ذرا رک کر اپنے دل سے پوچھیں، کیا واقعی عمر بڑھنے کے ساتھ ہم اتنے بے بس، بے کار اور تھکے ہوئے ہو جاتے ہیں یا ہم نے خود اپنے ذہن میں ایک ایسی دیوار کھڑی کر لی ہے جس کے پیچھے چھپ کر ہم کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں- زندگی کے ایک موڑ پر آ کر اکثر انسان لاشعوری طور پر یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اب میرا وقت گزر گیا، اب مجھ سے کچھ نہیں ہو گا، اب میں پہلے جیسا نہیں رہا۔ اور پھر یہ سوچ آہستہ آہستہ ہماری روزمرہ کی ہر حرکت میں شامل ہو جاتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ یادداشت کمزور ہو گئی ہے، جسم میں پہلے جیسی طاقت نہیں رہی، تھوڑا چلنے سے سانس پھول جاتا ہے، سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہے، کوئی چیز اٹھانے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں، جلدی تھک جاتے ہیں، چڑچڑاپن بڑھ گیا ہے اور اب ہر چھوٹے کام کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہونا پڑے گا۔ لیکن ٹھہریے، کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ یقیناً بیماری ایک حقیقت ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں۔ کسی کو گھٹنوں کا مسئلہ ہو سکتا ہے، کسی کو شوگر، بلڈ پریشر، دل سانس یا کوئی اور دائمی بیماری ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں مناسب علاج، دوا، پرہیز اور ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر گزارا نہیں۔ لیکن ایک بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بیماری ایک الگ چیز ہے اور ہر وقت خود کو بیمار، لاچار اور بے بس سمجھ کر جینا بالکل دوسری چیز ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ جب کسی تقریب، شادی، ملاقات یا عزیز کے گھر جاتے ہیں تو وہی انسان جو گھر میں “مجھ سے نہیں ہو گا” کہہ کر لیٹا ہوتا ہے، وہاں گھنٹوں ہنستا ہے، بولتا ہے، چلتا پھرتا ہے، بچوں سے کھیلتا ہے اور مہمانوں سے ملتا ہے۔ اس وقت نہ ٹانگوں کا درد یاد آتا ہے نہ تھکن کا بہانہ۔ لیکن جیسے ہی گھر کی دہلیز پار کرتے ہیں، اچانک جسم بھاری لگنے لگتا ہے، کبھی کمر درد، کبھی گھٹنوں کی شکایت، کبھی بے دلی اور کبھی یہ خیال کہ اب آرام ہی بہتر ہے۔ یہاں ہمیں اپنے جسم سے پہلے اپنے ذہن کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جسم نے جواب دے دیا ہے یا ہم نے خود اپنے ذہن کو یہ باور کروا دیا ہے کہ اب ہم کسی کام کے نہیں رہے؟ ہم لاشعوری طور پر روز خود سے چند جملے دہراتے ہیں۔ “مجھ سے نہیں ہوتا”، “میں نہیں کر سکتا”، “اب میری عمر ایسی نہیں رہی”، “میں تھک جاؤں گا”، “لوگ کیا کہیں گے”۔ یہ جملے بظاہر چھوٹے ہیں مگر زہر کی طرح آہستہ آہستہ ہمارے اندر اترتے ہیں۔ پہلے یہ سوچ بنتی ہے، پھر عادت، پھر رویہ اور آخر میں پوری زندگی اسی سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ ہم غیر ضروری طور پر بہت آہستہ چلنے لگتے ہیں حالانکہ چل سکتے ہیں، سیڑھیوں کو دیکھ کر ہی راستہ بدل لیتے ہیں، گھر کا ہلکا پھلکا کام بھی بیوی، بیٹے یا بیٹی کے ذمے لگا دیتے ہیں، بازار جانا ہو تو پہلے ہی کہہ دیتے ہیں میں نہیں جاؤں گا، کوئی چیز اٹھانی ہو تو ہاتھ بڑھانے سے پہلے انکار کر دیتے ہیں، زیادہ وقت کرسی پر یا بستر پر گزارتے ہیں اور جسم کو حرکت دینے سے جیسے ڈر لگنے لگتا ہے۔ اور پھر ایک دن واقعی وہی ہوتا ہے جس کا ہمیں ڈر تھا۔ جو کام کل تک آسان تھے وہ آج مشکل لگنے لگتے ہیں۔ پٹھے اکڑ جاتے ہیں، سانس چڑھنے لگتا ہے، توازن بگڑتا ہے اور ہم کہتے ہیں دیکھا عمر کا اثر ہے۔ درحقیقت یہ عمر کا اثر کم اور استعمال نہ کرنے کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ یہ ایک خاموش اور خطرناک چکر ہے۔ ہم جسم کو کم استعمال کرتے ہیں، جسم کی صلاحیت گھٹتی محسوس ہوتی ہے، ہم اسے بڑھاپے یا بیماری کا نام دے دیتے ہیں، اور پھر مزید کام چھوڑ دیتے ہیں۔ یوں انسان آہستہ آہستہ خود اپنی بنائی ہوئی محدود، چھوٹی اور اداس زندگی میں قید ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عمر کا بڑھنا زندگی کے ختم ہونے کا نام نہیں۔ یہ زندگی کا ایک نیا باب ہے۔ انسان کی قدر اس کے عہدے، بینک بیلنس، گھر کی بڑائی یا ماضی کی کامیابیوں سے نہیں ہوتی۔ انسان کی اصل قدر اس بات سے ہے کہ وہ آج اپنے وجود سے، اپنے علم سے، اپنے وقت سے اور اپنے تجربے سے دوسروں کے لیے کتنی روشنی پیدا کر رہا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ چونکہ اب وہ پہلے جیسا کاروبار نہیں کر رہے، نوکری نہیں کر رہے یا اتنی دوڑ دھوپ نہیں کر سکتے تو ان کی اہمیت ختم ہو گئی۔ یہ سوچ سراسر غلط ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کے پاس اب پیسہ کم ہو لیکن حکمت زیادہ ہو۔ ہو سکتا ہے آپ کے بازو کمزور ہوں لیکن آپ کا مشورہ ہزاروں کے کام آ جائے۔ کسی کے پاس زندگی کا لمبا تجربہ ہے، کسی کے پاس کوئی ہنر ہے، کسی کے پاس پڑھانے کی صلاحیت ہے، کسی کے پاس سننے کا ظرف ہے، کسی کے پاس دعا دینے والا دل ہے اور کسی کے پاس صرف اتنا وقت ہے کہ وہ کسی اکیلے انسان کے ساتھ بیٹھ کر اس کی بات سن لے۔ یہ سب نعمتیں ہیں اور ان سب کی معاشرے کو ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ دوسروں کے کام آنا صرف نوٹ خرچ کرنے کا نام نہیں۔ کسی بچے کو دو سطر پڑھا دینا، کسی نوجوان کو کوئی ہنر یا کوئی چھوٹا کاروبار سکھا دینا، کسی ضرورت مند کو صحیح راستہ دکھا دینا، کسی بیمار کی تیمارداری کر لینا، کسی بیوہ یا یتیم کا حال پوچھ لینا، کسی مایوس شخص کو ایک امید کا جملہ کہہ دینا، کسی نئے جوڑے کو زندگی گزارنے کا طریقہ سمجھا دینا، یہ سب وہ سرمایہ ہیں جو مرنے کے بعد بھی ہمارے ساتھ جاتے ہیں۔ ممکن ہے آپ کا لکھا ہوا ایک خط کسی کو خودکشی سے بچا لے۔ ممکن ہے آپ کا دیا ہوا ایک مشورہ کسی کی نوکری بچا لے۔ ممکن ہے آپ کا سکھایا ہوا ایک ہنر کسی گھر کا چولہا جلا دے۔ ممکن ہے آپ کی ایک دعا کسی کی تقدیر بدل دے۔ یہی وہ کام ہیں جو صدقہ جاریہ بنتے ہیں۔
اس لیے گزارش ہے کہ خود کو بیکار، بوجھ اور غیر ضروری کہنا بند کر دیجیے۔ اگر ڈاکٹر نے منع نہیں کیا تو روز تھوڑی واک کریں، گھر کے چھوٹے کام خود کریں، سیڑھیاں آہستہ سہی مگر خود چڑھیں، چیز خود اٹھائیں، دماغ کو خالی نہ چھوڑیں، کوئی کتاب پڑھیں، قرآن کی تلاوت کریں، کوئی نئی چیز سیکھیں، موبائل چلانا سیکھیں، پوتے پوتیوں کو کہانی سنائیں، دوستوں سے ملیں، ہنسیں، مسکرائیں اور اپنی زندگی میں مقصد ڈھونڈیں۔ اور ہاں اگر کوئی حقیقی بیماری ہے تو اسے نظر انداز ہرگز نہ کریں۔ علاج کروائیں، دوا وقت پر لیں، پرہیز کریں، لیکن اس کے ساتھ اپنی باقی تمام صلاحیتوں کو بھی استعمال میں لائیں۔ مقصد دوا چھوڑنا نہیں ہے، مقصد یہ ہے کہ جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خوف، سستی، مایوسی اور منفی سوچ کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی دوا نہ بننے دیں۔ آج ایک عہد کریں کہ اپنی زبان سے “مجھ سے نہیں ہوتا” والا جملہ ہمیشہ کے لیے نکال دیں گے۔ اس کی جگہ یہ کہیں گے “میں اپنی استطاعت کے مطابق ضرور کوش کروں گا”۔ ہو سکتا ہے آپ پہلے جیسے تیز نہ بھاگ سکیں مگر چل تو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے پہلے جتنا وزن نہ اٹھا سکیں مگر ایک تھیلا تو خود اٹھا سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے دن بھر کام نہ کر سکیں مگر دو گھنٹے تو ضرور کارآمد کام کر سکتے ہیں۔ زندگی کا خوبصورت اور سادہ اصول یہی ہے۔ جسم کو حرکت دیں گے تو وہ ساتھ دے گا۔ دماغ کو کام دیں گے تو وہ تیز رہے گا۔ دل کو مقصد دیں گے تو وہ خوش رہے گا۔ اس لیے عمر کے کسی بھی حصے میں اپنے آپ کو فارغ، ریٹائرڈ یا ختم شدہ انسان نہ سمجھیں۔ ہو سکتا ہے آپ کی جسمانی رفتار تھوڑی کم ہو گئی ہو مگر آپ کی سمجھ، آپ کی بصیرت، آپ کی دعا اور آپ کا تجربہ پہلے سے کئی گنا زیادہ قیمتی ہو گیا ہے۔
آپ کے پاس اب دوسروں کے لیے فائدہ مند بننے کے ہزار مواقع ہیں۔ اٹھیے، وضو کیجیے، نماز کے بعد تھوڑی واک کیجیے، گھر والوں کے چھوٹے کاموں میں ہاتھ بٹائیے، محلے کے بچوں کو کچھ سکھائیے، کسی بزرگ کا حال پوچھ لیجیے، کسی نوجوان کو غلط راستے سے بچائیے، اپنے علم کو کتاب، تحریر یا گفتگو کی شکل میں آگے منتقل کیجیے۔ زندگی کو صرف سانس لینے اور وقت گزارنے کا نام نہ دیں۔ اسے کسی کے کام آنے، کسی کا درد بانٹنے اور کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کا نام دیں۔ آخرکار تاریخ یہ نہیں پوچھے گی کہ آپ کتنے سال جیے، تاریخ یہ پوچھے گی کہ آپ کے جینے سے کتنے لوگوں کی زندگی آسان ہوئی، کتنے لوگوں کو امید ملی، کتنے لوگوں کو سہارا ملا۔ اور شاید زندگی کا سب سے خوبصورت، سب سے پُر سکون اور سب سے بابرکت حصہ وہی ہے جب انسان اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیادہ جینا شروع کر دیتا ہے۔
9











