9

عنوان:درخت لگائیں، ماحول بچائیں از: ایمان جاوید اقبال

انسان نے جب سے ترقی کی رفتار تیز کی ہے، تب سے فطرت کی سانسیں مدھم پڑنے لگی ہیں۔ بلند و بالا عمارتیں، پھیلی ہوئی سڑکیں اور صنعتی کارخانے بلاشبہ انسانی ذہانت کی علامت ہیں، مگر اس ترقی کی قیمت اگر سرسبز جنگلات، صاف ہوا اور متوازن موسم ہوں تو یہ سودا کسی بھی طور دانشمندی نہیں کہلا سکتا۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت، فضائی آلودگی، خشک سالی اور غیر متوقع بارشوں جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان تمام خطرات کے پس منظر میں ایک حقیقت نمایاں نظر آتی ہے، اور وہ ہے درختوں کی بے دریغ کٹائی۔

درخت زمین کا حسن بھی ہیں اور اس کی بقا کا وسیلہ بھی۔ ان کی موجودگی صرف سبز رنگ کا اضافہ نہیں کرتی بلکہ زندگی کے ہر شعبے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انسان جو ہر لمحہ سانس لیتا ہے، اس سانس کی پاکیزگی میں درختوں کا بنیادی کردار شامل ہے۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرکے آکسیجن خارج کرتے ہیں، فضا میں موجود مضر ذرات کو کم کرتے ہیں، درجۂ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں اور بارشوں کے قدرتی نظام کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں درخت زیادہ ہوتے ہیں وہاں موسم نسبتاً خوشگوار، ہوا زیادہ صاف اور ماحول زیادہ صحت مند محسوس ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں درختوں کی اہمیت کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ نئی رہائشی آبادیاں قائم کرنے، سڑکوں کو وسیع کرنے یا تجارتی منصوبوں کے لیے سینکڑوں درخت کاٹ دیے جاتے ہیں، مگر ان کے متبادل شجرکاری پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ فطرت کے ساتھ یہی بے احتیاطی مستقبل کے بڑے خطرات کو جنم دیتی ہے۔ آج شہروں میں گرمی کی شدت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔

درخت صرف انسان ہی کے لیے مفید نہیں بلکہ بے شمار پرندوں، جانوروں اور حشرات کی زندگی بھی ان سے وابستہ ہے۔ جب ایک درخت کاٹا جاتا ہے تو صرف لکڑی حاصل نہیں ہوتی بلکہ کئی جاندار اپنا مسکن بھی کھو دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حیاتیاتی تنوع میں کمی دنیا کے بڑے ماحولیاتی مسائل میں شمار ہونے لگی ہے۔ فطرت کا ہر جز ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ایک درخت کی کمی بھی پورے ماحولیاتی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ کہیں شدید گرمی زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے، کہیں بے وقت بارشیں تباہی مچا دیتی ہیں اور کہیں پانی کی قلت روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں شجرکاری محض ایک سماجی سرگرمی نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکی ہے۔ اگر ہم نے آج اس حقیقت کو نظر انداز کیا تو آنے والے برسوں میں صاف پانی، صاف ہوا اور معتدل موسم صرف کتابوں کی باتیں رہ جائیں گے۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ درخت لگانا جتنا ضروری ہے، اس سے کہیں زیادہ ضروری ان کی حفاظت کرنا ہے۔ اکثر شجرکاری مہمات میں ہزاروں پودے لگا دیے جاتے ہیں مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بڑی تعداد چند ہی ماہ میں خشک ہو جاتی ہے۔ ایک پودے کو تناور درخت بننے میں برسوں لگتے ہیں، اس لیے اس کی حفاظت مستقل ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی ذمہ داری دراصل ماحول سے محبت کی حقیقی علامت ہے۔

تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، ذرائع ابلاغ اور ہر باشعور شہری کو ماحول دوست طرزِ فکر کو فروغ دینا چاہیے۔ بچوں کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ درخت محض نباتات نہیں بلکہ زندگی کے محافظ ہیں۔ جب ایک نسل درختوں کی اہمیت کو سمجھ لے گی تو آنے والی نسلوں کو ایک بہتر اور محفوظ ماحول میسر آ سکے گا۔

فطرت کبھی اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتی، مگر انسان کی بے اعتنائی کا حساب ضرور لیتی ہے۔ جب جنگلات ختم ہوتے ہیں تو موسم اپنا توازن کھو دیتے ہیں، زمین اپنی زرخیزی کھونے لگتی ہے اور فضا آلودگی کی چادر اوڑھ لیتی ہے۔ ایسے میں ترقی کے تمام دعوے بے معنی محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ زندگی کی اصل بنیاد ہی کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔

درخت محض زمین پر اگنے والے پودے نہیں، بلکہ آنے والے کل کی سانس، سایہ اور امید ہیں۔ جو قومیں اپنے درختوں کی حفاظت کرتی ہیں، وہ درحقیقت اپنی نسلوں کے مستقبل کی حفاظت کرتی ہیں، اور جو فطرت سے بے وفائی کرتی ہیں، تاریخ ان کے حصے میں ویران موسم، آلودہ فضا اور پچھتاوے کے سوا بہت کم چھوڑتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں