12

پانی قومی بقا کا سوال حمید علی

پاکستان آج بے شمار آزمائشوں کی گرفت میں ہے۔ مہنگائی نے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں، غربت نے لاکھوں چہروں سے مسکراہٹ چھین لی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے خواب نگل رہی ہے، معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور انصاف تک رسائی بھی ہر شہری کے لیے یکساں نہیں۔ مگر ان تمام مسائل کے پس منظر میں ایک ایسا خاموش خطرہ جنم لے رہا ہے جو اگر بے قابو ہو گیا تو شاید باقی تمام بحران اپنی اہمیت کھو بیٹھیں۔ یہ خطرہ پانی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قلت ہے۔

سوچیے! اگر ایک دن ہمارے گھروں کے نل خشک ہو جائیں، کھیت پیاس سے مرجھا جائیں، دریا سکڑ جائیں اور زمین کی کوکھ سے پانی نکلنا بند ہو جائے تو کیا مہنگائی، سیاست یا دیگر مسائل ہماری پہلی ترجیح رہیں گے؟ یقیناً نہیں۔ اس وقت انسان کی سب سے بڑی خواہش صرف پانی کا ایک قطرہ ہوگی، کیونکہ پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بل کہ زندگی کی سانس ہے۔

قدرت نے پاکستان کو بلند و بالا پہاڑ، عظیم دریا، برف پوش گلیشیئر اور زرخیز میدان عطا کیے، مگر ہم نے ان نعمتوں کی حفاظت میں وہ ذمہ داری نہیں دکھائی جس کے یہ مستحق تھے۔ ہم پانی کو اس قدر بے فکری سے بہاتے رہے جیسے یہ کبھی ختم ہی نہیں ہوگا۔ آج وہی غفلت ہمارے دروازے پر ایک سنگین بحران بن کر دستک دے رہی ہے۔

پاکستان کی زراعت ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اور زراعت کی زندگی پانی سے وابستہ ہے۔ جب کھیتوں تک پانی نہیں پہنچتا تو فصلیں سوکھ جاتی ہیں، کسان کی امیدیں بکھر جاتی ہیں اور منڈیوں میں اناج کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً مہنگائی کا طوفان اٹھتا ہے، غذائی عدم تحفظ بڑھتا ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔ یوں پانی کی قلت صرف کھیتوں کا مسئلہ نہیں بل کہ ہر دسترخوان کا مسئلہ بن جاتی ہے۔

شہروں کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہیں۔ کہیں لوگ گھنٹوں پانی کا انتظار کرتے ہیں، کہیں مہنگے داموں ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں اور کہیں آلودہ پانی بیماریوں کی شکل میں موت بانٹ رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جو دریاؤں کی سرزمین کہلاتا تھا، آج اس کے لاکھوں شہری پانی کے ایک صاف گھونٹ کے لیے پریشان ہیں۔ یہ منظر صرف تشویش ناک نہیں بل کہ لمحۂ فکریہ بھی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کبھی تباہ کن سیلاب بستیاں بہا لے جاتے ہیں اور کبھی ایسی خشک سالی آتی ہے کہ زمین کی پیشانی پھٹ جاتی ہے۔ شمالی علاقوں کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، موسم اپنی ترتیب کھو رہے ہیں اور بارشوں کا نظام غیر یقینی بنتا جا رہا ہے۔ یہ سب اس بات کا اشارہ ہے کہ فطرت ہمیں مسلسل خبردار کر رہی ہے، مگر ہم اب بھی سنجیدگی اختیار کرنے سے گریزاں ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ پانی کی کمی سے زیادہ خطرناک ہمارا رویہ ہے۔ ہم روزانہ ہزاروں لیٹر پانی بے مقصد بہا دیتے ہیں۔ نل کھلے چھوڑ دینا، گاڑیاں ضرورت سے زیادہ پانی سے دھونا، زرعی زمینوں میں پرانے اور غیر مؤثر طریقوں سے آب پاشی کرنا اور بارش کے پانی کو محفوظ نہ بنانا ہماری اجتماعی لاپروائی کی واضح مثالیں ہیں۔ ہم شاید یہ بھول چکے ہیں کہ قدرت کی نعمتیں ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے تحفظ کو محض حکومتی منصوبہ نہ سمجھا جائے بل کہ اسے قومی ذمہ داری کا درجہ دیا جائے۔ نئے آبی ذخائر تعمیر کیے جائیں، نہری نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، پانی کے ضیاع کی روک تھام کی جائے اور عوام میں اس حوالے سے مؤثر شعور پیدا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر شہری کو بھی یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ پانی کے ہر قطرے کی قدر کرے گا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اختلافات سے بالاتر ہو کر اس مسئلے کو قومی بقا کا مسئلہ سمجھیں۔ کیونکہ جب زمین پیاسی ہو جائے تو ترقی کے تمام خواب بھی مرجھا جاتے ہیں۔ پانی صرف دریا میں بہنے والا مائع نہیں،بل کہ یہ ہماری فصلوں کی زندگی، ہماری معیشت کی بنیاد، ہماری تہذیب کی بقا اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔

آج بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں۔ اگر ہم نے پانی کے ہر قطرے کو امانت سمجھ کر محفوظ کیا، اس کے ضیاع کو روکا اور دانشمندانہ منصوبہ بندی اختیار کی تو پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر غفلت کا یہی سفر جاری رہا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں اس بات پر یاد کریں کہ ہم نے انہیں وراثت میں سبز کھیت نہیں،بل کہ پیاسی زمین اور خشک دریا دیے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں