7

کالا قانون، حالیہ بجٹ نہ گھر، نہ زمین اور نہ اختیار : احمدخان اچکزئی

محترم قارئین ۔موجودہ مالیاتی بجٹ کے ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات کی اوٹ میں، جہاں اراکینِ پارلیمنٹ کی اکثریت ان کی ضخامت کے باعث باریک بینی سے جائزہ لینے سے قاصر رہتی ہے، انتہائی خاموشی کے ساتھ ایک ایسا خطرناک قانون متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ملک کے ہر شہری کے بنیادی اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ “پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن امینڈمنٹ ایکٹ 2026” نامی یہ مجوزہ بل دراصل ایک ایسا ڈریکونین لاء ہے جس کے تحت ریاست شہریوں کی نجی جائیدادوں پر کارپوریٹ کمپنیوں کے قبضے کو قانونی تحفظ فراہم کرنے جا رہی ہے۔ آئینِ پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ ہر شہری کو اس کی جائیداد کے تحفظ، استعمال اور منصفانہ تصرف کا غیر متزلزل حق فراہم کرتا ہے، مگر یہ نیا قانون نافذ ہونے کی صورت میں نہ تو شہریوں کی مرضی قائم رہے گی، نہ ان کا گھر محفوظ رہے گا اور نہ ہی ان کی زمین ان کے اختیار میں رہے گی۔ اس بل کی سب سے تشویشناک شق 27-A ہے جس کے تحت کوئی بھی پرائیویٹ ٹیلی کام آپریٹر، کمپنی یا اس کا ذیلی ٹھیکیدار کسی بھی شہری کی نجی جائیداد یا لان میں داخل ہو کر زبردستی اپنے ٹاورز، فائبر آپٹک کیبلز، جنریٹر یا سپورٹ سسٹم لگا سکتا ہے، اور حیرت انگیز طور پر جائیداد کا مالک انہیں قانونی طور پر نا کہنے کا حق بھی کھو بیٹھے گا۔اس الٹرا کونسٹیٹیوشنل اقدام کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ اس قانون کے تحت جائیداد کا مالک اپنی مرضی کے مطابق ان کمپنیوں سے کوئی کرایہ یا فیس بھی طلب نہیں کر سکتا، بلکہ کسی بھی تنازع کی صورت میں ایک سرکاری افسر (سیکرٹری کے عہدے کا ملازم) ریٹ کا فیصلہ کرے گا جو کہ شہریوں کے اختیارات کو بیوروکریسی کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کوئی شہری اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے اس کارپوریٹ جارحیت کے خلاف مزاحمت کرتا ہے یا انکار کرتا ہے، تو اسے پانچ کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جو کہ دنیا کی تاریخ میں نجی جائیداد کے مالکان کو ہراساں کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔ تاریخی طور پر ریاستیں ہمیشہ پبلک گڈ یعنی عوامی مفاد (جیسے سڑکیں، ڈیم یا سیوریج لائنز) کے لیے زمینیں ایکوائر کرتی آئی ہیں، لیکن تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ کمپنیوں کے کاروباری منافع کے لیے ریاستی مشینری کا ایسا ننگا استعمال کیا جا رہا ہے، جس میں پرائیویٹ پارٹیوں کے مابین تنازع میں حکومت خود ایک فریق بن کر کارپوریٹ سیکٹر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ 1996 سے اب تک، یعنی گزشتہ تیس سالوں سے، پاکستان میں موبائل فون اور ٹیلی کام کا شعبہ نجی مالکان اور کمپنیوں کے باہمی معاہدوں، باہمی رضامندی اور کرائے داری کے مروجہ قوانین کے تحت نہایت کامیابی سے چل رہا تھا، مگر اب اچانک اس تجارتی عمل کو زبردستی ایک استحصالی نظام میں بدلا جا رہا ہے۔اس بل کے مضحکہ خیز اور یکطرفہ ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قانون ان نجی تجارتی کمپنیوں کو ملک کے عوامی تفریح گاہوں اور پبلک پارکس (جیسے کراچی کے ساحلی پارکس، اسلام آباد کا ایف نائن پارک، اور لاہور کے لارنس گارڈنز یا شالیمار باغ) میں بغیر کسی معاوضے کے اپنا بھاری انفراسٹرکچر کھڑا کرنے کی کھلی چھوٹ دیتا ہے۔ ان پبلک مقامات پر پرائیویٹ کمپنیوں کو فری انٹری دینے سے نہ صرف ان پارکس کا حسن تباہ ہو جائے گا بلکہ ان کے کاربن فٹ پرنٹ، ماحولیاتی اثرات اور انوائرمنٹل اسیسمنٹ جیسے اہم ترین پہلوؤں کو بھی یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے، جو کہ عوامی صحت اور ماحولیات کے ساتھ ایک بڑا کھلواڑ ہے۔ سیاسی طور پر یہ معاملہ اس وقت مزید مشکوک ہو جاتا ہے جب قانون ساز کمیٹیوں میں شامل کچھ سیاسی جماعتوں کے اراکین، جو پبلک فورمز پر اس بل کی مخالفت کا ڈراما رچاتے ہیں، پسِ چلیہ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی پر اس بات کے لیے شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کہ اس متنازع ترین مسودے کو دو سے تین دن کے اندر اندر بغیر کسی بحث کے ہنگامی طور پر پاس کرایا جائے۔ قانون سازی کے طے شدہ جمہوری اصولوں اور تین لازمی ریڈنگز کے عمل کو بائی پاس کر کے، بجٹ دستاویزات کے ڈھیر میں چھپا کر اس بل کو پاس کرانے کی یہ ہنگامی کوشش ثابت کرتی ہے کہ اس کے پیچھے گہرے ذاتی اور مخصوص گروہی مفادات کارفرما ہیں جن کا عوامی فلاح سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ریاست کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ اس کا بنیادی کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ منافع خور نجی کمپنیوں کا پارٹنر بن کر اپنے ہی عوام کا استحصال کرنا؛ پاکستان میں تمام بزنسز، ان کی سرمایہ کاری، ان سے پیدا ہونے والی نوکریاں اور ان کا دیا گیا ٹیکس بلا شبہ قابلِ احترام ہیں، مگر اس کی قیمت شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی قربانی ہرگز نہیں ہو سکتی۔ رائٹ آف وے (Right of Way) کے تصور کو توڑ مروڑ کر اسے شہریوں کی نجی جائیدادوں پر رائٹ آف انکرشن یعنی زبردستی مداخلت کے قانون میں تبدیل کرنا ائینِ پاکستان کی روح کے سراسر منافی ہے۔ اس انتہائی بھیانک، ظالمانہ اور آمرانہ قانون کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بجٹ کے فوراً بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں (سینیٹ اور نیشنل اسمبلی) میں اس پر ایک کھلی، شفاف اور بھرپور عوامی ڈیبیٹ کرائی جائے۔ یہ مسئلہ محض کسی ایک صنعت کا نہیں بلکہ ملک کے ہر فرد کی ذاتی آزادی، جائیداد کے مالکانہ حقوق اور آئینی بقاء کا ہے، اور جب تک اس بل میں سے شہریوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے والی ان تمام کالی شقوں کو حذف نہیں کیا جاتا، اس کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند رکھنا اور اس کارپوریٹ قبضے کو ناکام بنانا ہر باضمیر شہری اور قومی میڈیا کا اولین فریضہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں