7

سندھ طاس:پانی پر بھارت کی چال ناکام : حمید علی

پانی زندگی ہے، معیشت ہے اور ریاستوں کی بقا کا بنیادی وسیلہ بھی۔ جنوبی ایشیا میں پانی کی اہمیت اس لیے کہیں زیادہ ہے کہ پاکستان کی زراعت، خوراک اور معیشت کا ایک بڑا حصہ دریائے سندھ کے وسیع آبی نظام سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا تنازع محض دریاؤں کے بہاؤ کا معاملہ نہیں، بل کہ قومی سلامتی، بین الاقوامی قانون اور خطے کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ایسے میں ہیگ سے آنے والا حالیہ فیصلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جس میں سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت کے بارے میں اہم وضاحت سامنے آئی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا۔ کراچی میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے اس معاہدے پر دستخط کیے، جب کہ عالمی بینک نے اس معاہدے تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ معاہدہ تقریباً نو برس پر محیط مذاکرات کے بعد وجود میں آیا۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم ایک انتہائی حساس مسئلہ بن چکی تھی، کیوں کہ دریائے سندھ کے نظام کے کئی اہم دریا بھارت کے زیرِ انتظام علاقوں سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔

معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی کو بنیادی طور پر پاکستان کے لیے مختص کیا گیا، جب کہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانی پر بھارت کو بنیادی حق دیا گیا۔ تاہم مغربی دریاؤں پر بھارت کے لیے بھی محدود استعمال کی گنجائش رکھی گئی، خصوصاً گھریلو استعمال، محدود آب پاشی اور پن بجلی پیدا کرنے کے لیے۔ اس استعمال کے لیے معاہدے میں تفصیلی شرائط مقرر کی گئیں تاکہ بالائی حصے میں موجود ملک یعنی بھارت کے منصوبوں سے زیریں حصے میں موجود پاکستان کے پانی کے حقوق متاثر نہ ہوں۔

سندھ طاس معاہدے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی اور متعدد جنگوں کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھا۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں سے لے کر 1999ء کی کارگل جنگ اور بعد کے مختلف بحرانوں تک دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا، مگر پانی کی تقسیم کا یہ معاہدہ مجموعی طور پر نافذ رہا۔ اسی وجہ سے اسے دنیا کے اہم اور نسبتاً کامیاب بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔

معاہدے کے تحت مستقل انڈس واٹر کمیشن قائم کیا گیا، جس میں پاکستان اور بھارت کے نمائندے شامل ہیں۔ اس کمیشن کا مقصد پانی سے متعلق معلومات کا تبادلہ، باہمی رابطہ اور پیدا ہونے والے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔ اگر کسی معاملے پر کمیشن کے ذریعے اتفاق نہ ہو سکے تو معاہدے میں تنازع کے حل کے لیے دیگر قانونی راستے بھی موجود ہیں، جن میں غیر جانب دار ماہر اور مخصوص حالات میں ثالثی عدالت کا طریقۂ کار شامل ہے۔

وقت کے ساتھ بھارت کی جانب سے دریائے چناب، جہلم اور ان کے معاون دریاؤں پر مختلف پن بجلی منصوبوں کی تعمیر نے پاکستان کے خدشات میں اضافہ کیا۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ بعض منصوبوں کے ڈیزائن میں ایسی خصوصیات شامل ہیں جو معاہدے کی شرائط سے متصادم ہو سکتی ہیں اور مستقبل میں دریاؤں کے بہاؤ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بھارت کا مؤقف اس کے برعکس رہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق استعمال کر رہا ہے اور اس کے پن بجلی منصوبے پانی کو ختم نہیں کرتے، بل کہ بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔

کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبے اسی طویل تنازع کی اہم مثالیں ہیں۔ ان منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی کے استعمال سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور معاملہ معاہدے میں فراہم کردہ تنازع کے حل کے طریقۂ کار تک پہنچا۔ یوں سندھ طاس معاہدہ محض دریاؤں کی تقسیم کا ایک تاریخی معاہدہ نہیں رہا، بل کہ اس کے اندر موجود قانونی طریقۂ کار بھی وقتاً فوقتاً آزمائش سے گزرتا رہا ہے۔

پھر اپریل 2025ء میں پہلگام حملے کے بعد بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو تعطل میں رکھنے کا اعلان کیا۔ نئی دہلی نے اپنے اس اقدام کو قومی سلامتی اور دہشت گردی کے تناظر میں پیش کیا، جب کہ پاکستان نے اسے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت یک طرفہ طور پر ایک بین الاقوامی معاہدے سے اپنی ذمہ داریاں معطل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ معاہدے میں یک طرفہ طور پر اسے ’’معطل‘‘ کرنے کی گنجائش موجود نہیں۔

ہیگ میں سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم پانچ رکنی Court of Arbitration یعنی ثالثی عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اس کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔ عدالت نے بھارت کے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا کہ وہ اپنی مرضی سے معاہدے کو معطل یا دستبردار ہو کر اس کی ذمہ داریوں سے الگ ہو سکتا ہے۔

اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عدالت نے معاہدے کے تحت بھارت کی ان ذمہ داریوں کو بھی برقرار قرار دیا جو مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کو ان منصوبوں کے حوالے سے سندھ طاس معاہدے میں مقرر کردہ قانونی اور تکنیکی شرائط کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

پاکستان کے لیے یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ اس نے ایک بنیادی اصول کو تقویت دی ہے۔بین الاقوامی معاہدے محض سیاسی بیانات کی بنیاد پر یک طرفہ طور پر معطل نہیں کیے جا سکتے۔ اگر کسی فریق کو معاہدے کے کسی حصے پر اعتراض ہو تو اس کے لیے قانونی اور سفارتی راستہ موجود ہوتا ہے۔ یہی اصول بین الاقوامی نظام میں ریاستوں کے درمیان اعتماد کو قائم رکھتا ہے۔

تاہم پاکستان کو اس فیصلے کو صرف سفارتی کامیابی سمجھ کر مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے۔ ہمارے لیے اصل چیلنج اپنے آبی وسائل کا بہتر انتظام ہے۔ پاکستان ہر سال پانی کی کمی، ضیاع، پرانے نہری نظام، زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ ہمیں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے، جدید آب پاشی کو فروغ دینے، نہری نظام کو بہتر بنانے اور پانی کے ہر قطرے کو قیمتی اثاثہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف بھارت کے لیے بھی یہ فیصلہ ایک اہم قانونی پیغام رکھتا ہے۔ بالائی حصے میں موجود ہونا کسی ریاست کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ زیریں حصے کی ریاست کے طے شدہ حقوق کو نظر انداز کر دے۔ دریاؤں کا پانی کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں، بل کہ بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے اس کے استعمال کے اصول طے کیے جا سکتے ہیں اور ان اصولوں کی پابندی دونوں فریقوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ دراصل اس خطے کی ایک ایسی تاریخی مثال ہے جس میں دشمنی کے باوجود تعاون کی گنجائش پیدا کی گئی۔ اگر 1960ء میں پاکستان اور بھارت جنگی ماحول اور باہمی بداعتمادی کے باوجود پانی کی تقسیم پر متفق ہو سکتے تھے تو آج بھی مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔

ہیگ کی ثالثی عدالت کا حالیہ فیصلہ پاکستان کے لیے ایک اہم قانونی تقویت ضرور ہے، مگر اس فیصلے کا سب سے بڑا سبق اس سے بھی آگے ہے۔ پانی کو سیاسی دباؤ یا تنازع کا ہتھیار بنانے کے بجائے اسے خطے کے امن اور مشترکہ بقا کا وسیلہ بنانا ہوگا۔ دریائے سندھ کی لہریں سرحدوں کو نہیں مانتیں؛ اس لیے پانی کے معاملے میں بھی مستقل حل طاقت سے نہیں، قانون، معاہدوں اور مذاکرات سے ہی نکل سکتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قائم ہے، اور ہیگ کا یہ فیصلہ اس حقیقت کی ایک بار پھر یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی اصل طاقت ان کی پاس داری میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں