غزہ (نیوزایجنسیاں) غزہ کی پٹی میں 70 بچوں سمیت 100 فلسطینی شہدا کو اجتماعی نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کردیا گیا۔غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران تباہ ہونے والے گھروں کے ملبے سے حالیہ دنوں میں نکالی گئی 100 فلسطینیوں کی میتوں کی غزہ سٹی کے علاقے زیتون میں اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی، جن میں 70 بچے بھی شامل تھے۔جنازے میں متاثرہ خاندانوں کے افراد سمیت ہزاروں فلسطینیوں، سماجی اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی، میتوں اور انسانی باقیات کو تباہ شدہ گھروں کے ملبے کے قریب ایک مقام پر رکھا گیا اور ان پر فلسطینی پرچم لپیٹے گئے۔جنازے کے موقع پر غزہ سول ڈیفنس کے اہلکاروں، متاثرہ خاندانوں کے نمائندوں اور دیگر سماجی شخصیات نے تعزیتی اور یادگاری خطاب بھی کئے۔نماز جنازہ کے بعد میتوں اور باقیات کو زیتون کے علاقے میں واقع الاحلی قبرستان میں دفن کیا گیا، امدادی ٹیمیں بمباری سے تباہ علاقوں میں ملبے سے اب تک تقریباً 900 لاشیں نکال چکی ہیں۔غزہ کی پٹی میں 9 ہزار کے قریب فلسطینیوں کی لاشیں اب تک مختلف مقامات پر ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔علاوہ ازیں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں باپ بیٹی سمیت 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز الشفا ہسپتال کے سربراہ محمد ابو سلمیہ کے مطابق مغربی غزہ سٹی میں ایک گاڑی کو اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، حملے میں یوسف عقیلہ اور ان کی 8 سالہ بیٹی وفا جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہوگئے۔غزہ سٹی میں ہونے والے 2 الگ الگ اسرائیلی حملوں میں مزید 2 افراد شہید ہوئے جن میں ایک بچی بھی شامل ہے، غزہ سٹی کے مشرق میں ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کے قریب اسرائیلی حملے میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دینے والے سکول پر اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری سے 7 سالہ بچی جاں بحق ہوگئی۔
7











