14

بڑھتے ہوئے طلاق کے واقعات: سید ساجد علی شاہ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو معاشرتی زندگی عطا کی ہے اور خاندان کو اس معاشرے کی بنیادی اکائی قرار دیا ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ صرف دو افراد کا باہمی معاہدہ نہیں بلکہ محبت، رحمت، سکون اور ذمہ داری کا ایسا مقدس بندھن ہے جس پر ایک صالح معاشرے کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم نے ازدواجی زندگی کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ ترجمہ: “اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔” (سورۃ الروم: 21)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ازدواجی زندگی کی بنیاد محبت، رحمت اور سکون ہے، نہ کہ نفرت، انا اور کشیدگی۔

بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویش ناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔ معمولی اختلافات، برداشت کی کمی، معاشی مسائل، سوشل میڈیا کا بے جا استعمال، دینی تعلیمات سے دوری، والدین اور رشتہ داروں کی غیر ضروری مداخلت، بے جا توقعات اور انا پرستی جیسے عوامل گھروں کو اجاڑ رہے ہیں۔ ہر روز سینکڑوں بچے والدین کی علیحدگی کا درد سہنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اور یہی بچے بعد میں نفسیاتی مسائل، احساسِ محرومی اور معاشرتی بے راہ روی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اسلام نے نکاح کو آسان اور طلاق کو آخری چارۂ کار قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللّٰهِ الطَّلَاقُ” ترجمہ: “اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے۔” (سنن ابی داؤد)

اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ اگرچہ طلاق بعض ناگزیر حالات میں جائز ہے، لیکن اسے جلد بازی یا معمولی اختلافات کی بنیاد پر اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

آج گھروں میں برداشت کم اور انا زیادہ ہو گئی ہے۔ شوہر اپنی بات منوانا چاہتا ہے اور بیوی اپنی رائے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے اختلافات بڑے تنازعات میں بدل جاتے ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے کو معاف کرنا، سننا اور سمجھنا سیکھ جائیں تو اکثر مسائل بغیر کسی تلخی کے حل ہو سکتے ہیں۔

قرآنِ مجید نے اختلاف کی صورت میں اصلاح کا بہترین طریقہ بھی بیان فرمایا:

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا﴾ ترجمہ: “اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کرو، اگر وہ اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان میں موافقت پیدا فرما دے گا۔” (سورۃ النساء: 35)

یہ اسلامی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ طلاق سے پہلے مصالحت، گفت و شنید اور ثالثی کے تمام ذرائع اختیار کیے جائیں۔

معاشی مشکلات بھی ازدواجی زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، قرضوں کا بوجھ اور بڑھتے ہوئے اخراجات گھریلو جھگڑوں کو جنم دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا سہارا بننے کے بجائے الزام تراشی کریں تو تعلقات کمزور ہو جاتے ہیں۔ اسلام صبر، شکر اور قناعت کی تعلیم دیتا ہے، کیونکہ سکون صرف دولت سے نہیں بلکہ اطمینانِ قلب سے حاصل ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا نے بھی خاندانی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ موبائل فون نے افراد کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کے بجائے اکثر گھروں میں فاصلے پیدا کر دیے ہیں۔ غیر ضروری روابط، بے جا شک، نجی زندگی کی نمائش اور دوسروں کی مصنوعی خوشیوں سے موازنہ رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتا ہے۔ ایک مضبوط رشتہ اعتماد سے قائم رہتا ہے، نگرانی سے نہیں۔

اسلام نے شوہر کو حسنِ معاشرت کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:

﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ترجمہ: “اور عورتوں کے ساتھ بھلائی اور حسنِ سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔” (سورۃ النساء: 19)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي” ترجمہ: “تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔” (جامع ترمذی)

یہ حدیث ہر شوہر کے لیے بہترین نمونہ ہے کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ محبت، نرمی اور حسنِ اخلاق سے پیش آئے۔

اسی طرح بیوی کو بھی شوہر کے جائز حقوق ادا کرنے، گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھنے اور محبت و احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسلام نے میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے:

﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾ ترجمہ: “وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔” (سورۃ البقرۃ: 187) لباس انسان کو زینت، تحفظ اور سکون دیتا ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے کے لیے باعثِ سکون، عزت اور حفاظت ہونا چاہیے۔طلاق کا سب سے دردناک اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ والدین کی جدائی ان کے دل و دماغ پر ایسے زخم چھوڑتی ہے جو برسوں تک نہیں بھرتے۔ ایسے بچے اکثر احساسِ محرومی، خوف، عدم اعتماد اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ بہت سے بچے تعلیم سے دور ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض معاشرتی برائیوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ اس لیے ہر والدین کو چاہیے کہ اپنے ذاتی اختلافات سے زیادہ اپنے بچوں کے مستقبل کو اہمیت دیں۔ہمارے معاشرے میں شادی کو آسان اور نباہ کو مشکل بنا دیا گیا ہے۔ نکاح سے پہلے ظاہری نمود و نمائش، جہیز، فضول رسومات اور غیر حقیقی توقعات قائم کی جاتی ہیں، جبکہ نکاح کے بعد صبر، برداشت اور ذمہ داری کا عملی درس نہیں دیا جاتا۔ اگر نوجوانوں کو شادی سے پہلے ازدواجی زندگی کے حقوق و فرائض، اخلاقی تربیت اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے تو طلاق کی شرح میں نمایاں کمی آ سکتی ہے علمائے کرام، اساتذہ، والدین، میڈیا اور سماجی تنظیموں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خاندان کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ مساجد میں خاندانی زندگی کے موضوع پر خطبات دیے جائیں، تعلیمی اداروں میں تربیتی نشستیں منعقد ہوں اور میڈیا پر ایسے پروگرام نشر کیے جائیں جو خاندانوں کو جوڑنے کا پیغام دیں، نہ کہ بکھیرنے کا۔ اختلاف ہر گھر میں ہوتے ہیں، لیکن کامیاب وہی خاندان ہوتے ہیں جو ان اختلافات کو حکمت، صبر، معافی اور محبت سے حل کرتے ہیں۔ اگر ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی گھریلو زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات میں کمی آئے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور استحکام کا گہوارہ بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے گھروں کو محبت، رحمت، صبر، تقویٰ اور باہمی احترام کا نمونہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک مضبوط، باوقار اور اسلامی معاشرے میں پروان چڑھ سکیں۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں