اسلام آباد کے نواحی علاقے 17 میل میں واقع مدرسہ تحفیظ القرآن کے مطالعاتی دورے کے دوران ایک ایسے دینی ادارے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو خاموشی سے خدمتِ قرآن، اشاعتِ دین اور تعمیرِ کردار کا عظیم فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اس ادارے کی کامیابی کے پس منظر میں اس کے مہتمم قاری عقیل الرحمٰن کی شبانہ روز محنت، اخلاص، حسنِ انتظام اور دینی جذبہ نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔
قاری عقیل الرحمٰن کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی قرآنِ مجید کی تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر رکھی ہے اور اپنی اہلیہ و بچوں سمیت مدرسے میں ہی رہائش پذیر ہیں۔ ان کی سادگی، خوش اخلاقی، شفقت، نظم و ضبط اور خدمتِ دین کا جذبہ ہر آنے والے کے دل میں احترام پیدا کرتا ہے۔
مدرسہ تحفیظ القرآن میں اس وقت چار اساتذۂ کرام کی نگرانی میں 70 سے زائد طلبہ حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ مدرسے کا ماحول انتہائی پُرسکون، کشادہ، صاف ستھرا اور تعلیمی اعتبار سے مثالی ہے۔ رہائشی طلبہ کے لیے معیاری خوراک، صاف ستھری رہائش، مناسب آرام اور دیگر بنیادی سہولیات کا بہترین انتظام موجود ہے، جس سے انتظامیہ کی ذمہ داری اور احساسِ خدمت نمایاں ہوتا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ قاری عقیل الرحمٰن کے اپنے بچے بھی اسی مدرسے میں زیرِ تعلیم ہیں، جو ان کے اپنے ادارے اور نظامِ تعلیم پر بھرپور اعتماد کا عملی ثبوت ہے۔ ان کے ایک صاحبزادے نے رواں سال اسلام آباد کے مدارس میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کے درمیان منعقدہ تقریری مقابلوں میں سوم پوزیشن حاصل کرکے اپنے والدین، اساتذہ اور مدرسے کا نام روشن کیا۔
آج کے دور میں جب مادہ پرستی اور اخلاقی زوال معاشرے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، ایسے مخلص اہلِ علم قوم کے لیے امید کی کرن ہیں۔ قاری عقیل الرحمٰن نہ صرف قرآنِ کریم کے حافظ اور معلم ہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاص اور عملی زندگی سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ دینی خدمت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس مشن ہے۔
بلاشبہ قاری عقیل الرحمٰن ان گمنام مگر عظیم شخصیات میں شامل ہیں جو خاموشی سے آنے والی نسلوں کے سینوں کو قرآن کے نور سے منور کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ معاشرے کا حقیقی سرمایہ اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے دینی اداروں اور ان کے مخلص خادموں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ خدمتِ قرآن کا یہ روشن چراغ ہمیشہ فروزاں رہے۔











