انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں طویل عرصے تک ترقی کی راہ پر گامزن رہی ہیں، جنہوں نے اپنے لوگوں کو علم کے ساتھ ہنر، عملی صلاحیتیں اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت صرف اس کے قدرتی وسائل، جدید عمارتوں یا مشینوں میں نہیں، بلکہ اس کے لوگوں کے علم، قابلیت، محنت اور ہنر میں ہوتی ہے۔ آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں صرف ڈگری حاصل کرنا روزگار کی ضمانت نہیں۔ ڈگری انسان کو علم اور نظریاتی معلومات ضرور فراہم کرتی ہے، لیکن عملی ہنر اس علم کو کام، پیداوار اور آمدنی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے موجودہ دور میں تعلیم کے ساتھ عملی مہارت حاصل کرنا فرد کی کامیابی اور قومی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ”ہنر وہ خزانہ ہے جسے نہ چور چرا سکتا ہے اور نہ وقت اس کی قدر کم کر سکتا ہے۔“ ایک ماہر شخص اپنی صلاحیت کو مختلف حالات میں استعمال کرکے روزگار حاصل کر سکتا ہے، اپنے خاندان کا سہارا بن سکتا ہے اور معاشرے میں خودمختار زندگی گزار سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اب بھی یہ تصور مضبوط ہے کہ کامیابی کا واحد راستہ یونیورسٹی کی ڈگری اور سرکاری ملازمت ہے، حالانکہ ہر نوجوان کی دلچسپی، قابلیت اور مزاج ایک جیسا نہیں ہوتا۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تعلیم کا مقصد علم اور قابلیت میں اضافے کے بجائے صرف ڈگری حاصل کرنے تک محدود ہو جائے اور عملی مہارتوں کو نظرانداز کر دیا جائے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان مختلف شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرکے روزگار کی تلاش میں مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے نوجوانوں کے پاس صنعت، کاروبار اور جدید روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ عملی صلاحیتیں موجود نہیں ہوتیں۔ نتیجتاً ڈگری ہاتھ میں ہونے کے باوجود وہ اپنی تعلیمی قابلیت کے مطابق مارکیٹ میں روزگار حاصل نہیں کر پاتے۔ آج کے دور میں صرف ڈگری کافی نہیں؛ کامیابی کے لیے علم کے ساتھ عملی مہارت، تخلیقی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔ ایک انجینئر اگر جدید سافٹ ویئر استعمال کرنا جانتا ہے، استاد ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے تعلیم دیتا ہے، زرعی ماہر جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہے یا کاروباری شخص ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مالیاتی انتظام کو سمجھتا ہے تو اس کی تعلیم زیادہ مؤثر اور کارآمد بن جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں ”ڈگری یا ہنر“ کے بجائے ”ڈگری کے ساتھ ہنر“ کی سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔
دنیا کے کئی کامیاب ممالک کا تجربہ بھی اس سوچ کی اہمیت کو ثابت کرتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان نے تکنیکی تعلیم، تحقیق، نظم و ضبط اور صنعت پر توجہ دے کر اپنی معیشت کو دوبارہ مضبوط کیا۔ جرمنی نے نوجوانوں کو نظریاتی تعلیم کے ساتھ عملی تربیت فراہم کرنے کے لیے پیشہ ورانہ تربیتی نظام کو مضبوط بنایا، جس کے نتیجے میں صنعتوں کو تربیت یافتہ افرادی قوت اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئے۔ چین نے فنی تربیت، پیداوار اور صنعت کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا، جبکہ جنوبی کوریا نے تعلیم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور مہارتوں کو معاشی ترقی کے ساتھ جوڑا۔ ان ممالک کا تجربہ بتاتا ہے کہ اگر انسانی وسائل کو علم، تربیت اور درست حکمتِ عملی کے ذریعے مضبوط بنایا جائے تو محدود قدرتی وسائل کے باوجود ایک ملک عالمی معاشی طاقت بن سکتا ہے۔ ہمارے لیے ان مثالوں کا سبق یہ ہے کہ نوجوانوں کو صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ عملی زندگی میں ہنر اور مسلسل سیکھنے کے لیے بھی تیار کرنا ہوگا۔
آج جب دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، وہاں روایتی دستکاری، مشینی کام، الیکٹریشن، پلمبنگ اور دیگر فنی شعبوں کے ساتھ ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، ڈیٹا اینالیسس، سائبر سیکیورٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتیں روزگار کے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔ ایک لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ اور مناسب مہارت کے ذریعے کسی چھوٹے شہر یا گاؤں کا نوجوان بھی عالمی مارکیٹ سے منسلک ہو سکتا ہے۔ فری لانسنگ اور آن لائن خدمات کے ذریعے وہ پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک صارفین کے لیے کام کرکے آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے دور میں بہت سے کاموں کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مستقبل ان لوگوں کا ہے جو مسلسل سیکھنے، نئی مہارتیں حاصل کرنے اور ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے ہمارے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو ان کی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق فنی اور عملی مہارتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ ہر ضلع میں جدید ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیتی مراکز قائم کیے جائیں، جہاں مقامی صنعت اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے۔ ان اداروں کو صنعتوں کے ساتھ منسلک کرکے طلبہ کے لیے عملی تربیت اور انٹرن شپ کے مواقع پیدا کیے جائیں، تاکہ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود فاصلہ کم ہو سکے۔ فنی تربیت کو صرف سرٹیفکیٹ جاری کرنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کو آسان شرائط پر قرضے اور کاروباری رہنمائی بھی فراہم کی جائے۔ ایسی معاونت کے ذریعے نوجوان اپنا چھوٹا کاروبار شروع کر سکتے ہیں اور خود روزگار حاصل کرنے کے ساتھ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔ حکومت، تعلیمی اداروں اور صنعتوں کی مشترکہ کوششوں سے ایسا نظام قائم کیا جا سکتا ہے جس میں تعلیم اور تربیت سے لے کر روزگار تک نوجوانوں کی رہنمائی کی جائے۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر صرف روایتی پیشوں کا دباؤ ڈالنے کے بجائے ان کی دلچسپی، قابلیت اور صلاحیت کو سمجھیں۔ ہر بچے کے لیے یونیورسٹی کی ڈگری ہی کامیابی کا واحد راستہ نہیں؛ کسی میں کاروبار کی صلاحیت ہوتی ہے، کسی میں فنی ہنر اور کسی میں ٹیکنالوجی کا شوق اور قابلیت۔ اگر بچوں کو اپنی صلاحیت کے مطابق راستہ منتخب کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ زیادہ اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ معاشرے کو بھی محنت کرنے والے اور ہنرمند افراد کو عزت دینی چاہیے، کیونکہ ملک کی روزمرہ زندگی کی بہت سی ضروریات انہی ماہر ہاتھوں سے پوری ہوتی ہیں۔
پاکستان میں نوجوان آبادی کا ایک بڑا حصہ موجود ہے، جو اگر جدید تعلیم، فنی تربیت اور عملی تجربہ حاصل کرے تو ملک کے لیے قیمتی انسانی سرمایہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر نوجوانوں کو مناسب مہارت اور روزگار کے مواقع نہ ملے تو یہی آبادی بے روزگاری، غربت اور سماجی بے چینی کے مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سے نوجوان ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد برسوں تک سرکاری ملازمتوں کے منتظر رہتے ہیں، جبکہ ملازمتیں محدود اور امیدواروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس لیے نوجوانوں کو صرف ملازمت تلاش کرنے والا بنانے کے بجائے ایسی تربیت فراہم کرنا ضروری ہے جس کے ذریعے وہ اپنی صلاحیت کو روزگار اور کاروبار میں تبدیل کر سکیں۔ ایک ماہر الیکٹریشن، مکینک، کاریگر، ٹیکنیشن، ڈیزائنر یا پروگرامر اپنی خدمات کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کے ساتھ آگے چل کر دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمتِ عملی کی ہے جو علم کو مہارت سے، مہارت کو روزگار سے اور روزگار کو معاشی پیداوار سے جوڑ دے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو جدید علم، فنی تربیت، عملی تجربہ اور کاروباری مواقع فراہم کریں تو وہ صرف ملازمت کے امیدوار نہیں رہیں گے بلکہ ملک کی معاشی سرگرمیوں کے فعال کردار بن سکتے ہیں۔ اس سے صنعت کو تربیت یافتہ افرادی قوت ملے گی، کاروبار فروغ پائے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور خاندانوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔ قومیں صرف ڈگریاں تقسیم کرنے سے ترقی نہیں کرتیں؛ قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب علم رکھنے والے ذہن، ماہر ہاتھ اور محنت کرنے والے انسان اپنی صلاحیتوں کو قومی ترقی میں تبدیل کرتے ہیں۔
منصور نظامانی
استاد، تعلیمی محقق، کالم نگار











