8

واٹس ایپ کا استعمال اور عدالتی فیصلہ ۔​کالم نگار: محمد شہزادبھٹی

​صبح آنکھ کھلتے ہی ہم سب سے پہلے اپنا موبائل دیکھتے ہیں۔ واٹس ایپ گروپس میں آئے ہوئے سینکڑوں پیغامات کا انبار ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ کیا ہم کبھی سوچتے ہیں کہ فارورڈ بٹن پر کلک کرتے وقت ہماری انگلی ایک لمحے کے لیے بھی کیوں نہیں رکتی؟ اکثر ہمارے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ کوئی عزیز دوست یا رشتہ دار ہمیں کوئی میسج بھیجتا ہے۔ ہم بنا پڑھے یا اس کی حقیقت جانے اسے فوراً آگے فارورڈ کر دیتے ہیں بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم سے کتنی بڑی غلطی ہو گئی ہے، تب پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک چھوٹی سی کلک آپ کو کتنی بڑی قانونی مشکل میں ڈال سکتی ہے؟ ڈیجیٹل دور میں واٹس ایپ ہماری زندگی کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے مگر ہم اس سے جڑی قانونی ذمہ داریوں سے بے خبر ہیں۔ اگر ہم خاص طور پر اپنے ضلع بہاولنگر کی بات کریں تو یہاں سوشل میڈیا پر سیاسی گروپس کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ اور لفظی گولہ باری معمول بن چکی ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے غیر تصدیق شدہ مواد کا بے دریغ استعمال معاشرتی بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہمیشہ اسی معلومات کو شیئر کریں جس کی صداقت پر آپ کو سو فیصد یقین ہو۔ یاد رکھیں کہ کسی بھی خبر یا پیغام کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی مکمل تصدیق کرنا آپ کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ صرف وہی مواد شیئر کریں جو مستند ہو اور جس کے بارے میں آپ کو یقین ہو کہ وہ جھوٹ نہیں ہے کیونکہ آپ کی ایک غلط شیئر کردہ پوسٹ نہ صرف کسی کی عزتِ نفس مجروح کر سکتی ہے بلکہ آپ کو قانون کی گرفت میں بھی لا سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کا حالیہ فیصلہ اس تناظر میں ایک اہم قانونی سنگِ میل ہے۔ اس فیصلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی گروپ کا ایڈمن یا عام ممبر ہونا خودکار طور پر ہر پیغام کا ذمہ دار نہیں بناتا۔ عدالت نے پیکا قانون اور تعزیراتِ پاکستان کے تناظر میں یہ اصول طے کیا ہے۔ فوجداری ذمہ داری صرف تب عائد ہوتی ہے جب یہ ثابت ہو سکے کہ ملزم نے خود قابلِ اعتراض مواد بنایا یا پھیلایا۔ عدالت نے حقیقت پسندانہ موقف اپنایا ہے۔ ایڈمن کے پاس ہر پیغام کو پہلے سے سنسر کرنے کی تکنیکی صلاحیت نہیں ہوتی لہٰذا صرف ایڈمن کا لیبل لگنا سزا کا جواز نہیں بن سکتا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی پوسٹ پر ایموجی بھیج دینا یا خاموش رہنا جرم نہیں ہے۔ اس سے ملزم کی مجرمانہ نیت ثابت نہیں ہوتی۔ عدالت نے فرانزک رپورٹ پر بھی اہم بات کہی ہے۔ اگر جانچ میں تاخیر ہو جائے تو بھی اسے ناقابلِ اعتماد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اگر رپورٹ میں ڈیٹا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ثابت ہو جائے تو پھر معاملہ الگ ہے۔ کیا اس قانونی رعایت کا مطلب یہ ہے کہ ہم کچھ بھی شیئر کرنے کے لیے آزاد ہیں؟ ہرگز نہیں۔ عدالت نے ان افراد کے لیے قانون کی سختی برقرار رکھی ہے جو موبائل فون کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ضلع بہاولنگر سمیت پورے ملک میں سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے۔ عدالتی کیس میں ضمانت اس لیے مسترد ہوئی کیونکہ قابلِ اعتراض مواد ملزم کے Sent Folder سے ملا تھا۔ وہ محض ایک تماشائی نہیں بلکہ جرم میں ملوث تھا۔ یہ عدالتی موقف ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیا ہم ڈیجیٹل دنیا میں اپنی اخلاقی اور قانونی حدود سے واقف ہیں؟ کیا ہم اپنی ہر کلک کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہیں؟ ڈیجیٹل دنیا میں آپ کی ہر کلک آپ کے کردار کی عکاس ہے۔ کسی بھی پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے اس کی سچائی پرکھنا ضروری ہے۔ نامعلوم لنکس سے گریز کریں۔ اپنی ڈیجیٹل سرگرمیوں میں احتیاط برتیں۔ یہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ایک ذمہ دار شہری کا فرض ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو معاشرے میں انتشار پھیلانے کے بجائے مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی ڈیجیٹل دنیا کو قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھیں گے۔ خداوندِ کریم ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ ہمیں معاشرے میں امن اور برداشت پھیلانے والا بنائے۔ اللہ رب العزت ہمارے قلم اور ہماری زبانوں کو حق و صداقت کے لیے وقف فرمائے۔ ہمیں ہر قسم کے قانونی اور معاشرتی فتنوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں