آزاد ریاست جموں و کشمیر کی سیاست ہمیشہ سے اپنے منفرد مزاج، مقامی روایات اور عوامی توقعات کی آئینہ دار رہی ہے۔ ہر انتخاب سے قبل سیاسی فضا میں تبدیلیاں آتی ہیں، نئے اتحاد بنتے ہیں، پرانے سیاسی کارکن اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرتے ہیں اور عوامی رائے بھی مختلف عوامل کی بنیاد پر تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ موجودہ حالات میں بھی سیاسی منظرنامہ کئی حوالوں سے تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔گزشتہ چند برسوں میں آزاد کشمیر کی سیاست میں مختلف اہم پیش رفتیں دیکھنے میں آئیں۔ حکومتوں کی تبدیلی، سیاسی جماعتوں کے اندر اختلافات، نئے سیاسی اتحاد، احتجاجی تحریکیں اور بدلتے ہوئے قومی سیاسی حالات نے مجموعی سیاسی ماحول پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہی عوامل نے عوامی سوچ اور سیاسی مباحث کو بھی نئی سمت دی ہے۔کارکردگی ہمیشہ کسی بھی جمہوری نظام میں ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔ عوام عموماً ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی اصلاحات، بنیادی سہولیات اور عوامی رابطے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح دوسری جانب نئے چہروں یا نئے سیاسی تجربات بھی بعض اوقات عوام کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں، خاص طور پر جب وہ خود کو متبادل قیادت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں۔آزاد ریاست جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے قریب آتے ہی تمام حلقوں میں سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ چکا ہے، تاہم حلقہ ایل اے-33 (لیپہ ویلی) کا سیاسی منظر نامہ اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ اور غیر متوقع صورتحال کا حامل ہو چکا ہے۔ صفر سے شروع ہونے والا ایک سفر آج ایک ایسے کانٹے دار مقابلے میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں جیت اور ہار کا فیصلہ کسی بھی طرف ہو سکتا ہے۔ اس حلقے کی موجودہ زمینی صورتحال، امیدواروں کی حکمتِ عملی اور بدلتے ہوئے سیاسی رخ کا تفصیلی جائزہ درج ذیل عوامل کی روشنی میں لیا جا سکتا ہے۔اس مرتبہ بھی ٹکٹوں کے اجرا سے قبل اور بعد کی سیاسی فضا میں واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ سیاسی جماعتوں کے فیصلوں، بعض جماعتوں کی حکمت عملی میں تبدیلی، نئے سیاسی پلیٹ فارمز کے سامنے آنے اور مختلف رہنماؤں کی سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی نے مجموعی ماحول کو نئی شکل دی۔ ایسے حالات میں کارکنوں اور ووٹرز کی ترجیحات بھی تبدیل ہونا ایک فطری سیاسی عمل سمجھا جاتا ہے۔انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم سے قبل حلقے کی صورتحال بالکل واضح اور یکطرفہ محسوس ہو رہی تھی۔ ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے دیوان علی خان چغتائی تھے، جو گزشتہ چند سالوں سے اسی حلقے سے منتخب ہو کر آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ انہوں نے شعبہ تعلیم میں گراں قدر اصلاحات متعارف کروائیں اور علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے بلا تفریق کام کیے۔ ان کے یہ ترقیاتی کام عوامِ علاقہ کے سامنے کھلی کتاب کی طرح موجود ہیں، جس کی بنا پر ابتدائی طور پر ان کا پلڑا انتہائی بھاری دکھائی دے رہا تھا۔ان کے برعکس، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محمد رشید حلقے کے لیے بالکل نئے تھے۔ وہ بنیادی طور پر ایک دوسرے حلقے سے یہاں مستعار لیے گئے ہیں اور پہلی مرتبہ لیپہ ویلی کی دھرتی سے انتخابی سیاست کے میدان میں اتر رہے تھے۔ کارکردگی اور عوامی رابطوں کے اس ابتدائی تقابل میں دیوان علی خان کو واضح برتری حاصل تھی جبکہ چوہدری رشید محض اپنے تعارف کے مرحلے میں تھے۔جیسے ہی امیدواروں کو ٹکٹ جاری ہوئے، آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک بڑا موڑ آیا۔ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ کے فیصلے نے سیاسی منظر نامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ پی ٹی آئی کے متحرک سیاسی امیدوار اور نظریاتی کارکنان اچانک خود کو سیاسی طور پر تنہا پا کر مایوسی کا شکار ہو گئے اور متبادل سیاسی پناہ گاہوں کی تلاش شروع کر دی۔ اسی اثنا میں پاکستان استحکام پارٹی (PIP) کا وجود سامنے آیا اور سردار تنویر الیاس کی پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ کر استحکام پارٹی میں شمولیت نے سیاسی بساط پر مہرے بالکل الٹ دیے۔ اس تبدیلی نے لیپہ ویلی میں بھی ووٹرز کی وفاداریوں کو تبدیل کرنے میں گہرا اثر ڈالا۔اسی دوران احتجاجی سرگرمیوں اور عوامی بے چینی نے بھی سیاسی گفتگو کا رخ تبدیل کیا۔ جب معاشرتی اور معاشی مسائل شدت اختیار کرتے ہیں تو عوام کی توجہ سیاسی نعروں سے زیادہ اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر لوگوں کی توقعات بھی سیاسی قیادت سے بڑھ جاتی ہیں کہ وہ کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی راہ نکالنے اور عوامی مشکلات کے حل میں کردار ادا کرے۔کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے طویل احتجاج نے جہاں پورے آزاد کشمیر کو متاثر کیا، وہاں لیپہ ویلی کے سیاسی منظر نامے پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ احتجاج کے باعث پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے عوام بنیادی سہولیات اور اشیائے خوردونوش سے محروم ہوئے، جس کے نتیجے میں روایتی سیاستدانوں کے خلاف عوامی غصہ اور نفرت ایک فطری عمل کے طور پر ابھری۔اس نازک صورتحال میں جلتی پر تیل کا کام پاکستان کی مرکزی قیادت، بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کے ان بیانات نے کیا جو کشمیریوں کے جذبات کے منافی تھے۔ ان بیانات نے ن لیگ آزاد کشمیر کی مقامی قیادت (اور بالخصوص چوہدری محمد رشید) کے لیے عوامی سطح پر ایک انتہائی مشکل محاذ کھڑا کر دیا۔ کشمیریوں کے دلوں میں جو گلے شکوے پیدا ہوئے، وہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک واضح سیاسی دوری میں تبدیل ہو گئے۔ مزید برآں، خود ن لیگ آزاد کشمیر کے اپنے سینئر رہنماؤں کے داخلی بیانات اور اختلافات نے پارٹی کے بیانیے کو شدید نقصان پہنچایا، جس کی تفصیلات سے عوام بخوبی واقف ہیں۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مختلف علاقوں میں برادری، مقامی تعلقات، ذاتی روابط، امیدوار کی عوامی رسائی اور مقامی مسائل کے حل میں کردار جیسے عوامل بھی ووٹرز کی رائے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم یہ عوامل ہر حلقے میں یکساں نہیں ہوتے اور ان کی شدت علاقے کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔اس تمام تر بحران، پارٹی کے خلاف بننے والے عوامی ماحول اور بدلتی ہوئی لہر کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری محمد رشید نے ہمت نہ ہاری۔ ایک ایسے حلقے میں جہاں ان کا کوئی مضبوط سیاسی پس منظر نہیں تھا اور مرکز کے بیانات کا بوجھ بھی تھا، انہوں نے صفر سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔چوہدری رشید نے انتہائی متحرک کارکنان کی ایک ٹیم تشکیل دی او رڈور ٹو ڈور(گھر گھر) مہم کا جارحانہ آغاز کیا۔ان کی ٹیم نے یونین کونسل کی سطح پر پہنچ کر نہ صرف اپنی پارٹی کے ناراض کارکنوں کو منایا بلکہ پی ٹی آئی کے مایوس دھڑے کو بھی اپنے ساتھ جوڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے حلقے میں گجر برادری کے اثر و رسوخ کو بھانپتے ہوئے ”برادری کارڈ“انتہائی مہارت سے کھیلا، جو کہ ان کے حق میں انتہائی کارگر ثابت ہوا اور لوگ ایک نئی امید کے ساتھ ان کے کاروان کا حصہ بنتے گئے۔دوسری طرف، اس طوفانی مہم کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے دیوان علی خان چغتائی کی انتخابی ٹیم بظاہر اپنی پچھلی کارکردگی کے بل بوتے پر حد سے زیادہ پراعتماد (Overconfident) دکھائی دی۔ ان کی پوری مہم یونین کونسل کی سطح پر متحرک ہونے اور زمینی رابطے استوار کرنے کے بجائے محض سوشل میڈیا پر اپنی چمک دمک دکھانے تک محدود رہی ڈور ٹو ڈور(گھر گھر) مہم سست روی کا شکار رہی، جس کے نتیجے میں زمین پر ایک بڑا سیاسی خلا (Space) پیدا ہوا۔ چوہدری رشید کی ٹیم نے اس سنہری موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا اور روایتی جملے کے مصداق ”فل ٹاس بال پر چھکا “ مارکر مقابلے کو برابر کر دیا۔ یہ صورتحال بالکل ”خرگوش اور کچھوے“ کی اس کہانی جیسی بن گئی جہاں غفلت نے یکطرفہ میچ کو ایک اعصاب شکن معرکے میں تبدیل کر دیا۔مجموعی طور پر موجودہ سیاسی ماحول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست پہلے کے مقابلے میں زیادہ متحرک اور مسابقتی ہو چکی ہے۔ مختلف جماعتیں اور امیدوار اپنی اپنی حکمت عملی کے ذریعے عوام تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ عوام بھی پہلے کی نسبت زیادہ باشعور انداز میں سیاسی عمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔کسی بھی انتخابی عمل کا اصل فیصلہ عوام کرتے ہیں اور حتمی رائے بیلٹ بکس ہی دیتے ہیں۔ انتخابی مہم، سیاسی جلسے، سوشل میڈیا، تنظیمی سرگرمیاں اور مختلف سیاسی دعوے اپنی جگہ، مگر جمہوریت میں آخری فیصلہ ووٹر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہی جمہوری عمل کی اصل خوبصورتی ہے کہ عوام اپنی رائے کا اظہار آزادانہ طور پر کرتے ہیں اور نتیجہ ووٹنگ کے دن سامنے آتا ہے۔آج کی تاریخ میں یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ فتح کا ہما کس کے سر بیٹھے گا اور شکست کس کا مقدر بنے گی۔ تاہم، موجودہ سیاسی منظر نامے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جو امیدوار آخری لمحے تک اپنی انتخابی مہم کو متحرک رکھے گا، ناراض کارکنوں کو گلے لگائے گا اور خاص کر پی ٹی آئی کے مایوس ووٹرز کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے میں کامیاب ہوگا، وہی اپنی پوزیشن کو فتح کی حد تک محفوظ کر پائے گا۔امیدواروں کے لیے فی الحال خاطر جمع رکھنے کا وقت نہیں ہے، بلکہ ان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ عوام اس وقت بظاہر برادری ازم کے رنگ میں رنگے نظر آ رہے ہیں اور ہر بیٹھک پر بحث جاری ہے، لیکن کشمیری ووٹر کا روایتی مزاج گواہ ہے کہ وہ اپنے پتے آخری وقت تک نہیں کھولتا۔ بیلٹ باکس میں ووٹ کس کے حق میں جائے گا؟ اس کا حقیقی اور حتمی فیصلہ الیکشن والے دن پولنگ اسٹیشنز پر ہی معلوم ہوگا۔
155












