63

پانی، علاقائی کشیدگی اور پاکستان کو درپیش چیلنجز حمید علی

پانی صرف ایک قدرتی نعمت نہیں، بل کہ انسانی بقا، زرعی ترقی، معاشی استحکام اور قومی سلامتی کی بنیاد بھی ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے پانی کو ایک نہایت حساس معاملہ بنا دیا ہے۔ جنوبی ایشیا بھی ان خطوں میں شامل ہے جہاں پانی کا مسئلہ محض ماحولیاتی نہیں، بل کہ سیاسی، سفارتی اور تزویراتی اہمیت بھی اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی سے متعلق اختلافات بھی اسی تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، جبکہ زراعت کا انحصار دریاؤں کے پانی پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق ہر پیش رفت پاکستان میں گہری تشویش کے ساتھ دیکھی جاتی ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی بار بار خلاف ورزی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی پابندی دونوں ممالک پر لازم ہے اور اس میں یک طرفہ اقدامات خطے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بھارت اپنے اقدامات کو معاہدے کی اپنی تشریح اور قومی مفادات کے مطابق قرار دیتا ہے۔ ان مختلف مؤقف کی وجہ سے یہ مسئلہ وقتاً فوقتاً دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بنتا رہا ہے۔

متعدد سفارتی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، سرحدی تناؤ اور پانی سے متعلق سخت بیانات نے باہمی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر پانی جیسے بنیادی وسیلے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بل کہ پورا جنوبی ایشیا اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر ذمہ داری، تحمل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان کو ایک اور اہم چیلنج دہشت گردی اور داخلی سلامتی کے مسائل کی صورت میں درپیش ہے۔ پاکستانی حکام متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ملک میں ہونے والی بعض دہشت گرد کارروائیوں کے پس منظر میں بھارت کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے بھی کئی مواقع پر پاکستان پر الزامات عائد کیے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں امن و امان خراب کرنے میں پاکستان کا ھاتھ ہے۔ان متضاد مؤقف کے باعث یہ معاملات بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہا ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہندوستان نے پاکستان کے وجود کو عملی طور پر تسلیم ہی نہیں کیا اور ہمیشہ سے پاکستان کو غیر متزلزل کرنے کے درپے رہا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سطح پر اتحاد، برداشت اور باہمی اعتماد کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ کوئی بھی دشمن یا شرپسند عنصر پاکستان کے استحکام کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

پانی کے مسئلے کا حل تصادم میں نہیں، بل کہ مکالمے، بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور مؤثر سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ بھارت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھائیں۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی غربت، بے روزگاری، ماحولیاتی تبدیلی اور ترقیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں پانی جیسے اہم مسئلے کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنایا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آبی وسائل کے بہتر انتظام، نئے آبی ذخائر کی تعمیر، پانی کے ضیاع کی روک تھام، جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور مؤثر سفارت کاری پر بھرپور توجہ دے۔ صرف بیرونی خطرات کی نشاندہی کافی نہیں، بل کہ داخلی اصلاحات اور مضبوط حکمتِ عملی بھی قومی مفاد کے لیے ناگزیر ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے میں پائیدار امن کے لیے بھی سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، مگر ان کا حل مذاکرات، قانونی ذرائع اور باہمی احترام ہی سے ممکن ہے۔ ایک مضبوط، پرامن اور خودمختار پاکستان ہی خطے میں استحکام اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں