اسد الدین اویسی نے مطالبہ کیا ہے کہ اب انڈین حکومت کو پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈلوانے کی کوشش کرنی چاہیے
وویک اگروال پہلے انڈین ہیں جو ایف اے ٹی ایف کے نائب صدر منتخب ہوئے. مودی حکومت کو اب پاکستان کو گرے لسٹ میں واپس لانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔یہ الفاظ ہیں انڈیا کی مذہبی، سیاسی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کے جو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی نائب صدارت انڈیا کو ملنے پر پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
جمعے کے روز ہونے والے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کے لیے مالی معاونت پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے اجلاس میں انڈیا کے سینیئر بیورو کریٹ وویک اگروال کو جولائی 2026 سے جون 2027 کے لیے ادارے کا نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔انڈیا کے پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق اگروال اس وقت وزارتِ ثقافت میں بطور سیکریٹری تعینات ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ انڈیا ایف اے ٹی ایف کی نائب صدارت سنبھالے گا۔ پریس انفارمیشن بیورو پر جاری بیان کے مطابق، انڈیا کا نائب صدارت کے منصب پر انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک نے ایف اے ٹی ایف کے عالمی نیٹ ورک میں کس قدر اعتبار اور اعتماد حاصل کیا ہے۔پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق اپنی تقرری پر اگروال کا کہنا تھا کہ ‘یہ تقرری انڈیا کی اجتماعی کاوشوں اور منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے ہمارے فریم ورک کی مضبوطی کا اعتراف ہے۔’یہ منصب انڈیا کو ملنے کے بعد اسد الدین اویسی کی طرح انڈیا میں بعض حلقے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈلوانے کی بات کر رہے ہیں۔ انڈین مسلمانوں کا یہ رویہ نہ صرف ناقابل فہم ہے بلکہ شرمناک بھی ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہےاور حالیہ ایران امریکہ اسرائیل جنک میں عالمی جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرچکا ہے۔ جبکہ بھارت پاکستان میں کئی دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہے۔ گرے لسٹ میں اصل میں جگہ بھارت کی بنتی ہے۔











