124

تعلیم ہر بچے کا حق حمید علی

جب بھی کسی قوم کے مستقبل کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے اس کے بچوں کا ذکر آتا ہے، کیوں کہ آج کا بچہ ہی کل کا معمار ہوتا ہے۔ اگر یہی معمار تعلیم سے محروم رہ جائے تو مضبوط مستقبل کی امید رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں آج بھی لاکھوں نہیں، کروڑوں بچے ایسے ہیں جنہیں سکول کا راستہ نصیب نہیں۔ یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں، بل کہ قومی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بقا کا معاملہ ہے۔
پاکستان کا آئین واضح طور پر پانچ سے سولہ سال کی عمر کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق دیتا ہے، مگر زمینی حقیقت اس آئینی ضمانت سے بہت مختلف ہے۔ ایک طرف بڑے بڑے تعلیمی منصوبوں اور اصلاحات کے دعوے کیے جاتے ہیں، دوسری طرف بے شمار بچے ایسے ہیں جن کے ہاتھوں میں کتابوں کے بجائے اوزار، اینٹیں، برتن یا مزدوری کا بوجھ ہے۔ غربت نے ان کے خواب چھین لیے ہیں اور حالات نے انہیں وقت سے پہلے بڑا بنا دیا ہے۔
تعلیم سے محرومی کی سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے بجائے محنت مزدوری پر لگا دیتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے۔ ایسے میں بچے اپنی خواہشات، کھیل کود اور تعلیم سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں، بل کہ پورے ملک کا خسارہ ہے، کیوں کہ تعلیم سے محروم بچہ مستقبل میں ملک کی ترقی میں وہ کردار ادا نہیں کر سکتا جو ایک تعلیم یافتہ شہری کر سکتا ہے۔
دیہی علاقوں کی صورتِ حال تو اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ کہیں سکول موجود نہیں، کہیں اساتذہ کی کمی ہے، کہیں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور کہیں بچیوں کی تعلیم کو آج بھی غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہزاروں بچے ابتدائی تعلیم بھی مکمل نہیں کر پاتے۔ یہ صورتحال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر ہم اپنے مستقبل کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بیٹی صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی، بل کہ پورے خاندان کی تربیت اور آنے والی نسلوں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جن معاشروں نے خواتین کی تعلیم کو ترجیح دی، وہ ترقی کی دوڑ میں بہت آگے نکل گئے، جبکہ ہم آج بھی بعض علاقوں میں بنیادی شعور کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
شرحِ خواندگی کسی بھی ملک کی ترقی کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ اگر سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو یقیناً شرحِ خواندگی میں اضافہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس کا براہِ راست اثر معیشت، روزگار، صحت، سائنسی تحقیق اور قومی ترقی پر پڑے گا۔ دنیا مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ ہمارے لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ یہ فرق جتنا بڑھے گا، ہماری مشکلات بھی اتنی ہی بڑھتی جائیں گی۔
اس مسئلے کا حل صرف حکومت کے پاس نہیں، بل کہ معاشرے کے ہر فرد کے پاس بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرے، نئے سکول قائم کرے، اساتذہ کی کمی پوری کرے اور بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں، خصوصاً بیٹیوں، کی تعلیم کو اولین ترجیح دیں۔ صاحبِ حیثیت افراد، فلاحی تنظیمیں اور نجی ادارے بھی مستحق بچوں کی تعلیمی کفالت میں بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا سرمایہ دراصل قوم کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ اگر آج ہم اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم رکھیں گے تو کل جہالت، بے روزگاری اور پسماندگی ہمارا مقدر بن جائے گی۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کی بنیاد ان کے تعلیمی نظام پر ہے، نہ کہ صرف ان کی معاشی قوت پر۔
وقت آ گیا ہے کہ تعلیم کو محض ایک نعرہ نہیں، بل کہ قومی ترجیح بنایا جائے۔ ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب، ہر گاؤں میں سکول اور ہر گھر میں تعلیم کی اہمیت کا شعور پیدا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب تعلیم ہر بچے کا حق تھی تو ہم نے انہیں اس حق سے محروم کیوں رکھا؟ یقیناً اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب ہمارے پاس نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں