14

بلوچستان انسرجنسی: تاریخ، پلیئرز،اسباب اور تریاق: میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی

بُدھ (8 جولائی) کو راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ “گذشتہ تین روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر 54 دہشت گرد ہلاک کیے، جبکہ اس دوران پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 42  سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔” یوں گذشتہ تین روز میں  عسکریت پسندوں کے حملے میں 27 پولیس اہلکاروں سمیت 38 سکیورٹی اہلکار اور 4 شہری جان سے گئے ہیں۔ بدھ (8 جولائی) کوزیارت میں فوج کے ایک قافلے پر دہشت گرد حملے میں 11 اہلکاروں کی جان گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملے منظم طریقے سے بیرونی پشت پناہی سے کیے جا رہے ہیں۔ جی آئی ایس پی آر سربراہ نے کہا کہ بلوچستان میں “انڈیا سے مل کر وہ قوتیں دہشت گردی کروا رہی ہیں جنہیں پاکستان کی عزت اور خوشحالی قبول نہیں۔” انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ “دہشت گردوں کو افغانستان میں اڈے میسر ہیں اور ان کے بقول جوابی کارروائیوں میں مارے جانے والے بھی بیشتر افغانی شہری ہیں۔”
یہ ایک حقیقت ہے کہ “فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان بلوچستان” کا بلوچی شناخت سے ہرگز تعلق نہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک لمبی تاریخ ہے۔اور بلوچستان میں انسرجنسی سے نپٹنے کے لیئے اس سے جُڑے ہر پہلو کے تحقیقاتی تجزیے کی ضرورت ہے۔ اس انسرجنسی سے نمٹنے کے لیئے سب سے پہلے بلوچستان میں انسرجنسی کی وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے نمبر پر اس میں پراکسی نیٹ ورک کا تحقیقاتی جائزہ جس میں اس نیٹ ورک میں شامل ہر کردار کی دلچسپی تک کا تجزیہ کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے بعد تیسرے اور آخری نمبر پر اس پراکسی وار کو کامیاب بنانے والے عوامل کاتجزیہ ضروری ہے۔ سب سے آخر میں مکمل کلیریٹی کے ساتھ سول وملٹری ایکشنز پر مُشتمل ایک ایسی اسٹریٹیجی بنانے کی ضرورت ہے جس میں سول و ملٹری ایکشنز کے ساتھ ساتھ عوام،میڈیا کے تمام فورمز اور تعلیمی اداروں کا استعمال بھی از حد ضروری ہے۔ محض ملٹری ایکشنز، جس میں ہمیشہ ضمنی نقصان کاخطرہ ہوتا ہے سے سو فیصد کامیابی کاحصول ناممکن ہے۔
جہاں تک بلوچستان میں انسرجنسی کی تاریخ کا تعلق ہے تو رائے بہادر لالہ ہتو رام نے اپنی کتاب ’’تاریخ بلوچاں ‘‘ میں 1907ء میں لکھا۔ بلوچ قومیتوں میں مری اور بگٹی طاقتور قبائل ہیں جوسلیمان کوہ پر رہتے ہیں جو سرحد علاقہ سرکار سے ملحق ہے ۔ مری قبیلے کے اپنے معقولے “ہم اپنے سب ہمسایوں کے دشمن ہیں اور ہم کسی کی بھلائی نہیں کرتے اور کوئی ہمارا خیر خواہ نہیں ہے۔ پس ہم اپنے چاروں طرف جھگڑا فساد برپا ہونے میں مدد دیتے ہیں اور کوئی ہمسایہ ہمارا دوسرے کی ایزا رسانی کے واسطے ہمارے علاقے سے گزرنا چاہے ہم اس کو گزرنے دیتے ہیں ۔ ہم کو پرواہ نہیں اگر کسی فریق کو نقصان پہنچے یا تباہ ہو کیونکہ ہماری ہر حالت میں جیت ہے۔” سے ے چال چلن کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ جہاں تک بگٹی قبیلے کی بات ہے،”بگٹی قبیلہ نے سندھ پر ایک دھاوا بولا جس میں وہ پندرہ ہزار مال مویشی وہاں سے پکڑ لائے تھے ۔ اسی طرح انہوں نے 1867ء میں ایک ہزار مری اور بگٹی لوگوں نے ہرنڈ ضلع ڈیرہ غازی خان پنجاب کے علاقے پر دھاوابول کر کئی بستیوں کو جلا دیا۔” (بحوالہ مضمون: سکندرخان بلوچ ۔ 5 مئی 2010ء نوائے وقت)
بلوچستان کی لوکیشن ایسی ہے جس میں پاکستانی اندرونی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوتیں بھی ایک بڑے کھیل جسے “گریٹ گیم” کا نام دیا جاتاہے، اس میں مشغول ہیں۔ تقسیمِ ہندوستان سے پہلے گوادر کے مقام پر ایک بڑی رسدگاہ ہوا کرتی تھی جس پر ہندوؤں کا قبضہ تھا۔ پاکستان میں شامل ہونے کے بعد کُچھ ہندو تو یہاں سے بھارت ہجرت کرگئے لیکن بلوچستان میں ابھی بھی ہندو آبادی کا تناسب پاکستان کے تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔ یہ مُحبِ وطن پاکستانی شہری ہیں لیکن ان میں کُچھ ایسے عناصر ضرور ہوسکتے ہیں جو بھارتی نیٹ ورک کے ساتھ ملکر پاکستان دُشمن سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کئی بلوچ سیاستدانوں نے پاکستان میں شامل ہونے کے باوجود مرکزی حکومت کو عوامی حقوق کے نام پر بلیک میل کرنے کا مُدت سے دھندا شروع کررکھا ہے۔ اسی طرح بڑے رقبے اور افغانی مدد کی وجہ سے بھی پاکستان دُشمن نیٹ ورک کو یہاں چُھپنے اور دہشت گرد کاروائیاں کرنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آتی۔ اس پرمزید، غریب اور مظلوم بلوچی عوام کو احساسِ محرومی کے نام پر ورغلانا بھی کوئی مُشکل کام نہیں ہے۔
جہاں تک بلوچستان میں کام کرنے والے “پراکسی نیٹ ورک” میں شامل کرداروں کا تعلق ہے اس کے لیئے بلوچستان کی اپنی ڈیموگرافی، کیمسٹری اور بین الاقوامی گیم کو ملا کر سمجھنا ہوگا۔ یہ بلوچی کریکٹر ہے کہ جن بلوچ قبائلی سرداروں کی حکومت ہوتی ہے وہ مرکزی حکومت کا ساتھ دیتے ہیں اور باقی سب پاکستان مخالف سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں اس کا حالیہ چندسالوں میں پاکستانی اربابِ اختیار کو خُوب تجربہ ہوچُکا ہے۔ بین الاقوامی گریٹ گیم کے لحاظ سے “بھارت۔ افغان۔ اسرائیلی نیکسز ” ایک مُدت سےپاکستان کے خلاف دہشت گردی میں مصروف ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں جاری کشمکش میں پاک۔ چین منصوبوں (سی پیک اورگوادر پورٹ) کیوجہ سے چندمغربی اور اسلامی ممالک کے کردار کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ ایران ۔ اسرائیل اور امریکہ جنگ سے پہلے بھارت نے ایران کی “چاہ بہار پورٹ” میں بڑی انویسٹمنٹ کی اور عرب ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو خُوب مضبوط کیا۔ ان عرب ممالک کی تجارت کے لیئے گوادر پورٹ ایک بہت بڑا تھریٹ ہے۔
پاکستان کی بھارت، اسرائیل اور افغانستان سے نپٹنے کی پالیسی تو بڑی واضح ہے لیکن پاکستان کو ابھی بلوچستان کے اندرونی حالات اور اس پراکسی نیٹ ورک کے دیگرکرداروں کےبارے میں بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پراکسی نیٹ ورک کے تینوں واضح کرداروں کے خلاف اسلامی ممالک کوساتھ ملانا از حدضروری ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی قوتوں بالخصوص امریکہ کا ایسی پراکسی نیٹ ورک کے خلاف دوٹوک مؤقف بھی بڑا لازم اوراہم ہے۔ پاکستانی اربابِ اختیار کو دیگرصوبوں کے مسائل سے پہلے بلوچستان کے مسئلے کو پہلی ترجیح دینی ہوگی۔ پاکستان کو اپنی گرینڈاسٹریٹیجی میں چین اور روس کو بھی شامل کرکے انہیں بھی مضبوط رول ادا کرنے کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ اسی طرح میڈیا ہاؤسز، اینکر پرسنز اور ایکیڈیمیا کو بھی اپنی گرینڈ اسٹریٹیجی میں شام کرکے انہیں استعمال کرنا ہوگا۔ اس سارے کام کے لیئے آئیڈیل ہے کہ ایک “گرینڈ تھنک ٹینک” بنایا جائے۔ اس تھنک ٹینک کو یہ ٹاسک دیا جائے کہ وہ داخلہ و خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ “ہارڈ اورسافٹ پاور” کے استعمال کے لیئے اہداف کی نشاندہی کرے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس اگرچہ ایک حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن بلوچستان کا جتنا بڑا مسئلہ ہے اسکو ہمیشہ کے لیئے حل کرنے کے لیئے ریگولر میڈیا اپڈیٹس اور مختلف فورمز پر خطابات کے ساتھ ایک گرینڈ اسٹریٹیجی کی بھی ضرورت ہے۔ آئے روز پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں اُٹھانے اور آئے روز جنازے پڑھنے سے قوم کو افواجِ پاکستان کی اہلیت پر بدظن کرنے والوں کو ایک موضوع جو مل جاتا ہے اس کا تریاق جلداز جلدکرنا ضروری ہے۔ اس وقت پاکستان کے لیئے جو سازگار بین الاقوامی صورتحال ہے اس سے بھرپور فائدہ اُسی صورت میں اٹھایا جاسکتا ہے جب پاکستان کے پاس ایک گرینڈ پلان ہو اور یہ گرینڈ اسٹریٹیجی تھنک ٹینک ہی دے سکتا ہے۔ پاکستانی اربابِ اختیار کو سمجھنا ہوگا کہ اس مسئلے میں پوری قوم کو انوالو کیئے بغیر اس سے نمٹنا ناممکن ہے اور وقت بڑی تیزی سے سرکتا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں