تسی اچے تہاڈی ذات وی اچی
تسی اچ شریف وچ رہندے او
اسی قصوری ساڈی ذات قصوری
اسی وچ قصور دے رہندے آں
(بابا بلھے شاہ)
بابا بلھے شاہ کا اصل نام سید عبداللہ شاہ تھا۔ آپ کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تاریخی شہر قصور سے تھا۔ بابا بلھے شاہ کا صوفیانہ کلام صدیوں پر محیط ہونے کے باوجود آج بھی اتنا ہی پُراثر ہے جتنا اپنے عہد میں تھا۔ بابا بلھے شاہ کا کلام کسی ایک خطے یا مخصوص طبقے تک محدود نہیں ہے بل کہ آج کی مادہ پرست زندگی میں جہاں انسان تنہائی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہے وہاں ان کا کلام ایک مسیحا کا کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان ہونے کے ناطے ہم سب کو ایک ہی خالق نے پیدا کیا ہے اور باہمی محبت ہی دنیا میں امن قائم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ بلھے شاہ کے نزدیک خود کو پہچانے بغیر خدا کی پہچان ناممکن ہے۔ بلھے شاہ کے نزدیک عشق کی راہ میں ذات پات، مذہب اور نسل کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ جب انسان حقیقی عشق میں فنا ہو جاتا ہے تو دنیاوی خوف اور بندھن بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ صوفیانہ شاعری میں مرشد کا درجہ انتہائی بلند ہے۔ بابا بلھے شاہ اپنے کلام میں مرشد کی عظمت اور ان کی رہنمائی کی اہمیت کو بار بار اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مرشد کے بغیر منزل کا حصول ناممکن ہے۔ بلھے شاہ کے مرشد حضرت شاہ عنایت قادری تھے جن کی محبت اور عقیدت میں بلھے شاہ نے اپنی انا کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔
رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا، ہیر نہ آکھو کوئی
(بابا بلھے شاہ)
یہ کلام مرشد اور مرید کے درمیان اس حد درجے کی محبت کو ظاہر کرتا ہے جہاں مرید کی اپنی ہستی ختم ہو کر مرشد کی ذات میں ضم ہو جاتی ہے۔ بابا بلھے شاہ کا صوفیانہ کلام عشقِ الہیٰ، خود شناسی اور انسانی محبت کا ایک ایسا خوب صورت مرقع ہے جو رہتی دنیا تک انسان کی رہ نمائی کرتا رہے گا۔ آپ نے فلسفہ وحدت الوجود کو اس قدر سادگی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ہر ایک کے دلوں میں گھر کر گیا۔ آپ کی شاعری ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی انا کو مٹا کر اپنے خالق سے لوث محبت میں ہے۔ بلھے شاہ کے کلام میں انسان کے اندر کی دنیا کو بیدار کرنے کی بے پناہ طاقت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر رب کو پانا ہے تو دل کو صاف کرنا ہو گا۔
نہ خدا مسیتے لبھدا، نہ خدا وچ کعبے
نہ خدا قرآن کتاباں، نہ خدا نمازے
(بابا بھلے شاہ)
تصوف میں روحانی سفر کے چار مرحلے ہوتے ہیں: شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت۔ یہ سفر شریعت یعنی دین کے اصولوں پر عمل کرنے سے شروع ہوتا ہے پھر انسان طریقت کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے دل اور کردار کو بہتر بناتا ہے۔ اس کے بعد حقیقت کا مرحلہ آتا ہے جہاں انسان زندگی اور حقیقت کی سچائی کو سمجھنے لگتا ہے۔ آخر میں معرفت کا مقام ہوتا ہے جہاں بندہ خدا کے بہت قریب ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کو دنیا کی پریشانیوں اور خود غرضی سے ہٹا کر اپنے اندر جھانکنے اور خدا کی پہچان حاصل کرنے کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کا کلام اس فلسفے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی ایک ذاتِ واحد کا مظہر ہے اور ہر شے میں اسی کا نور پوشیدہ ہے۔
مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے، ڈھا دے جو کج ڈھینڈا
اک بندے دا دل نہ ڈھاویں رب دِلاں وچ رہندا
(بابا بلھے شاہ)
اگر کوئی عمارت ٹوٹ جائے تو اس کی دوبارہ تعمیر ممکن ہے لیکن جب آپ کسی انسان کا دل توڑ دیتے ہیں تو وہ ٹوٹا ہوا دل کبھی جڑ نہیں سکتا۔ انسان کے دل میں خدا رہتا ہے اس لیے کسی کی دل آزاری خدا کو ناراض کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کلام انسان کو غفلت کی نیند سے بیدار کرتا ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے۔ آج کا انسان جس طرح مادی ترقی کی دوڑ میں اندھا ہو چکا ہے وہاں بلھے شاہ کا کلام بار بار یاد دلاتا ہے کہ جو آیا ہے اس نے یہاں سے جانا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی خدا کی یاد میں بسر کرے۔ جب انسان کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے تو اس کے دل سے مال ودولت کی ہوس ختم ہو جاتی ہے۔
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی
ہتھ وچ پھڑ کے تلوار نام رکھ لیا غازی
مکے مدینے گھوم آیا تے نام رکھ لیا حاجی
او بھلیا حاصل کی کیتا؟ جے توں رب نا کیتا راضی
(بابا بلھے شاہ)
یہاں بلھے شاہ علم کی نفی نہیں کر رہے بل کہ اس علم کی نفی کر رہے ہیں جو انسان کے اندر تکبر اور غرور پیدا کرے۔ آپ کے نزدیک وہ علم جو انسان کو خدا سے دور کر دے وہ علم نہیں بل کہ ایک بوجھ ہے۔ اس کے برعکس، عشق کا ایک حرف جو انسان کو عاجزی اور محبت سکھا دے وہ اصل کامیابی ہے۔
16











