7

ہمالیہ کا اچانک طوفانی قہرنیپال سے کشمیر تک پگھلتے گلیشیئر :محمدعقیل انجم

26اگست 2026 کو نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب ہمالیہ کے پہاڑوں سے جو پانی نیچے آیا، اس کی ویڈیوز نے دنیا بھر میں لوگوں کو چند لمحوں کے لیے خوف زدہ کردیا۔ ایک پہاڑی راستہ دیکھتے ہی دیکھتے پانی، برف، مٹی اور پتھروں کے ایک خوفناک ریلے میں تبدیل ہوگیا۔ پل، سڑکیں، گاڑیاں، عمارتیں اور جو کچھ اس کے راستے میں آیا، بہتا چلا گیا۔سوشل میڈیا پر یہ مناظر دیکھ کر شاید بہت سے لوگوں نے اسے ایک اور سیلاب سمجھا ہو، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے۔نیپال کے شمالی ضلع راسووا میں آنے والی اس تباہی نے بھوٹے کوشی دریا کے نظام کو شدید متاثر کیا اور تبت کی طرف گیرونگ کے سرحدی علاقے تک بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نیپال میں 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ تقریباً 900 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ چین کے زیر انتظام تبت کے گیرونگ علاقے میں بھی ہلاکتوں اور گمشدگیوں کی اطلاعات ہیں۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں مشکلات کے باعث اعداد و شمار میں مزید تبدیلی کا امکان موجود ہے۔یہ صرف ایک ملک کا سانحہ نہیں۔ اس واقعے نے ہمالیہ کے پورے خطے کے لیے ایک ایسا سوال کھڑا کردیا ہے جس سے پاکستان اور خصوصاً آزاد کشمیر بھی نظریں نہیں چرا سکتے۔اگر پہاڑوں کے اوپر برف، گلیشیئر، جھیلیں اور ڈھلوانیں بدل رہی ہیں تو ان کے نیچے رہنے والے کروڑوں انسان کتنے محفوظ ہیں؟یہ سوال اب پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔پانی آیا کہاں سے؟اس واقعے کے بارے میں ابتدائی اطلاعات میں مختلف امکانات سامنے آئے۔ کہیں زلزلے کا ذکر ہوا، کہیں شدید بارش کو وجہ بتایا گیا، لیکن بعد میں سامنے آنے والے شواہد نے ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کی۔تبت اور نیپال کی سرحد کے قریب ایک بلند پہاڑی علاقے میں برف، گلیشیئر، چٹان اور مٹی کا ایک بڑا حصہ اچانک نیچے آیا۔ اس نے دریا کے بہاؤ کو متاثر کیا۔ پانی اور ملبہ جمع ہوا اور پھر ایک موقع پر یہ رکاوٹ ٹوٹ گئی۔اس کے بعد جو کچھ نیچے آیا وہ صرف پانی نہیں تھا۔ اس میں برف بھی تھی، مٹی بھی، پتھر بھی اور پہاڑ کا ملبہ بھی۔ایسے واقعات میں پانی کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایک معمولی دریا اچانک ایک ایسی تباہ کن قوت میں تبدیل ہوسکتا ہے جس کے سامنے چند منٹوں میں بنائے گئے تمام حفاظتی انتظامات ناکافی ثابت ہوجائیں۔اسی لیے اس واقعے کو محض عام سیلاب کہنا درست نہیں ہوگا۔ ماہرین اسے مختلف قدرتی خطرات کے ایک دوسرے کو متحرک کرنے والے سلسلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔کیا شدید بارش ہوئی تھی؟یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ہر بڑے پہاڑی سیلاب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ تباہی کے عین مقام پر اسی وقت موسلا دھار بارش ہورہی ہو۔پہاڑوں میں پانی کا نظام میدانوں سے مختلف ہوتا ہے۔ اوپر برف یا چٹان کا ایک بڑا حصہ گر سکتا ہے، وہ دریا کو کچھ دیر کے لیے روک سکتا ہے، پانی جمع ہوسکتا ہے اور پھر یہ عارضی رکاوٹ ٹوٹتے ہی پانی اور ملبے کا ریلا کئی کلومیٹر نیچے آباد علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔اس لیے مستقبل میں صرف بارش ناپنے والے آلات پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پہاڑ کے اوپر کیا ہورہا ہے۔کیا یہ موسمیاتی تبدیلی ہے؟یہاں جذبات کے بجائے سائنس کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔کسی ایک واقعے کو صرف موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں، جب تک اس مخصوص واقعے پر مکمل سائنسی نسبت سامنے نہ آجائے۔لیکن دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہندوکش ہمالیہ کا برفانی نظام تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔بین الاقوامی مرکز برائے مربوط پہاڑی ترقی، آئی سی آئی ایم او ڈی، کے مطابق 2000 کے بعد ہندوکش ہمالیہ میں گلیشیئرز سے برف کے ضائع ہونے کی رفتار تقریباً دوگنی ہوئی ہے۔ 2011 سے 2020 کے دوران برف کے نقصان کی رفتار پچھلی دہائی کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد زیادہ رہی۔یہ صرف گلیشیئر کے پیچھے ہٹنے کی خبر نہیں۔گلیشیئر پیچھے ہٹتا ہے تو اس کے پیچھے پانی جمع ہوسکتا ہے۔ نئی برفانی جھیلیں بن سکتی ہیں۔ پہلے سے موجود جھیلوں کا حجم بڑھ سکتا ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں کا توازن متاثر ہوسکتا ہے اور بعض مقامات پر چٹانیں اور برف پہلے کی نسبت زیادہ غیر مستحکم ہوسکتی ہیں۔پھر ایک غیر معمولی بارش، برفانی تودہ یا چٹانی انہدام پورے نظام کو اچانک متحرک کرسکتا ہے۔گلیشیئر پگھلنے کا مطلب صرف سیلاب نہیںموسمیاتی تبدیلی کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ گلیشیئر کے تیزی سے پگھلنے سے ابتدا میں پانی زیادہ ہوسکتا ہے، جس سے سیلاب کا خطرہ بڑھتا ہے۔لیکن اگر گلیشیئر مسلسل کم ہوتے جائیں تو ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب خشک موسم میں دریاؤں کو ملنے والا برف پگھلنے کا پانی کم ہوجائے۔یعنی آج ہم زیادہ پانی سے پریشان ہوسکتے ہیں اور آنے والے برسوں میں کم پانی سے۔پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں زراعت، بجلی اور کروڑوں لوگوں کی زندگی دریاؤں سے جڑی ہوئی ہے، دونوں صورتیں سنگین ہیں۔دنیا کے مختلف ملکوں کے لوگ بھی اس سانحے میں پھنسےنیپال کے اس سانحے کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ لاپتا افراد میں صرف مقامی لوگ شامل نہیں۔تازہ اطلاعات کے مطابق نیپال میں 31 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 540 غیر ملکی شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ان میں بھارت کے تقریباً 288 شہری، امریکہ کے تقریباً 65، ملائیشیا کے 50 سے زائد، یوکرین کے تقریباً 53، برطانیہ کے 30 سے زائد، آسٹریلیا اور کینیڈا کے شہریوں کے علاوہ چین، سنگاپور، جنوبی کوریا، روس، جرمنی، جاپان، نیوزی لینڈ، فرانس، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔یہ اعداد ریسکیو کے دوران تبدیل ہوسکتے ہیں، اس لیے انہیں حتمی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔لیکن ایک بات واضح ہے: ہمالیہ آج صرف پہاڑوں میں رہنے والے لوگوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ سیاحت، مذہبی سفر اور سرحدی تجارت نے اس خطے کو پوری دنیا سے جوڑ دیا ہے۔