87

بلوچستان کے شہداء,قربانی، امن اور قومی یکجہتی تحریر سید ساجد علی شاہ

بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا، قدرتی وسائل سے مالا مال اور جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہم صوبہ ہے۔ یہ سرزمین صرف معدنیات، پہاڑوں، صحراؤں اور ساحلی علاقوں کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی، معاشی ترقی اور علاقائی روابط کا بنیادی ستون بھی ہے۔ بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے بلوچستان دہشت گردی، تخریب کاری اور بیرونی مداخلت جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دوران پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ پاکستان کا پرچم سربلند رہے اور عوام امن کی فضا میں زندگی گزار سکیں۔ شہادت ایک ایسا عظیم رتبہ ہے جسے اسلام میں بے حد بلند مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کو مردہ نہیں بلکہ زندہ قرار دیا ہے۔ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جان قربان کرنے والے جوان صرف اپنے خاندان کے ہیرو نہیں بلکہ پوری قوم کے محسن ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کی بدولت ہم اپنے گھروں میں سکون سے سوتے، اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے اور معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ اگر سرحدوں اور حساس علاقوں میں ہمارے محافظ دن رات پہرہ نہ دے رہے ہوتے تو شاید ہماری زندگی اتنی پرامن نہ ہوتی۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے بیشتر واقعات کا مقصد صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پاکستان کے امن، ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانا بھی ہوتا ہے۔ دشمن عناصر اچھی طرح جانتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کی معاشی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے وہ یہاں بدامنی پیدا کرکے قومی ترقی کی رفتار کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ہر حملے کے بعد ہمارے جوان جس جرات، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہیں، وہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔جب کسی فوجی جوان کی شہادت کی خبر آتی ہے تو صرف ایک سپاہی نہیں جاتا بلکہ ایک گھر کا چراغ بجھ جاتا ہے۔ کسی ماں کا لختِ جگر، کسی باپ کا سہارا، کسی بہن کا بھائی، کسی بیوی کا شریکِ حیات اور کسی معصوم بچے کا باپ ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتا ہے۔ اس درد کا اندازہ صرف وہی خاندان کر سکتا ہے جس نے اپنے پیارے کو وطن پر قربان کیا ہو۔ مگر ان عظیم خاندانوں کا حوصلہ بھی سلام کے قابل ہے جو اپنے غم کو قومی فخر میں بدل دیتے ہیں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، قوم یا انسانیت نہیں ہوتی۔ دہشت گرد صرف خون بہانا جانتے ہیں۔ ان کا مقصد خوف پھیلانا، قومی اتحاد کو نقصان پہنچانا اور ترقی کے سفر کو روکنا ہوتا ہے۔ ایسے عناصر نہ صرف قانون بلکہ انسانیت کے بھی دشمن ہیں۔ ان کے خلاف پوری قوم کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔بلوچستان کے عوام نے بھی دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ عام شہری، قبائلی عمائدین، اساتذہ، ڈاکٹر، مزدور اور طلبہ بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ یہ صرف ریاستی اداروں کی جنگ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے، جس میں بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی اداروں نے مل کر بے مثال قربانیاں دی ہیں۔دائمی امن صرف فوجی کارروائیوں سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے سماجی اور معاشی ترقی بھی ضروری ہے۔ بلوچستان میں تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، سڑکوں، صنعتوں اور جدید سہولیات کی فراہمی پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔ نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ ترقی اور انصاف وہ ہتھیار ہیں جو شدت پسندی کی سوچ کو کمزور کرتے ہیں۔میڈیا اور اہلِ قلم کی بھی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کریں، قومی اتحاد کو فروغ دیں اور شہداء کی قربانیوں کو اجاگر کریں۔ اختلافِ رائے ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہے، مگر ایسا کوئی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جو قومی سلامتی یا عوامی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائے۔ الفاظ بھی قومیں بناتے ہیں اور الفاظ ہی قوموں کو تقسیم کرتے ہیں، اس لیے قلم کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔آج جب ہم بلوچستان کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اہلِ خانہ کو بھی سلام پیش کرنا چاہیے۔ ان کی عزت، کفالت، تعلیم، علاج اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ شہداء کے بچوں کی بہترین تعلیم، خاندانوں کی معاشی معاونت اور سماجی احترام ہی ان قربانیوں کا حقیقی اعتراف ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو صرف سیکیورٹی کے زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ سیاسی مکالمے، آئینی حقوق، معاشی ترقی اور عوامی شمولیت کے ذریعے ایک مضبوط اور پرامن مستقبل کی بنیاد رکھی جائے۔ جب عوام کو انصاف، ترقی اور مواقع میسر ہوں گے تو دشمن کے مذموم عزائم خود بخود ناکام ہو جائیں گے۔آج ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھے، قومی یکجہتی کو مضبوط بنائے، نفرت کے بجائے محبت، انتشار کے بجائے اتحاد اور مایوسی کے بجائے امید کو فروغ دے۔ یہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان سمیت پورے پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی منزل تک لے جا سکتا ہے اللہ تعالیٰ ہمارے تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے، شہداء کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے، بلوچستان کو دائمی امن اور خوشحالی نصیب فرمائے اور پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی، انتشار اور سازشوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں