بعض لوگ دولت جمع کرتے ہیں، کچھ لوگ شہرت کماتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی پوری زندگی آنے والی نسلوں کے لیے روشن مستقبل تعمیر کرنے میں صرف کر دیتے ہیں۔
2008 میں جب شہزاد احمد نے بطور ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول بھدر کی ذمہ داری سنبھالی تو سکول کی حالت نہایت خستہ تھی۔ صرف چار کلاس روم تھے، جبکہ گیارہ جماعتیں قائم تھیں۔ پورا سکول گرد و غبار کی لپیٹ میں رہتا تھا اور چند سوکھے ہوئے شیشم کے درخت اس ویرانی کی خاموش داستان سناتے تھے۔
مگر ایک مخلص استاد کے خواب حالات کے محتاج نہیں ہوتے۔ عزم، دیانت، مسلسل محنت اور اہلِ خیر کے تعاون سے وہی ویران سکول چند برسوں میں ایک مثالی تعلیمی ادارے میں تبدیل ہو گیا۔
2021 میں جب شہزاد احمد نے اس سکول کو الوداع کہا تو وہاں گیارہ کشادہ کلاس روم موجود تھے، پورے سکول میں خوبصورت ٹف ٹائل لگ چکی تھی، سامنے سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ ہو چکا تھا، اور تعلیمی نتائج، نظم و ضبط اور خوبصورتی کے اعتبار سے یہ ادارہ اپنی مثال آپ بن چکا تھا۔ اسی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں سکول کو انٹرنیشنل سکول ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔
طلبہ کے لیے تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں اور ہر سال مستحق بچوں کو مفت یونیفارم بھی دی جاتی رہی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سارے ترقیاتی سفر میں حکومتِ وقت کا ایک روپیہ بھی شامل نہیں تھا۔ یہ سب ایک مخلص استاد کی قیادت، عوامی اعتماد اور اجتماعی تعاون کا ثمر تھا۔
آج شہزاد احمد گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول گلیانہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اور وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں:
“میں نے وہی چوری یہاں بھی شروع کر دی ہے۔”
یہ چوری سرکاری خزانے کی نہیں، بلکہ لوگوں کے دل جیتنے کی ہے۔
یہ چوری وسائل پیدا کرنے کی ہے۔
یہ چوری سرکاری سکولوں کو علم، کردار اور خوبصورتی کا گہوارہ بنانے کی ہے۔
اگر پنجاب کے ہر سرکاری سکول میں ایسی ہی “چوری” شروع ہو جائے، تو یقیناً ہمارے تعلیمی ادارے قوم کی حقیقی تعمیر کے مراکز بن جائیں گے۔
— شہزاد احمد
سابق ہیڈ ماسٹر، گورنمنٹ ہائی سکول بھدر