نیپال ہمیں پہلے بھی خبردار کرچکا ہےاگست 2024 میں ماؤنٹ ایورسٹ کے علاقے میں تھامے گاؤں ایک برفانی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب سے متاثر ہوا تھا۔گھروں، اسکول، صحت کی سہولتوں اور پلوں کو نقصان پہنچا۔2024 اور 2026 کے واقعات ایک جیسے نہیں تھے۔ ان کے محرکات اور جغرافیائی حالات مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن دونوں ہمیں ایک ہی بات سمجھاتے ہیں:ہمالیہ کا برفانی نظام بدل رہا ہے اور اس کے نیچے رہنے والی آبادیوں کو نئے خطرات کا سامنا ہے۔⸻اب سوال پاکستان کا ہےنیپال ہم سے دور ہے، لیکن اس کی برف ہم سے دور نہیں۔ہندوکش ہمالیہ کا پہاڑی نظام پاکستان کے شمالی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال میں گلیشیئر بھی ہیں، برفانی جھیلیں بھی، انتہائی بلند پہاڑی ڈھلوانیں بھی اور ان ڈھلوانوں کے نیچے آبادیاں بھی۔پاکستان پہلے ہی گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب کے واقعات دیکھ چکا ہے۔اس لیے نیپال کی تباہی ہمارے لیے صرف ایک خبر نہیں، ایک وارننگ بھی ہے۔اور یہ وارننگ صرف گلگت بلتستان اور چترال کے لیے نہیں۔آزاد کشمیر کے لیے بھی ہے۔آزاد کشمیر کو نظر انداز کرنا خطرناک ہوگاآزاد کشمیر کا بیشتر جغرافیہ پہاڑی ہے۔ بلند پہاڑ، تنگ وادیاں، دریا، ندی نالے، برساتی گزرگاہیں اور پہاڑی ڈھلوانیں اس علاقے کی قدرتی شناخت ہیں۔یہی خوبصورتی اسے اچانک شدید بارش اور سیلاب کے خطرے سے بھی دوچار کرتی ہے۔2026 میں وادی نیلم میں کئی مرتبہ شدید بارش، کلاؤڈ برسٹ اور اچانک سیلاب کے واقعات سامنے آئے۔کشتواڑ میں ہونے والے کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب نے بھی اسی بڑے ہمالیائی خطے کے خطرے کو نمایاں کیا۔یہ تمام واقعات ایک جیسے نہیں تھے، لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے:پہاڑوں میں موسم کا مزاج تیزی سے بدل سکتا ہے اور چند منٹوں میں معمول کی صورتحال ہنگامی صورت اختیار کرسکتی ہے۔لیکن کشمیر کا مسئلہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیںیہاں ہماری اپنی غلطیوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔آزاد کشمیر کے بہت سے شہروں اور قصبوں میں آبادی پھیلتی گئی اور اس کے ساتھ قدرتی پانی کی گزرگاہوں پر تعمیرات بھی بڑھتی گئیں۔جہاں کبھی برساتی پانی گزرتا تھا وہاں مکان بن گئے۔کہیں دکانیں بن گئیں۔کہیں دیواریں کھڑی ہوگئیں۔کہیں سڑکیں اور دیگر تعمیرات آگئیں۔ہر تعمیر غیر قانونی ہے، یہ کہنا درست نہیں۔ لیکن یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا ان تعمیرات سے پہلے یہ دیکھا گیا کہ شدید بارش کی صورت میں پانی کہاں سے گزرے گا؟یہ سوال خاص طور پر اس وقت اہم ہوجاتا ہے جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث انتہائی شدید بارشوں کا خطرہ بڑھ رہا ہو۔پانی اپنا راستہ خود بناتا ہےایک چھوٹا نالہ عام دنوں میں شاید اتنا معمولی دکھائی دیتا ہے کہ لوگ اس کے کنارے گھر بنانے میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔لیکن پہاڑوں میں چند گھنٹوں کی شدید بارش اس نالے کو اچانک ایک طاقتور سیلابی راستے میں تبدیل کرسکتی ہے۔پھر پانی یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے راستے میں کس کا گھر ہے، کس کی دکان ہے یا کس نے وہاں کتنی سرمایہ کاری کی ہے۔وہ صرف اپنا راستہ تلاش کرتا ہے۔اور اگر قدرتی راستہ تعمیرات سے بند کردیا گیا ہو تو پانی اپنا نیا راستہ بناتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں قدرتی خطرہ انسانی منصوبہ بندی کی غلطی کے ساتھ مل کر تباہی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔⸻کیا ہمارے پاس قدرتی پانی کی گزرگاہوں کا ریکارڈ ہے؟یہ سوال آزاد کشمیر کے لیے ایک بڑی تحقیقی ضرورت بن چکا ہے۔ہمیں ضلع وار معلوم ہونا چاہیے کہ:کون سا دریا کہاں سے گزرتا ہے؟اس کے معاون ندی نالے کہاں ہیں؟کون سی برساتی گزرگاہیں تاریخی طور پر فعال رہی ہیں؟گزشتہ بیس یا تیس برس میں ان کے راستوں کے قریب کتنی تعمیرات ہوئی ہیں؟کون سی تعمیرات سیلابی راستے میں آتی ہیں؟کون سے پل اور سڑکیں خطرے میں ہیں؟اور کن آبادیوں کو ہنگامی صورت میں سب سے پہلے منتقل کرنا پڑسکتا ہے؟یہ معلومات صرف سرکاری فائلوں میں بند رہنے کے بجائے عوام کے سامنے بھی ہونی چاہئیں۔⸻سیٹلائٹ ہمیں وہ کچھ دکھا سکتا ہے جو زمین پر نظر نہیں آتاآج ہمارے پاس وہ ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے چند دہائیوں میں ہونے والی تبدیلی کا تقابلی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے کہ 2000 میں کوئی ندی یا نالہ کہاں بہتا تھا اور 2026 میں اس کے کنارے کیا تعمیر ہوچکی ہے۔مظفرآباد اور اس کے گردونواح کے بعض علاقوں کے سیٹلائٹ جائزوں میں قدرتی آبی گزرگاہوں کے قریب تعمیراتی دباؤ میں اضافہ سامنے آیا ہے۔یہ تحقیق مزید ضلع وار اور ندی نالہ وار کرنے کی ضرورت ہے۔یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں۔یہ انسانی جانوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔⸻قانون موجود ہے، عمل درآمد کہاں ہے؟آزاد کشمیر میں تعمیرات، بلڈنگ کنٹرول اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق قوانین اور ادارہ جاتی نظام موجود ہیں۔لیکن اصل سوال قانون کی کتاب نہیں، اس کا عملی نفاذ ہے۔اگر کسی برساتی نالے یا قدرتی پانی کی گزرگاہ میں تعمیر ہوتی ہے تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی اجازت کس ادارے نے دی۔نقشہ کس نے منظور کیا؟زمین کی نوعیت کیا تھی؟کیا سیلابی خطرے کا جائزہ لیا گیا؟کیا ماحولیاتی اجازت ضروری تھی؟اور اگر تعمیر خطرناک علاقے میں پہلے ہی موجود ہے تو اسے محفوظ بنانے یا لوگوں کو متبادل جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ کیا ہے؟یہ سوال کسی ایک فرد یا ادارے کو مورد الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کی تباہی روکنے کے لیے اٹھانے کی ضرورت ہے۔ہر تعمیر گرانا حل نہیںیہ بھی حقیقت ہے کہ کئی مقامات پر لوگ برسوں سے رہ رہے ہیں۔کسی گھر کو صرف یہ کہہ کر گرا دینا کہ وہ خطرناک جگہ پر بنا ہے، مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ریاست کو پہلے خطرے کی سائنسی نشاندہی کرنا ہوگی، پھر متاثرہ خاندانوں کے لیے متبادل زمین یا رہائش کا انتظام کرنا ہوگا۔لیکن اس کے ساتھ ایک اصول بالکل واضح ہونا چاہیے:نئی تعمیر خطرناک قدرتی آبی گزرگاہ میں نہیں ہونی چاہیے۔آج کی ایک غلط تعمیر کل کے سیلاب میں کئی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔⸻آزاد کشمیر کو کیا کرنا چاہیے؟سب سے پہلے پورے علاقے کا قدرتی پانی کی گزرگاہوں کا نقشہ تیار کیا جائے۔ہر ضلع میں بڑے دریاؤں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور موسمی ندی نالوں کا بھی ریکارڈ بنایا جائے۔سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے گزشتہ دو دہائیوں میں تعمیرات کی تبدیلی دیکھی جائے۔شدید بارش والے علاقوں میں بارش ناپنے کے خودکار مراکز بڑھائے جائیں۔دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کی مسلسل نگرانی کی جائے۔حساس پہاڑی ڈھلوانوں کی نشاندہی کی جائے۔جہاں ضروری ہو وہاں مقامی سطح پر سائرن اور ابتدائی انتباہ کا نظام نصب کیا جائے۔اور سب سے اہم بات، لوگوں کو صرف خطرے کی اطلاع نہ دی جائے بلکہ انہیں پہلے سے معلوم ہو کہ خطرے کی صورت میں جانا کہاں ہے۔⸻پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے سبقہمالیہ کو سیاسی نقشے پر بانٹنا آسان ہے۔قدرت کو بانٹنا ممکن نہیں۔بارش کو یہ معلوم نہیں کہ سرحد کہاں ختم ہوتی ہے۔گلیشیئر کو پاسپورٹ کی ضرورت نہیں۔دریا کسی ملک کی سرحد پر رک کر نہیں پوچھتا کہ آگے کس ملک کا علاقہ ہے۔اسی لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قدرتی آفات سے متعلق سائنسی معلومات کے تبادلے کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔گلیشیئر کی صورتحال، شدید بارش، دریائی بہاؤ، برفانی جھیلوں اور ممکنہ سیلاب کے بارے میں بروقت معلومات ایک دوسرے تک پہنچانا ہزاروں جانیں بچا سکتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نہ پاکستانی ہے، نہ ہندوستانی، نہ کشمیری۔یہ انسانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔⸻اور پھر موسمیاتی انصاف کا سوالنیپال، پاکستان اور ہمالیائی خطے کے دوسرے ممالک دنیا کے بڑے تاریخی کاربن اخراج کرنے والوں میں شامل نہیں۔لیکن گرم ہوتی دنیا کے اثرات یہاں کے لوگوں کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔کسی کا گھر بہہ جاتا ہے۔کسی کی فصل ختم ہوجاتی ہے۔کسی کے مویشی مر جاتے ہیں۔کسی کا روزگار ختم ہوجاتا ہے۔اور کسی کا پیارا ہمیشہ کے لیے چلا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف درجہ حرارت، کاربن یا عالمی کانفرنسوں کے اعداد و شمار میں نہیں دیکھا جاسکتا۔اس کا اصل چہرہ ان لوگوں کے گھروں میں نظر آتا ہے جو موسمیاتی بحران پیدا کرنے میں سب سے کم ذمہ دار ہیں لیکن اس کی قیمت سب سے پہلے ادا کررہے ہیں۔⸻عالمی میڈیا کا سوالہر بڑے سانحے کے بعد دنیا بھر کے اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز پر تصاویر آتی ہیں۔کچھ دن بحث ہوتی ہے۔پھر ایک نئی خبر آجاتی ہے۔لیکن تحقیقاتی صحافت کا کام صرف تباہی دکھانا نہیں بلکہ یہ پوچھنا بھی ہے کہ تباہی سے پہلے کیا ہورہا تھا۔کیا خطرہ پہلے سے معلوم تھا؟کیا لوگوں کو بروقت خبردار کیا گیا؟کیا محفوظ راستے موجود تھے؟کیا قدرتی پانی کی گزرگاہیں محفوظ تھیں؟کیا خطرناک علاقوں میں تعمیرات ہوئیں؟کیا حکومت کے پاس سیلابی نقشہ تھا؟اور اگر تھا تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوا؟یہ سوال صرف نیپال کے لیے نہیں۔یہ سوال ہمارے لیے بھی ہے۔اصل خطرہ کہاں ہے؟خطرہ صرف گلیشیئر کے پگھلنے میں نہیں۔خطرہ صرف کلاؤڈ برسٹ میں نہیں۔خطرہ صرف لینڈ سلائیڈنگ میں نہیں۔اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب قدرتی خطرہ اور انسانی کمزوری ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔پہاڑ پر شدید بارش ہوئی۔پانی نیچے آیا۔راستے میں قدرتی نالہ تعمیرات سے تنگ تھا۔پانی نے رخ بدلا۔گھر راستے میں تھا۔پل کمزور تھا۔لوگوں کو بروقت اطلاع نہیں ملی۔اور پھر ایک قدرتی واقعہ ایک بڑے انسانی سانحے میں بدل گیا۔ہمیں اسی سلسلے کو توڑنا ہے۔⸻ایک بڑی تحقیق کی ضرورتآزاد کشمیر کے لیے اب ایک جامع تحقیقی منصوبہ شروع کیا جانا چاہیے:“آزاد کشمیر میں قدرتی پانی کی گزرگاہیں، تعمیرات اور موسمیاتی خطرات: 2000 تا 2026”اس تحقیق میں ضلع بہ ضلع اور جہاں ممکن ہو ندی نالہ بہ ندی نالہ جائزہ لیا جائے۔پرانے نقشے حاصل کیے جائیں۔سیٹلائٹ تصاویر کا تقابلی مطالعہ کیا جائے۔گزشتہ 25 برس کے سیلابی واقعات کا ریکارڈ جمع کیا جائے۔سرکاری تعمیراتی اجازت ناموں کا جائزہ لیا جائے۔خطرناک تعمیرات کی نشاندہی کی جائے۔اور پھر ایک ایسا عوامی نقشہ تیار کیا جائے جس سے عام شہری بھی سمجھ سکے کہ وہ کس خطرے والے علاقے میں رہ رہا ہے۔یہ کام صرف صحافی نہیں کرسکتا۔اس میں ماہرین موسمیات، ارضیات، آبی وسائل، شہری منصوبہ بندی، جغرافیہ، ماحولیات اور مقامی انتظامیہ کو بھی شامل ہونا چاہیے۔⸻آخری باتنیپال میں 26 اگست کو پہاڑ سے پانی، برف اور ملبہ نیچے آیا۔دنیا نے ویڈیوز دیکھیں اور خوف زدہ ہوئی۔لیکن ہمیں ان ویڈیوز کو صرف ایک سانحے کے مناظر کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔انہیں آئینے کی طرح دیکھنا چاہیے۔اس آئینے میں ہمیں گلگت بلتستان نظر آتا ہے۔چترال نظر آتا ہے۔وادی نیلم نظر آتی ہے۔مظفرآباد نظر آتا ہے۔کشتواڑ نظر آتا ہے۔اور ہمالیہ کے دامن میں آباد کروڑوں انسان نظر آتے ہیں۔ہم موسمیاتی تبدیلی کو ایک دن میں نہیں روک سکتے۔گلیشیئر کو حکم دے کر پگھلنے سے نہیں روک سکتے۔بادلوں کو راستہ بدلنے کا حکم نہیں دے سکتے۔لیکن ہم ایک کام ضرور کرسکتے ہیں۔ہم پانی کا راستہ نہیں روکیں گے۔ہم خطرناک جگہوں پر نئی تعمیر نہیں کریں گے۔ہم پہاڑوں کی نگرانی کریں گے۔ہم گلیشیئر اور برفانی جھیلوں کو دیکھیں گے۔ہم بارش اور دریاؤں کا ڈیٹا جمع کریں گے۔ہم لوگوں کو وقت پر خبردار کریں گے۔اور سب سے بڑھ کر، ہم اس غلط فہمی سے باہر نکلیں گے کہ جو تباہی آج نیپال میں ہوئی ہے وہ ہم سے بہت دور ہے۔کیونکہ ہمالیہ ایک مشترکہ قدرتی نظام ہے۔پہاڑوں پر ہونے والی تبدیلی پہاڑوں پر ختم نہیں ہوتی۔پانی آخرکار نیچے ہی آتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں