9

ڈنکی: امید سے المیے تک حمید علی

پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہی نوجوان مستقبل کے معمار، معیشت کے محرک اور قومی ترقی کی اصل قوت ہیں۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں میں ایک تشویش ناک رجحان تیزی سے بڑھا ہے کہ بہتر روزگار، خوش حال زندگی اور روشن مستقبل کی امید میں بہت سے نوجوان غیر قانونی ذرائع سے یورپی ممالک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس غیر قانونی سفر کو عام زبان میں “ڈنکی” کہا جاتا ہے۔ اس راستے میں انسانی اسمگلروں اور غیر قانونی ایجنٹوں کا ایک منظم نیٹ ورک نوجوانوں کی بے بسی، بے روزگاری اور خوابوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے لاکھوں روپے بٹورتا ہے، مگر بدلے میں انہیں تحفظ نہیں بلکہ موت، قید، ذلت اور غیر یقینی مستقبل ملتا ہے۔

پاکستان میں معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی اور محدود مواقع نے بہت سے نوجوانوں کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔ یہ خواہش اپنی جگہ جائز ہے کہ ہر شخص اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی چاہے، لیکن جب یہ خواہش غیر قانونی راستوں کا رخ اختیار کر لے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ انسانی اسمگلر نوجوانوں کو سنہرے خواب دکھاتے ہیں، یورپ میں اعلیٰ ملازمتوں اور پرتعیش زندگی کے جھوٹے وعدے کرتے ہیں اور لاکھوں روپے وصول کر کے انہیں ایسے راستوں پر روانہ کر دیتے ہیں جہاں ہر قدم موت کا امکان لیے ہوتا ہے۔

ڈنکی کے دوران نوجوانوں کو مختلف ممالک کی سرحدیں چھپ کر عبور کرنا پڑتی ہیں۔ کبھی برف پوش پہاڑ، کبھی گھنے جنگلات، کبھی بے آب و گیاہ صحرا اور کبھی سمندر کے خطرناک راستے ان کا مقدر بنتے ہیں۔ کئی دن بھوک اور پیاس برداشت کرنا، غیر انسانی حالات میں سفر کرنا، تشدد سہنا اور ہر لمحہ گرفتاری کا خوف برداشت کرنا اس سفر کا حصہ ہوتا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہر سال متعدد افراد راستے ہی میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ بہت سے نوجوان انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں تشدد، بھتہ خوری اور استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کچھ دن قبل لیبیا سے اسپین کی جانب روانہ ہونے والی ایک کشتی کے الٹنے کا المناک واقعہ پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ وہ کشتی صرف مسافروں کو نہیں لے جا رہی تھی، بلکہ اس میں کئی ماؤں کی دعائیں، باپوں کی امیدیں، بہنوں کی خواہشیں اور بچوں کے خواب بھی سوار تھے۔ جب وہ کشتی سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوئی تو صرف انسانی جانیں ہی ضائع نہیں ہوئیں، بلکہ کئی گھروں کے چراغ بجھ گئے، کئی آنگن ویران ہو گئے اور کئی آنکھیں عمر بھر کے لیے اشک بار ہو گئیں۔ یہ سانحہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا چند خوابوں کی خاطر اپنی سب سے قیمتی متاع، یعنی زندگی، کو اس طرح خطرے میں ڈال دینا دانش مندی ہے؟

غیر قانونی ہجرت صرف جان کا خطرہ ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ہر خودمختار ملک کو اپنی سرحدوں کے تحفظ اور امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا حق حاصل ہے۔ غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد گرفتاری، قید، جرمانے، ملک بدری اور کئی دیگر قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے افراد کا ریکارڈ بھی متاثر ہوتا ہے، جس کے باعث مستقبل میں قانونی ویزا حاصل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے وقتی فائدے کی خاطر ایسا قدم اٹھانا دانش مندی نہیں۔

یہ امر بھی انتہائی افسوس ناک ہے کہ انسانی اسمگلنگ اب ایک منافع بخش غیر قانونی کاروبار بن چکی ہے۔ بعض ایجنٹ نوجوانوں کو جھوٹے وعدوں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ کئی خاندان اپنی جمع پونجی، زمین، زیورات اور دیگر قیمتی اثاثے فروخت کر کے اپنے بچوں کو اس سفر پر روانہ کرتے ہیں، مگر جب کوئی نوجوان راستے میں لاپتا ہو جائے یا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو پورا خاندان عمر بھر کے لیے غم اور پشیمانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ چند افراد کی مجرمانہ سرگرمیوں کی سزا بے گناہ خاندانوں کو بھگتنا پڑتی ہے۔

حکومتِ پاکستان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر کارروائی کرے۔ ایسے ایجنٹوں، سہولت کاروں اور منظم نیٹ ورکس کو قانون کے کٹہرے میں لانا ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد، سرحدی نگرانی میں بہتری اور عوامی آگاہی مہمات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیموں کو بھی نوجوانوں کو اس خطرناک رجحان کے نقصانات سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

دوسری جانب حکومت کو نوجوانوں کے لیے روزگار، فنی تربیت، کاروباری سہولیات اور بیرونِ ملک قانونی ملازمتوں کے مواقع بھی بڑھانے چاہییں۔ جب ملک کے اندر روزگار اور ترقی کے بہتر امکانات پیدا ہوں گے تو غیر قانونی ہجرت کا رجحان بھی خود بخود کم ہو جائے گا۔ اسی طرح بیرونِ ملک قانونی امیگریشن کے طریقۂ کار، ورک ویزا، اسٹوڈنٹ ویزا اور دیگر جائز ذرائع کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ نوجوان کسی دھوکے کا شکار نہ ہوں۔

نوجوانوں کو بھی یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ وقتی جذبات یا دوسروں کی ظاہری کامیابیوں سے متاثر ہو کر اپنی جان کو خطرے میں ڈال دینا دانش مندی نہیں۔ اگر بیرونِ ملک جانا مقصد ہے تو تعلیم، مہارت، زبان سیکھنے اور قانونی تقاضے پورے کرنے پر توجہ دی جائے۔ قانونی راستہ اگرچہ نسبتاً طویل محسوس ہوتا ہے، مگر یہی محفوظ، باوقار اور پائیدار کامیابی کی ضمانت ہے۔

انسانی جان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی نعمت ہے۔ اسے کسی جھوٹے خواب، غیر قانونی راستے یا انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں ضائع کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ انسانی اسمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اور سخت اقدامات کرے، جبکہ نوجوان اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے صرف قانونی اور محفوظ راستے اختیار کریں۔ یہی ذمہ دار شہری ہونے کا تقاضا ہے، یہی قومی مفاد ہے اور یہی ہر نوجوان کے روشن اور محفوظ مستقبل کی حقیقی ضمانت بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں