ڈڈیال (آزاد کشمیر) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ڈڈیال میں انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اس وقت اپنی تاریخ کے ایک اہم ترین سیاسی امتحان سے گزر رہے ہیں، اور 27 جولائی کے انتخابات نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمت، جمہوریت اور عوام کے آئینی، سیاسی و معاشی حقوق کے لیے سیاست کرتی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آواز بن کر اسے مظفرآباد، اسلام آباد اور عالمی سطح تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے ہیں تو وہ ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی بھرپور نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اور حکومتی اقدامات کے باعث عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک، ادویات، ایندھن اور بنیادی ضروریات کی فراہمی متاثر ہوئی، جبکہ پورے خطے میں انٹرنیٹ کی بندش سے عام شہریوں کو سزا دی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں اور ریاست کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے انہوں نے “ٹروتھ اینڈ ریکنسلی ایشن کمیشن” (Truth and Reconciliation Commission) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق جب تک یہ کمیشن اپنی تحقیقات مکمل نہ کرے، احتجاج کرنے والے اپنا احتجاج معطل کریں اور ریاست بھی کارروائیاں روک دے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر ان کی تجویز قابل قبول نہیں تو حکومت اور احتجاج کرنے والے دونوں اپنا متبادل حل عوام کے سامنے پیش کریں، کیونکہ موجودہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی اور اس کا سب سے زیادہ نقصان کشمیری عوام اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حقِ روزگار پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آئینی کنونشنز قائم کیے جائیں گے، جہاں تمام سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عوام کی مشاورت سے آئینی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ آئینی اصلاحات سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ، مکالمے اور اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مستقبل صرف کشمیری عوام طے کر سکتے ہیں، نہ پاکستان، نہ بھارت اور نہ کوئی تیسرا ملک ان کی جگہ فیصلہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے تحفظ کے ساتھ انتخابی نظام میں اصلاحات پر بھی سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری عوام کی حقیقی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر کے نمائندوں کو قومی مالیاتی کمیشن (NFC)، مشترکہ مفادات کونسل (CCI) اور دیگر اہم قومی اداروں میں مؤثر نمائندگی دی جائے تاکہ وہ اپنے مسائل خود پیش کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ وفاقی وزارت امور کشمیر کے موجودہ نظام پر نظرثانی کرتے ہوئے آزاد کشمیر حکومت کو مزید بااختیار بنایا جائے اور آزاد کشمیر کے وزیر خارجہ کو وفاقی کابینہ میں نمائندگی دی جائے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ کشمیر کی زمین، پہاڑ، دریا اور قدرتی وسائل کشمیری عوام کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں زمینوں کے مالکانہ حقوق سے متعلق قانون سازی کی جا چکی ہے اور اسی طرز پر آزاد کشمیر میں بھی حقِ ملکیت کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو زمینوں کے حقوق دیے، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت بحال کی اور صدر آصف علی زرداری نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات منتقل کیے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اسی فلسفے کو آگے بڑھاتے ہوئے کشمیری عوام کے باقی ماندہ حقوق بھی دلائے گی۔ بلاول بھٹو نے سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے گئے گھروں کی ملکیت خواتین کے نام منتقل کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی وہی ہے جس کا فائدہ غریب اور پسماندہ طبقے تک پہنچے، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اس سوچ کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کے اس بیان پر بھی شدید ردعمل دیا جس میں میرپور، کوٹلی اور راولاکوٹ کو کشمیر کا حصہ نہ ماننے کا تاثر دیا گیا تھا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر یہ حکومتی پالیسی نہیں تو وزیراعظم شہباز شریف متعلقہ وفاقی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹائیں، کیونکہ کشمیر کے عوام کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد، فیصل آباد یا راولپنڈی میں نہیں بلکہ کشمیری نوجوان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں سمیت آزاد کشمیر بھر میں پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور کامیابی حاصل کرے گی، جو اس بات کا ثبوت ہوگی کہ میرپور، کوٹلی، راولاکوٹ، مظفرآباد اور دیگر تمام علاقے کشمیر کا اٹوٹ حصہ ہیں۔
جلسے کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے ڈڈیال سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار افسر شاہد کے لیے بھرپور حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 27 جولائی کو تیر پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائیں تاکہ حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت، حقِ روزگار اور کشمیری عوام کے بااختیار مستقبل کی جدوجہد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی آزاد کشمیر اسمبلی کو تاریخی آئینی فیصلے کرنا ہوں گے اور پیپلز پارٹی عوام کے مینڈیٹ کے ذریعے کشمیریوں کے حقوق کی آواز اسلام آباد سے عالمی سطح تک مؤثر انداز میں اٹھائے گی
4











