46

کُوڑا سَودا تحریر: رفیع صحرائی

انسانی زندگی کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں۔ انسان اس دنیا میں ایک مسافر کی حیثیت سے آتا ہے، کچھ عرصہ قیام کرتا ہے اور پھر اپنے اصل سفر کی جانب روانہ ہو جاتا ہے۔ کسی کی زندگی چند برسوں پر محیط ہوتی ہے اور کوئی اپنی تیسری اور چوتھی نسل کو بھی اپنی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتے دیکھ لیتا ہے، مگر انجام سب کا ایک ہی ہے۔ زندگی کا سفر خواہ کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کی آخری منزل موت ہی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہم روزانہ جنازے دیکھتے ہیں، قبرستانوں سے گزرتے ہیں، اپنے پیاروں کو رخصت ہوتے دیکھتے ہیں، مگر پھر بھی دل دنیا کی محبت اور خواہشات کے حصار سے آزاد نہیں ہو پاتا۔ انسان کی خواہشات کا دائرہ جتنا وسیع ہوتا جاتا ہے، اس کا سکون اتنا ہی محدود ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری سر اٹھا لیتی ہے، دوسری پوری ہوتی ہے تو تیسری جنم لے لیتی ہے۔ یوں زندگی کی اصل خوشی اور اطمینان کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ضروریات اور تعیشات کے درمیان فرق مٹا دیا ہے۔ سادہ لباس، سادہ گھر اور سادہ خوراک کو ہم نے محرومی کی علامت سمجھ لیا ہے، جبکہ مہنگی گاڑی، بڑی کوٹھی، برانڈڈ ملبوسات اور پرتعیش طرزِ زندگی کو کامیابی کا معیار بنا لیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی حیثیت سے بڑھ کر جینے کی کوشش میں قرضوں، ذہنی دباؤ اور بے سکونی کا شکار ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس دوڑ کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اب لوگ اپنی خوشیوں پر خوش ہونے سے زیادہ دوسروں کی خوشیوں کو دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں۔ کسی کی نئی گاڑی، کسی کی بیرون ملک سیر، کسی کی شاندار دعوت یا کسی کا عالی شان گھر دیکھ کر انسان اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خوشی کا تعلق دولت کی مقدار سے نہیں بلکہ دل کے اطمینان سے ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بے شمار دولت رکھنے والے لوگ بھی سکون کی تلاش میں سرگرداں رہے جبکہ محدود وسائل رکھنے والے افراد قناعت اور شکر گزاری کی وجہ سے خوش و مطمئن زندگی گزارتے رہے۔
اسلام نے بھی قناعت اور میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اصل دولت مال و اسباب کی کثرت نہیں بلکہ دل کی غنا اور بے نیازی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بزرگ ہمیشہ یہ نصیحت کرتے رہے کہ خواہشات کو محدود رکھو، کیونکہ انسان کی ضروریات کم اور خواہشات لامحدود ہوتی ہیں۔
آج معاشرے میں کرپشن، رشوت، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، ٹیکس چوری اور ناجائز ذرائع آمدن کے پھیلاؤ کے پس منظر میں بھی یہی بے لگام خواہشات کارفرما ہیں۔ جب انسان اپنی آمدن سے زیادہ پرتعیش زندگی گزارنے کا عادی ہو جائے تو پھر حلال و حرام کی تمیز دھندلا جاتی ہے۔ بڑی گاڑی، بڑا گھر اور زیادہ دولت حاصل کرنے کی دوڑ میں بعض لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس دنیا میں کمائی گئی ہر پائی کا حساب بھی دینا ہوگا۔
“فریدا! روٹی مینڈی کاٹھ دی تے لاون میری بُھکھ
جِنّھاں کھادیاں چوپڑیاں گھنے سہن گے دُکھ”
(اے فرید! میری روٹی لکڑی کی یعنی سخت ہے اور میرے پاس بھوک بطور سالن ہے۔ مجھ سے اسی کا حساب ہو گا۔ جو گھی سے چُپڑی ہوئی روٹی کھا رہے ہیں وہ اس کا حساب دیں گے)
یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی۔ انسان کی بنائی ہوئی سلطنتیں، جائیدادیں، بینک بیلنس، کوٹھیاں اور کاریں یہیں رہ جاتی ہیں اور وہ تنہا اپنے اعمال کے ساتھ قبر میں اترتا ہے۔ وہاں نہ کسی عہدے کی اہمیت ہوتی ہے، نہ دولت کی چمک اور نہ ہی دنیاوی مرتبے کی کوئی حیثیت۔ قبر کا فرش بھی مٹی کا، دیواریں بھی مٹی کی اور چھت بھی مٹی کی ہوتی ہے۔ بادشاہ اور فقیر دونوں کے لیے زمین کا حصہ تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔
“فریدا! کوٹھے منڈپ ماڑیاں اساردے وی گئے
کُوڑا سَودا کر گئے تے گورِیں جا پئے”
(اے فرید! جنہوں نے اپنی رہائش کے لیے عالیشان گھر اور محل بنائے انہوں نے غلط کیا۔ ان کا اصل ٹھکانہ تو یہ قبر تھی)
اسی حقیقت کو ایک مشہور حکایت بڑی خوبصورتی سے بیان کرتی ہے کہ ایک شخص کو یہ اختیار ملا کہ وہ سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کا چکر مکمل کر لے گا، وہ ساری زمین اس کی ہو جائے گی۔ لالچ کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ زیادہ سے زیادہ زمین اپنے دائرے میں شامل کرنے کی کوشش کرتا رہا اور واپسی میں اتنی دیر کر دی کہ منزل تک پہنچتے پہنچتے اس کی جان ہی نکل گئی۔ آخرکار اسے صرف اتنی زمین ملی جتنی اس کی قبر کے لیے درکار تھی۔
یہ حکایت صرف ایک قصہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے۔ ہم سب اپنے اپنے دائروں کو غیر ضروری طور پر وسیع کرتے جا رہے ہیں۔ ہماری خواہشات بڑھ رہی ہیں، مصروفیات بڑھ رہی ہیں، مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ ہم اپنے دائرے چھوٹے کریں، اپنی ضروریات کو محدود کریں اور زندگی کو آسان بنائیں۔
قناعت کا مطلب ترقی سے دستبردار ہونا نہیں بلکہ اپنی استطاعت کے اندر رہتے ہوئے شکر اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ اسلام محنت، ترقی اور خوشحالی سے نہیں روکتا بلکہ ناجائز ذرائع، اسراف اور حرص و ہوس سے منع کرتا ہے۔ انسان دولت کمائے، ترقی کرے، اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دے اور معاشرے کی خدمت کرے، مگر یہ سب کچھ اخلاق، دیانت اور حلال روزی کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے۔
بابا فریدؒ کے یہ الفاظ آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں:
“فریدا! روٹی میری کاٹھ دی تے لاون میری بھکھ
جنہاں کھادیاں چوپڑیاں، گھنے سہن گے دکھ”
شاید حقیقی خوشی کا راز زیادہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ کم پر مطمئن ہونے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنی خواہشات کے دائرے چھوٹے کر لیں تو نہ صرف ہماری زندگیوں میں سکون اور آسانی آ جائے گی بلکہ معاشرے میں دیانت، سادگی اور اخلاقی قدریں بھی فروغ پائیں گی۔
آج ہمیں اپنے آپ سے صرف ایک سوال پوچھنے کی ضرورت ہے: ہم زندگی کی دوڑ میں آخر کس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، اور کیا وہ چیز واقعی ہماری ضرورت ہے یا محض ایک خواہش؟
اللہ تعالیٰ ہمیں قناعت، شکرگزاری اور حلال رزق کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، موت سے پہلے اپنی آخرت کی تیاری کرنے کا شعور دے اور ہمارا خاتمہ ایمان و عافیت کے ساتھ فرمائے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں