154

تاریخ کا تسُلسُل، یُوسفی حکمت، پشتون بلوچ بیلٹ، علم و ہنر کا ذخیرہ اور میرا پیش گوئی:احمد خان اچکزئی

محترم قارئین! ضلع قلعہ عبداللہ اور گلستان سمیت مکمل پشتون بلوچ کی غیور مٹی آج تاریخ کے ایک ایسے نازک اور اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں ماضی کے تلخ تجربات اور مستقبل کے تزویراتی خدشات باہم دست و گریبان نظر آتے ہیں۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے، تو سنہ 1993 میں تحریکِ طالبان کے ابھار سے لے کر موجودہ دور تک، پشتون بلوچ بیلٹ کو مسلسل ایک خاص جغرافیائی اور تزویراتی بیانیے کے تحت آزمائش میں رکھا گیا ہے۔ یہ پورا سفر دراصل ایک ہی کڑی کا تسلسل ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران اس خطے میں جس طرح مخصوص عسکری کمانڈرز کو پیدا کیا گیاہے، جنہوں نے طاقت کے بل بوتے پر عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور مادی و عسکری فوائد سے خود کو مستحکم کیا، وہ اب مکافاتِ عمل کے ایک نئے اور بھیانک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔موجودہ بدلتے حالات پر اگر ہم گہری نظر ڈالیں، تو میری یہ سیاسی پیش گوئی تاریخ کے صفحات پر واضح ہوتی نظر آ رہی ہے کہ وہ پرانے مہرے جو کبھی ناقابلِ شکست معلوم ہوتے تھے، اب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نئی پیدا کردہ تنظیموں اور گروہوں کے ہاتھوں ختم کیے جا رہے ہیں۔ پرانے اور نئے کمانڈروں کی یہ باہمی جنگ اور خونریزی دراصل خطے کا سیکیورٹی ڈھانچہ تبدیل کرنے کی ایک گہری عالمی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا حتمی ہدف ممکنہ طور پر کسی بیرونی مفاہمت کی صورت میں سامنے آئے گا، جہاں بعد میں ریاست خود مداخلت کر کے پورے علاقے کو اسلحہ سے پاک کرے گی اور ایک نیا انتظامی نظام قائم کرے گی۔یہ دورِ حاضر کی وہ تزویراتی پیش گوئی ہے جسے اگر ہم قرآنِ کریم کی سورہ یوسفؑ میں بیان کردہ بادشاہِ مصر کے تاریخی خواب اور حضرت یوسف علیہ السلام کی فراہم کردہ الہامی تعبیر کے تناظر میں دیکھیں، تو حیرت انگیز مماثلتیں اور فکری ربط سامنے آتا ہے۔ فقہِ حنفی اور علمائے دیوبند کے نزدیک انبیاء علیہم السلام کے قصص قیامت تک آنے والے بحرانوں کا حل فراہم کرتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر میں سات موٹی گایوں اور ہری بالیوں کو سات سال کی غیر معمولی مادی فراوانی سے تعبیر کیا تھا، جس کے فوراً بعد سات دُبلی گایوں اور خشک بالیوں کی صورت میں ایک ہولناک اور طویل قحط کا دور شروع ہونا تھا۔
اگر اس قرآنی و یوسفی حکمت کو قلعہ عبداللہ اور گلستان کے موجودہ حالات اور میری پیش گوئی پر منطبق کیا جائے، تو تحریکِ طالبان کے آغاز سے لے کر گزشتہ پندرہ سال کا وہ عرصہ جب یہ مخصوص کمانڈرز ظلم و ستم کے ذریعے طاقتور اور “موٹے” ہو رہے تھے، دراصل تزویراتی اور مادی وسائل کا وہ دور تھا جس نے معاشرے کو اخلاقی اور سماجی طور پر کھوکھلا کر دیا۔ اب جو نیا مرحلہ شروع ہو رہا ہے جہاں میری پیش گوئی کے مطابق پرانے اور نئے گروہوں کو آپس میں لڑوا کر ختم کیا جا رہا ہے اور نئے آلہ کار سامنے لائے جا رہے ہیں یہ دراصل امن، باہمی اعتماد، بقاء اور سماجی استحکام کا وہ”شدید قحط” ہے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جہاں معاشرہ اپنے تحفظ اور مستقبل کے حوالے سے شدید بے یقینی کا شکار ہو چکا ہے۔اس ہولناک اور ممکنہ تزویراتی قحط کا سدِباب بھی اسی الہامی یوسفی ماڈل میں پوشیدہ ہے جس کے تحت قحط سالی کے مہیب سالوں سے نمٹنے کے لیے فراوانی کے دور میں غلے کو انتہائی تدبر کے ساتھ ذخیرہ کرنے کی تدبیر اختیار کی گئی تھی۔ اس جدید دور میں جب بارود کی بو اور نئے و پرانے گروہوں کی یہ مسلط کردہ جنگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل اور ایمان کو نگلنے کے لیے تیار کھڑی ہے، شعور اور بقاء کے اس قحط کا واحد شرعی اور متبادل حل”علم اور ہنر کا ذخیرہ”ہے۔جس طرح سیدنا یوسف علیہ السلام نے غلے کا گودام تیار کر کے سلطنت کو مادی قحط سے بچایا تھا، بالکل اسی طرح آج مجھ سمیت کئی اور دوراندیش مسلم رہنمائیں اور دانشور کا فریضہ یہی ہے کہ وہ بندوق کے متبادل کے طور پر غلے کی جگہ علم، تعلیم اور تکنیکی مہارتوں کا ایسا “علمی ذخیرہ” تیار کرے جو آنے والی نسلوں کو کسی بھی نئے یا پرانے مسلط کردہ کمانڈر کا آلہ کار بننے سے محفوظ رکھ سکے۔ خطے کے نوجوانوں کو دینی و دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ فوری حلال روزگار فراہم کرنے والے ہنر سکھانا، جیسے سولر ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائنس، اور دیگر جدید علوم سے آراستہ کرنا دراصل وہ حفاظتی حصار ہے جو نئی نسل کے ہاتھ میں اسلحے کے بجائے کتاب اور ہنر لا کھڑا کرتا ہے۔ اسلام ہمیں سُستی کے بجائے ہمت، محنت اور مشقت کا درس دیتا ہے۔
علمائے دیوبند کا یہ ہمیشہ سے شاندار طرۂ امتیاز رہا ہے کہ انہوں نے ہر دور کے فتنوں اور جغرافیائی تبدیلیوں کے خلاف مدارس، جامعات اور علمی ذخائر کے ذریعے امت کی نظریاتی اور مادی حفاظت کی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مہروں کی تبدیلی کی یہ جنگ شروع ہوتی ہے، تو معاشرتی خلا کو پر کرنے کے لیے سب سے پہلے نوجوان نسل کو ایندھن بنایا جاتا ہے۔ میں نے اپنے آپ کے تحت گلستان قلعہ عبداللہ کے ساتھ ساتھ مُلک بھر کے تناظر میں جو علم و ہنر کا یہ وسیع تر ذخیرہ جمع شروع کیا ہے یہ دراصل اس مسلط کردہ نظام کے خلاف ایک پرامن، مضبوط اور شرعی و عقلی مزاحمت کا روشن مینار ہے۔جب خطے کے ہزاروں لڑکے اور لڑکیاں علمِ نافع کی طاقت سے لیس ہوں گے، تو کوئی بھی بیرونی یا داخلی ایجنڈہ انہیں گمراہ نہیں کر سکے گا۔ حالات کی سنگینی اپنی جگہ مسلم ہے اور میری پیش گوئی کے مطابق پرانے اور نئے مہروں کی یہ جنگ خطے کو ایک نئے امتحان میں ڈالنے جا رہی ہے، لیکن یوسفی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہو کر شعور اور ہنر کا جو غلہ آج ذخیرہ کیا جا رہاہوں، وہی کل اس تزویراتی قحط کے دور میں اس پشتون بلوچ بیلٹ کی بقاء، اسلامی تشخص کی حفاظت، ترقی اور حقیقی آزادی کا ضامن بنے گا۔ان شاءاللہ و تعالیٰ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں