سال 2022 میں ہونے والی طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے بلوچستان کے مختلف اضلاع، خصوصاً نصیر آباد، اوستہ محمد، جعفر آباد، صحبت پور، جھل مگسی،اور دیگر علاقوں میں ایسی تباہی مچائی جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ کئی کئی دن تک پانی بستیوں، کھیتوں اور سڑکوں پر کھڑا رہا، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، مکانات زمین بوس ہو گئے، فصلیں تباہ ہوئیں، مویشی بہہ گئے اور غریب عوام کی برسوں کی جمع پونجی چند لمحوں میں پانی کی نذر ہو گئی۔ یہ صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھی بلکہ ایک ایسا انسانی المیہ تھا جس نے لوگوں سے ان کی چھت، روزگار، مال مویشی کھانے پینے کی اشیاء سکون نیند آرام اور مستقبل کی امید تک چھین لی۔جب پانی اترا تو متاثرہ علاقوں کے لوگوں نے نئی زندگی کی امید کے ساتھ حکومت اور امدادی اداروں کی جانب دیکھا۔ بعد ازاں جب سیلاب متاثرین کے گھروں کے سروے کا عمل شروع ہوا تو غریب مزدور، کسان، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقے کے چہروں پر امید کی کرن نمودار ہوئی۔ ہر خاندان یہ سوچنے لگا کہ شاید اب انہیں دوبارہ اپنے گھر کی چھت نصیب ہو جائے گی، ایک بار پھر علاقے میں روزگار کا ذریعہ بھی بنیں گا ان کے بچے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے کے بجائے محفوظ گھر میں واپس لوٹ سکیں گے اور تباہ حال زندگی دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔لیکن افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ امیدیں دھندلانے لگیں۔ بہت سے ایسے خاندان، جن کے گھروں کا سروے کیا گیا، آج بھی وہ متاثرین انتظار میں ہے کہ ہمیں بھی کال آئیں گا اور ہمیں بھی سر پر چھت اور رہنے کے لئے گھر ملے گا وہ آج بھی امداد اور تعمیراتی سہولت سے محروم ہیں۔ کئی دیہاتوں میں لوگ اب تک عارضی جھونپڑیوں، خیموں یا ٹوٹی پھوٹی دیواروں کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔شدید گرمی، سردی، بارش اور دیگر موسمی مشکلات نے ان کی زندگی مزید اجیرن بنا دی ہے۔ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، خواتین کو بنیادی سہولیات میسر نہ رہیں اور بزرگ افراد بیماریوں کے باوجود مناسب رہائش سے محروم ہیں۔سیلاب کے بعد گھروں کی تعمیر کا عمل صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ہی امید کی علامت نہیں تھا بلکہ اس سے مقامی معیشت کو بھی سہارا ملا۔ مستری، مزدور، راج مستری، بڑھئی، الیکٹریشن، پلمبر، ٹرانسپورٹر، دکاندار اور دیگر ہنر مند افراد کو روزگار حاصل ہوا بلوچستان جیسے صوبے میں، جہاں بے روزگاری پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ ہے، یہ تعمیراتی سرگرمیاں سینکڑوں خاندانوں کے لیے معاشی زندگی کی نئی سانس ثابت ہوئیں۔روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے گھروں میں چولہے جلنے لگے اور بازاروں میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا۔اب جب تعمیراتی کام سست روی کا شکار یا کئی مقامات پر بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے تو اس کے اثرات صرف سیلاب متاثرین تک محدود نہیں رہے بلکہ پورا مزدور طبقہ دوبارہ بے روزگاری، قرضوں اور معاشی پریشانیوں میں گھِر گیا ہے۔ایک طرف متاثرہ خاندان اپنی چھت کی تکمیل کے منتظر ہیں تو دوسری طرف وہ مزدور جو انہی منصوبوں سے روزگار حاصل کر رہے تھے، دوبارہ کام کی تلاش میں دربدر پھرنے پر مجبور ہیں۔سیلاب متاثرین کی سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ کئی خاندانوں کے نام سروے میں شامل ہونے کے باوجود عملی امداد تک نہیں پہنچ سکے۔بعض علاقوں میں لوگ آج بھی متعلقہ دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، جبکہ انہیں واضح معلومات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں کہ ان کے کیس کا کیا بنا۔ یہ صورتحال عوام میں مایوسی اور بے چینی کو جنم دے رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام زیر التوا کیسز کو شفاف اور تیز رفتار طریقے سے مکمل کیا جائے اور مستحق خاندانوں کو ان کا حق بلا تاخیر فراہم کیا جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرتی آفات صرف عمارتیں نہیں گراتیں بلکہ لوگوں کے حوصلے بھی توڑ دیتی ہیں۔ جب ایک غریب شخص اپنی زندگی بھر کی کمائی سے بنایا گیا گھر چند گھنٹوں میں پانی میں بہتا دیکھتا ہے تو اس کے دل پر لگنے والا زخم برسوں تک نہیں بھرتا۔ایسے میں حکومت کی ذمہ داری صرف مالی امداد تک محدود نہیں رہتی بلکہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ باعزت زندگی کی طرف واپس لانا بھی حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔حکومت بلوچستان، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی وفاقی حکومت،ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو چاہیے کہ وہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو دوبارہ بھرپور انداز میں فعال کریں، نئے مستحقین کے کیسز کا فوری جائزہ لیں، فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور تعمیراتی عمل میں شفافیت اختیار کریں تاکہ کسی بھی مستحق خاندان کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔اس کے ساتھ ساتھ مقامی مزدوروں اور ہنر مند افراد کو ترجیح دے کر روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں تاکہ بحالی کا عمل متاثرین اور مزدور دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔آج بھی نصیر آباد، اوستہ محمد، جعفر آباد، صحبت پور اور دیگر متاثرہ علاقوں کے ہزاروں خاندان اس انتظار میں ہیں کہ ان کے بچوں کے سر پر دوبارہ ایک محفوظ چھت قائم ہو، ان کے گھروں میں روشنی لوٹے اور وہ خوف، بے یقینی اور محرومی کی زندگی سے نکل کر سکون اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔سیلاب متاثرین کسی خیرات کے طلبگار نہیں، بلکہ اپنے جائز حق، انصاف اور باعزت بحالی کے منتظر ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ متعلقہ حکام اس اہم انسانی مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گے اور ایسے عملی اقدامات کریں گے جن سے متاثرہ خاندانوں کے چہروں پر ایک بار پھر امید کی روشنی لوٹ آئے۔
10











