91

قیادت، استحکام اور ابھرتا ہوا پاکستان تحریر: واجد علی تونسوی

بین الاقوامی سیاست میں کسی بھی ریاست کی اہمیت صرف اس کی عسکری طاقت سے متعین نہیں ہوتی ، بلکہ داخلی استحکام، مضبوط معیشت، مؤثر سفارت کاری، قومی یکجہتی اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت بھی اس کے عالمی مقام کا تعین کرتی ہے۔ اکیسویں صدی میں قومی سلامتی کا تصور نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اب صرف سرحدوں کا دفاع ہی کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اقتصادی استحکام، سماجی ہم آہنگی، داخلی امن، مضبوط ادارے، جدید ٹیکنالوجی اور فعال خارجہ پالیسی کو بھی قومی سلامتی کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی سلامتی پالیسی، علاقائی کردار اور سفارتی حکمتِ عملی پر نئی بحث جنم لے رہی ہے۔
جنرل سید عاصم منیر نے 29 نومبر 2022 کو چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے پاک فوج کی قیادت ایسے وقت سنبھالی جب پاکستان کو بیک وقت متعدد چیلنجز کا سامنا تھا۔ مشرقی سرحد پر بھارت کے ساتھ کشیدگی برقرار تھی، مغربی سرحد پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا تھا، جبکہ اندرونِ ملک معاشی مشکلات، سیاسی تقسیم اور سماجی بے چینی ریاست کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی تھیں۔ ایسے حالات میں قومی سلامتی کو صرف عسکری نقطۂ نظر سے نہیں ، بلکہ ایک جامع قومی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
اس حکمتِ عملی کا ایک بڑا امتحان 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ بھارت نے پاکستان پر الزامات عائد کیے، جنہیں پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطاللبہ کیا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان فضائی، میزائل اور ڈرون کارروائیوں نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی اور عالمی برادری نے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
پاکستانی حکومت کے مطابق 10 مئی 2025 کو پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں “آپریشن بنیان المرصوص” شروع کیا، جسے دفاعی اور جوابی کارروائی قرار دیا گیا۔ چند روز تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد مختلف دوست ممالک کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ نے جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی اور اس فیصلے کی وجہ آپریشن کے دوران ان کی قیادت کو قرار دیا۔ اسی تناظر میں حکومت نے مسلح افواج اور قومی یکجہتی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یومِ تشکر بھی منایا۔
ان واقعات کے بعد پاکستان کی دفاعی سفارت کاری بھی زیادہ متحرک دکھائی دی۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون، سعودی عرب، ترکی، آذربائیجان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط، مشترکہ فوجی مشقیں اور دفاعی تعاون اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں سلامتی اور اقتصادی تعاون کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حامی حلقوں کے نزدیک یہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کی علامت ہے، جبکہ بعض تجزیہ نگار اس کے دیرپا نتائج کو معاشی استحکام، سیاسی تسلسل اور ادارہ جاتی مضبوطی سے مشروط قرار دیتے ہیں۔
بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ داخلی سلامتی بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی۔ تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان میں سرگرم مسلح گروہوں اور دیگر شدت پسند عناصر کی کارروائیوں کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے 22 جون 2024 کو “عزمِ استحکام” کے نام سے قومی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کی منظوری دی۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس کا مقصد صرف فوجی کارروائیاں کرنا نہیں بلکہ انٹیلی جنس اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر تعاون کو مزید مضبوط بنانا بھی تھا۔ اس پالیسی پر مختلف سیاسی جماعتوں اور مبصرین نے مختلف آراء کا اظہار کیا، تاہم حکومت نے اسے دہشت گردی کے خلاف قومی حکمتِ عملی کا اہم ستون قرار دیا۔
اسی دوران انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد کارروائیوں میں کئی دہشت گرد ہلاک یا گرفتار ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں اس حقیقت کی یاد دلاتی ہیں کہ داخلی امن صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ قومی عزم، مضبوط اداروں، عوامی تعاون اور قانون کی مؤثر عمل داری سے بھی وابستہ ہوتا ہے۔
داخلی استحکام کے تناظر میں مذہبی ہم آہنگی کا پہلو بھی قابلِ توجہ رہا۔ مختلف مواقع پر جنرل، بعد ازاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ سے ملاقاتیں کیں، جن میں قومی اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف اور امن و استحکام کے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ حامی حلقے ان ملاقاتوں کو قومی سلامتی کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض مبصرین ان کے اثرات کا جائزہ طویل المدت تناظر میں لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
پاکستان جیسے مذہبی اور ثقافتی تنوع رکھنے والے معاشرے میں قومی اتحاد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب ریاستی ادارے، مذہبی قیادت، سیاسی قوتیں اور عوام مشترکہ قومی مقاصد پر یکسو ہوں تو انتہاپسندی کے امکانات محدود ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے جدید ریاستیں قومی سلامتی کو صرف عسکری قوت تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کو بھی اس کا لازمی جزو سمجھتی ہیں۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی پاکستان نے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی تعاون، ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ دفاعی روابط اور وسطی ایشیا کے ساتھ اقتصادی روابط کے فروغ کی کوششیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اگر یہ سفارتی اور دفاعی تعاون سرمایہ کاری، تجارت، توانائی اور صنعتی شراکت داری کی صورت میں مزید آگے بڑھتا ہے تو اس کے مثبت اثرات قومی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس کے باوجود یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی ریاست کی عالمی حیثیت صرف عسکری کامیابیوں سے مستحکم نہیں ہوتی۔ مضبوط معیشت، شفاف طرزِ حکمرانی، سیاسی استحکام، آزاد ادارے، قانون کی بالادستی، معیاری تعلیم، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی میں ترقی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو مستقل عالمی وقار عطا کرتے ہیں۔ دفاعی کامیابیوں کے ساتھ اگر ان شعبوں میں بھی تسلسل کے ساتھ اصلاحات جاری رہیں تو پاکستان اپنے نوجوان انسانی وسائل، قدرتی وسائل اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حامیوں کے مطابق ان کی قیادت میں دفاع، سفارت کاری اور داخلی سلامتی کو ایک جامع قومی حکحکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی، جبکہ ناقدین اس کا جائزہ جمہوری اداروں، معاشی کارکردگی، سیاسی استحکام اور آئینی عمل کے تناظر میں لیتے ہیں۔ یہی اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کی فکری پختگی اور صحت مند قومی مباحثے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، پیشہ ورانہ مسلح افواج، قدرتی وسائل اور انتہائی اہم جغرافیائی محلِ وقوع جیسے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اگر قومی اتحاد، پالیسیوں کا تسلسل، معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مؤثر سفارت کاری ایک دوسرے کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں تو پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ ووسیع تر خطے میں بھی ایک باوقار، مؤثر اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
قومی سلامتی کا حقیقی راز صرف جدید ہتھیاروں میں نہیں ، بلکہ ایک مضبوط، متحد، بااعتماد اور ترقی پسند قوم میں پوشیدہ ہ ہوتا ہے۔ جب سرحدوں کا دفاع مضبوط ہو، دہشت گردی کے خلاف ریاست کا عزم واضح ہو، سفارت کاری فعال ہو، معیشت مستحکم ہو اور قوم داخلی طور پر متحد رہے تو ریاست کا وقار عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جسے آج کے پاکستان کی بدلتی ہوئی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں