5

معاشی اشاریے مثبت مگر عوام پریشان: رفیع صحرائی

وفاقی حکومت اور اس کی معاشی ٹیم ان دنوں بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہو چکی ہے۔ قرضوں میں اضافے کی رفتار کم ہوئی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس میں بدل گیا، سود کی ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوا، مہنگے قرض قبل از وقت واپس کر دیے گئے اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ بظاہر یہ تمام اعداد و شمار ایک روشن اور مستحکم معیشت کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معیشت کی بہتری کا اصل پیمانہ صرف سرکاری اعداد و شمار ہوتے ہیں؟ اگر معیشت واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو عام آدمی کیوں مسلسل معاشی دباؤ کا شکار ہے؟ متوسط طبقہ کیوں سکڑ رہا ہے؟ صنعت کار سرمایہ کاری سے کیوں گریز کر رہے ہیں؟ کاشتکار کیوں بدحال ہیں اور نوجوانوں میں بے روزگاری کیوں بڑھ رہی ہے؟
حکومت کے معاشی بیانیے اور عوام کی معاشی حقیقت کے درمیان موجود یہی خلیج سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اگر معاشی ٹیم کے دعوے کے مطابق قرضوں میں اضافے کی رفتار صرف پانچ فیصد رہ گئی ہے تو عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ یہ کامیابی کن ذرائع سے حاصل ہوئی؟ کیا اس میں قومی اثاثوں کی فروخت کا کردار نہیں؟ گزشتہ مالی سال کے دوران ہزاروں ملازمین کو ایک جھٹکے میں بے روزگار کرکے متعدد یوٹیلٹی اسٹورز بند کیے گئے۔ برسوں سے قائم یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کا انفراسٹرکچر، گاڑیاں، سامان اور دیگر اثاثے فروخت کیے گئے۔ دوسری جانب قومی ائیرلائن پی آئی اے کی نجکاری اور قومی اثاثوں کی فروخت سے بھی اربوں روپے حاصل ہوئے۔
یہ تمام رقوم آخر قومی خزانے میں ہی گئی ہیں۔ اگر قرضوں کے حصول میں کمی آئی ہے تو یہ سوال اٹھانا بالکل جائز ہے کہ کیا اس کمی کی وجہ عوام پر بوجھ ڈال کر اور قومی اثاثے فروخت کرکے حاصل ہونے والی آمدن تو نہیں؟
اسی طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا گیا۔ پٹرولیم لیوی کے ذریعے حکومت نے ریکارڈ آمدن حاصل کی۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے نے بھی قومی خزانے کو سہارا دیا۔ یعنی خزانہ بھرنے کا سارا بوجھ عوام کے کندھوں پر منتقل کر دیا گیا۔
حکومت یہ بھی بتائے کہ کیا صرف عوام نے قربانی دی یا حکومتی اخراجات میں بھی کمی آئی؟ کیا وزراء، سرکاری اداروں، غیر ضروری بیرونی دوروں، پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں اور انتظامی اخراجات میں بھی کٹوتی کی گئی؟ اگر عوام مہنگائی برداشت کر رہے ہیں تو کیا حکمران طبقہ بھی اسی طرح کفایت شعاری اختیار کر رہا ہے؟
یہاں ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے کہ پی آئی اے کے ساتھ دیگر ایئر لائنز کو بھی طیاروں اور پرزہ جات کی درآمد پر سیلزٹیکس کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد جو سہولتیں دی جا رہی ہیں اگر اتنی سنجیدگی سے اس قومی ادارے کو بچانے کے لیے کوششیں کی جاتیں تو نجکاری کی نوبت ہی نہ آتی۔ پی آئی اے سمیت دوسری نجی کمپنیوں کو بھی سیلز ٹیکس میں چھوٹ دے کر بلاجواز سہولت دی جا رہی ہے خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ ایک غریب آدمی ماچس کی ڈبیا خریدنے پر بھی ٹیکس دے رہا ہو وہاں جہاز خریدنے پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دینا انصاف کے منافی ہے۔
ایک اور اہم سوال قرضوں کے حوالے سے پیدا ہوتا ہے۔ حکومت نے 4.7 کھرب روپے کے مہنگے قرض قبل از وقت ادا کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جو یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی تو بتایا جائے کہ اسی عرصے میں مجموعی طور پر کتنے نئے قرض لیے گئے؟ اگر اربوں ڈالر کے قرض واپس کیے گئے تو کیا ان کے مقابلے میں اتنی ہی یا اس سے زیادہ رقم نئے قرضوں کی صورت میں حاصل نہیں کی گئی؟
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کا مجموعی قرض اب بھی بڑھ رہا ہے۔ اگر مجموعی قرض میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرض اربوں ڈالر کی ادائیگی کے باوجود کم نہیں ہوا بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے، اگرچہ رفتار نسبتاً سست رہی۔ کئی سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ ہر حکومت نے ملکی قرضے میں اضافہ ہی کیا ہے۔ اس میں کمی یا خاتمے کا کسی نے شاید سوچا تک نہیں ہے۔ عوام کو پوری تصویر دکھانے کی ضرورت ہے، صرف اس کا روشن رخ نہ دکھائیں۔
پھر ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ اگر معاشی اشاریے مثبت ہیں تو عام آدمی کو اس کا فائدہ کیوں نہیں پہنچ رہا؟ آٹے، چینی، گھی، بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم اور صحت کے اخراجات میں مسلسل اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ بے روزگاری کیوں بڑھ رہی ہے؟ لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرون ملک جانے پر کیوں مجبور ہیں؟
صنعتی شعبے کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں توانائی کی بلند قیمتوں، بھاری ٹیکسوں اور کاروباری لاگت میں اضافے کے باعث متعدد صنعتیں یا تو بند ہوئیں یا اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہوئیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کی کئی معروف ملیں جن میں فیصل آباد اور کراچی کے متعدد یونٹس شامل ہیں، عارضی یا مستقل طور پر بند ہوئیں۔ متعدد اسپننگ ملیں، پاور لومز، چھوٹے انجینئرنگ یونٹس اور کیمیکل صنعتیں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ بعض بڑے صنعتی گروپس نے اپنی سرمایہ کاری کا رخ بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی جانب موڑ دیا ہے۔
کاشتکار بھی پریشان ہیں۔ کھاد، بیج، زرعی ادویات اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے زرعی شعبے کی کمر توڑ دی ہے۔ گندم خریداری پالیسی کے تنازعات نے کسانوں کو اربوں روپے کے نقصان سے دوچار کیا۔ اگر زرعی اور صنعتی شعبے کمزور ہوں گے تو معاشی ترقی کے ثمرات دیرپا نہیں ہو سکتے۔
معاشی اشاریوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مالیاتی نظم و ضبط، قرضوں کا بہتر انتظام اور کرنٹ اکاؤنٹ کا استحکام یقینا قابلِ تعریف امور ہیں، لیکن کسی بھی معیشت کی اصل کامیابی اس وقت سمجھی جاتی ہے جب عام آدمی کی زندگی میں بہتری آئے، روزگار پیدا ہو، مہنگائی کم ہو، کاروبار پھلے پھولیں اور لوگوں کی قوتِ خرید میں اضافہ ہو۔
حکومت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ صرف اعداد و شمار کی بہتری سے عوام مطمئن نہیں ہوتے۔ جب تک معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچتے، مثبت معاشی اشاریے عوام کے لیے محض کاغذی کامیابیاں ہی رہیں گے۔
پاکستان کی معیشت شاید استحکام کی طرف بڑھ رہی ہو، لیکن اصل سوال اب بھی وہی ہے: اگر معیشت بہتر ہو رہی ہے تو پھر عوام کی زندگی کیوں بدتر ہوتی جا رہی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں