مظفرآباد میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اعلان
اسلام آباد( خبرنگار) پرنسپل انفارمیشن آفیسر وزارتِ اطلاعات و نشریات محترمہ رئیسہ عادل نے کہا ہے کہ حکومت پرنٹ میڈیا کی افادیت، بالخصوص آزاد کشمیر کے اخبارات کو درپیش مسائل اور کشمیر کاز کے حوالے سے ان کے اہم کردار سے بخوبی آگاہ ہے، اخبارات کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات، آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی (اے کے این ایس) کے تعاون سے وزارتِ اطلاعات و نشریات، اے کے این ایس کے تعاون سے آزاد کشمیر کے صحافیوں کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار بڑھانے کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرے گی، جس کے تحت ابتدائی طور پر مظفرآباد میں دو روزہ ورکشاپ منعقد کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نائب صدر آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی نثار کیانی کی قیادت میں ملنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں سیکرٹری مالیات اعجاز خان، سینئر اراکین سردار حمید خان، جاوید اقبال چوہدری، نقاش عباسی، زاہد بشیر، ساجد چوہدری، وقار اعظم اور دیگر شامل تھے۔ملاقات کے دوران وفد نے آزاد کشمیر کے اخبارات کو درپیش مالی مشکلات، زیرِ التوا سرکاری اشتہارات کے واجبات، ڈسپلے اور کلاسیفائیڈ اشتہارات کے حجم، علاقائی اخبارات کو ریجنل کوٹے کے مطابق اشتہارات کی فراہمی سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔اس موقع پر وفد نے اس امر پر زور دیا کہ آزاد کشمیر کے اخبارات محض علاقائی اخبارات نہیں بلکہ پاکستان کی کشمیر پالیسی اور قومی کشمیر بیانیے کو عوام تک پہنچانے کا اہم ابلاغی ذریعہ ہیں۔ ریاستی اخبارات مسئلہ کشمیر کے سیاسی، سفارتی، تاریخی اور انسانی پہلوؤں کو پوری شدومد سے اجاگر کرنے کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچا رہے ہیں۔وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے حوالے سے آزاد کشمیر کے اخبارات کا کردار بیرون ملک پاکستان کے سفارتی مشنز سے کسی طور کم نہیں۔ سفارتی مشنز عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف اور کشمیر کاز کو اجاگر کرتے ہیں جبکہ آزاد کشمیر کے اخبارات عوامی اور ابلاغی محاذ پر اسی قومی مؤقف کو مسلسل اجاگر کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، اس لیے انہیں کشمیر کاز کے ایک اہم ابلاغی محاذ کے طور پر خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ملاقات میں 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر، 5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر اور 27 اکتوبر یومِ سیاہ سمیت اہم قومی و کشمیری ایام کے موقع پر آزاد کشمیر کے اخبارات کو فرنٹ پیج کلر ڈسپلے اشتہارات کے اجراء، کلاسیفائیڈ اشتہارات کا حجم بڑھانے اور وفاقی حکومت کے عوامی فلاحی منصوبوں، طلبہ کی اسکالرشپس اور دیگر پروگراموں کے اشتہارات میں آزاد کشمیر کے اخبارات کو مناسب طور پر شامل کرنے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔وفد نے بجٹڈ اشتہارات کے واجبات کی کم از کم تین ماہ کی ادائیگی اور زیرِ التوا واجبات کی جلد ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ ڈاک ایڈیشن اخبارات کو رات گئے اشتہارات کے اجراء سے درپیش عملی مشکلات سے بھی آگاہ کیا گیا اور تجویز پیش کی گئی کہ ایونٹ بیسڈ اشتہارات کے لیے ایسا مؤثر ایس او پی وضع کیا جائے جس کے تحت ڈاک ایڈیشن اخبارات کو اشتہارات بروقت فراہم کیے جا سکیں۔پرنسپل انفارمیشن آفیسر رئیسہ عادل نے وفد کے تمام مطالبات اور تجاویز کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ اطلاعات و نشریات آزاد کشمیر کے اخبارات کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ممکنہ اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پرنٹ میڈیا کی اہمیت اور صحافتی اداروں کو درپیش مسائل سے آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے متعلقہ سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔رئیسہ عادل نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے صحافیوں کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے وزارتِ اطلاعات و نشریات اے کے این ایس کے تعاون سے کیپیسٹی بلڈنگ پروگرام شروع کرے گی، جس کا ابتدائی مرحلہ مظفرآباد میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ سے شروع کیا جائے گا۔ ورکشاپ میں صحافتی مہارتوں، جدید ابلاغی تقاضوں اور پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے سے متعلق امور پر تربیت فراہم کی جائے گی۔ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں آزاد کشمیر کے اخبارات کے مسائل، صحافتی صنعت کو درپیش چیلنجز اور کشمیر کاز کے لیے مؤثر ابلاغی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
12











