سے بنتی ہیں ۔آج کی دنیا مادیت، بے راہ روی اور فکری انتشار میں گرفتار ہےاور اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں صرف سیرتِ مصطفی ﷺ ہی وہ واحدسرچشمہ ہے جو انسانیت کو سکون، یقین اور راستہ عطا کر سکتا ہے۔یہ کتاب اسی جذبے کی مرہون منت ہے کہ امت کو دوبارہ سیرت کے نور سے روشناس کرایا جائے۔
یہ بندۂ عاصی و گنہگار اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے رسول کائنات ﷺ کی سیرت طیبہ پر قلم اٹھانا دراصل اپنی ناتوانی کا اعلان ہے۔ وہ ذات اقدس جس کی حیات طیبہ قرآن مجید کی عملی تفسیر ہے جس کا سراپا جمال و کمال اور اخلاق و کردار اللہ ربّ العزت کی آیات کا ترجمان ہے۔اس کی سیرت کے حقائق کو بیان کرنا کسی بشر کے بس میں نہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ محبت و عقیدت کے تقاضے اور امت کے لیے خدمت کا جذبہ ایسے کمالات عطا کر دیتا ہے جو محض فضل الٰہی اور فیضان مصطفوی ﷺ کا نتیجہ ہوتے ہیں۔یہ کتاب’’ رسول کائنات ﷺ ‘‘جسے آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہےکوشش کی گئی ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی حیات مبارکہ کے وہ پہلو سامنے آئیں جو نہ صرف تاریخ کے آئینے میں جگمگا رہے ہیں بلکہ آج بھی ہماری عملی زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
کتاب’’ رسول کائنات ﷺ‘‘ میں یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ سیرت رسول ﷺ کے مختلف ادوار، واقعات اور خصائص کو ایک مربوط اور جامع انداز میں پیش کیا جائے۔ اس میں سب سے پہلے عرب کے جغرافیائی حالات اور قریش کے فضائل و شرف کا ذکر ہے تاکہ اس پس منظر کو واضح کیا جا سکے جس میںسید المرسلین ﷺ کی ولادت اور بعثت ہوئی۔ پھر قریش کے خاندان، حضرت ہاشم و عبدالمطلب کی سیرت، اور ان قربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے آپ ﷺ کی آمد کے لیے ماحول تیار کیا۔
کتاب ’’ رسول کائنات ﷺ‘‘میں نہایت ترتیب سے رسول کائنات ﷺ کی ولادت باسعادت، بچپن، جوانی، عہد رسالت، ہجرت، غزوات، معجزات اور آپ کے اخلاق و اوصاف کو بیان کیا گیا ہے۔ قارئین کو معلوم ہوگا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہر امتحان میں سرخرو فرمایا اور کس طرح آپ ﷺ نے اپنے اخلاق، حکمت اور صبر سے اسلام کا پیغام دنیا تک پہنچایا۔
اسی کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی گھریلو زندگی، ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن، اولاد، معجزات، خصائص، اور اوصاف حمیدہ کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے تاکہ قارئین آپ ﷺ کی سیرت کے ہر گوشے سے واقف ہو سکیں۔یہ کتاب صرف ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک روحانی سفر ہے۔ اس کے مطالعے سے جہاں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے محبت میں اضافہ ہوگاوہیں عملی زندگی میں رہنمائی اور ایمان میں پختگی بھی حاصل ہوگی۔
میری اس کتاب ’’ رسول کائنات ﷺ‘‘ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ متعدد صحابۂ کرام ؇، بشمول خلفائے راشدین ؇ کے تذکرۂ سیرت کے بعد، رسول کائنات ﷺ کے پندرہ سو سالہ جشن ولادت کے موقع پر پایۂ تکمیل کو پہنچی ہے۔ اس سعادت پر میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔مزید برآں، اس کتاب کی کمپوزنگ کا مرحلہ بھی میرے لیے نہایت یادگار اور دلچسپ رہا کہ ایک حادثے کے نتیجے میں چوٹ لگنے کے باوجود، دوران صحت یابی اللہ تعالیٰ نے مجھے اسے مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس حقیر کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کتاب کو میرے اور میرے قارئین کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور ہم سب کو حو ض کوثر پر آقائے دو جہاں ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔آمین!
168











