6

سندھ اسمبلی کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ

سندھ اسمبلی میں بجٹ 27-2026 کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا۔مراد علی شاہ کانئے مالی سال کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہبجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ کا عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا عزم ہے ۔اُنہوں نے سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنےکا اعلان کیا، صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کیاگیا۔وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی میں ’سندھ انٹرنیشنل فانشنل سینٹر‘ قائم کرنے کا اعلان کیا، فنانشنل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا، کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کا عزم ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی، شہید بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول بھٹو کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کرے گا، پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے۔اُنہوں ںے اُمید ظاہر کی کہ کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا، کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی سپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا،ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کے ویژن کے مطابق سندھ کو قابلِ تجدید توانائی کا مرکز بنایا جا رہا ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، غریب گھرانوں کو 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے، متوسط طبقے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرا رہے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اسلامی اور کلائمیٹ فنانس کا مرکز ہوگا جب کہ عالمی سرمایہ کاری کے لیے سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو کے آغازکر رہے ہیں ، عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی۔وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کچرے کو معاشی وسائل میں تبدیل کیا جائے گا، ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کاربن کریڈٹس پیدا ہوں گے اور ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے دروازے کھولے جا رہے ہیں، ہم سندھ کو جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بنانے کی بنیاد رکھ رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت تجارت، ٹیکنالوجی، فنانس اور توانائی کا علاقائی مرکز بنایا جا رہا ہے، اُن کا کہنا تھا کہ کسان دوست ویژن کے تحت زرعی کلیکٹوز کے ذریعے چھوٹے ہاریوں کو نئی معاشی طاقت دی جا رہی ہے، سندھ حکومت کا اگلا مرحلہ فلاح سے خوشحالی اور خوشحالی سے معاشی قیادت کی جانب سفر ہے، سید مراد علی شاہ سندھ حکومت کا چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے،چھوٹے آبادگاروں کے لیے زرعی اجتماعی اداروں کے قیام کی قانون سازی ہوگی، ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ موسمیاتی چیلنجز کے باوجود کسان ملک کی غذائی ضروریات پوری کر رہے ہیں، ہمارے محنت کش معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات کے باوجود سرمایہ کار اور کاروباری طبقہ ترقی کے سفر میں شریک ہے،گزشتہ سال میں ریکارڈ 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی سرگرمیوں پر خرچ کیے، شاہراہِ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفراسٹرکچر منصوبہ ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ کراچی کی ترقی کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام ناگزیر ہے، 60.7 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی شاہراہِ بھٹو عوام کے لیے بڑی سہولت ہے، و39 کلومیٹر طویل جدید کوریڈور قیوم آباد سے ایم نائن موٹروے سے منسلک کرتا ہے، شاہراہِ بھٹو کراچی کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے،وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کا پہلا بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا گیا، شاہراہِ بھٹو کو جدید مالیاتی حکمتِ عملی اور مؤثر منصوبہ بندی کی کامیاب مثال قرار دیا ہے، شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ گیا۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شاہراہِ بھٹو منصوبے سے شہریوں کے وقت اور ایندھن کی بچت میں نمایاں بہتری آئی ہے، شاہراہِ بھٹو روزانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیوں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے، شاہراہِ بھٹو کراچی میں تیز، محفوظ اور مؤثر آمد و رفت کے نئے دور کا آغاز ہے،اُنہوں نے کہا کہ سال 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے ’سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام‘ کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کئے گئے، عالمی تعاون سے 1.675 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے فنڈز حاصل کر لیے گئے، سیلاب متاثرین مکانات کے منصوبے میں لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وزیر صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی کی خدمات میں توسیع کی جارہی ہے،1123 ٹیلی طبیب سروس اور 1122 ایمبولینس نیٹ ورک مزید مضبوط بنایا گیا،اساتذہ اور طبی عملہ خلوص اور لگن سے قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔مراد علی شاہ نے تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کے تحت 1300 سے زائد اسکولوں کی عمارات تعمیر اور اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں، نوجوانوں کی امیدیں اور امنگیں ہمیں بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے متحرک رکھتی ہیں، تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ سندھ کا بجٹ 4 اصولوں آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح پر مبنی ہے، وفاق کے ساتھ تعاون کے تحت ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کرکے 400 ارب روپے کرنا پڑا،وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی سکیمیں جاری رہیں گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے، انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کا اعلان ہے ، زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی، زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ کنئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حجم 400 ارب روپے مقرر ہے، لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، آبپاشی منصوبوں کیلئے 30.9 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے، تعلیم کے شعبے کے لئے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے، صحت کے شعبے کے لیے 17.4 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے،زراعت اور لائیوسٹاک کے ترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر کراچی کی ترقی کے لیے میگا ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، گریٹر کراچی سیوریج پلان (ایس تھری) پر 32 ارب روپے سے زائد لاگت سے کام جاری ہے، لیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کراچی ٹریفک کوریڈور امپروومنٹ پروگرام کے لیے 4.17 ارب روپے کی فنڈنگ کی ہے، کراچی کے اندرونی سڑکوں کی بحالی کے منصوبے پر 5.53 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ کراچی سینٹرل کی پانچ ٹاؤن میونسپل کمیٹیوں میں سڑکوں کی بہتری کے لیے 3.18 ارب روپے مختص کیے ہیں،کے ایم سی فائر بریگیڈ سروسز کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کے لیے 7.69 ارب روپے مختص کیے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں