6

آوازِ صحافت کے تین ساتھی — الیاس اعوان، فائزہ شاہ کاظمی اور جاوید اقبال بٹ تحریر: جاوید اقبال بٹ

صحافت محض روزگار نہیں، یہ ایک ذمہ داری، ایک نظریہ اور معاشرے کی نبض کو محسوس کرنے کا نام ہے۔ صحافی اپنے قلم کے ذریعے ان لوگوں کی آواز بنتا ہے جن کی آواز اکثر اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ اسی مشکل اور کٹھن سفر میں کچھ ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو صرف صحافتی ساتھی نہیں رہتے بلکہ دوستی، اعتماد اور خلوص کے خوبصورت رشتے میں بندھ جاتے ہیں۔
میرے صحافتی سفر میں بھی ایسی کئی شخصیات سے تعلق رہا ہے، مگر الیاس اعوان کشمیری اور فائزہ شاہ کاظمی ان ساتھیوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
الیاس اعوان کشمیری ایک سینئر صحافی، کالم نگار اور آواز پاکستان کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔ ان کی شخصیت میں صحافی اور قلم کار دونوں پہلو نمایاں ہیں۔ وہ حالات و واقعات کو صرف خبر کی نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ ان کے پس منظر، معاشرتی اثرات اور عوامی پہلو کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی خوبی ایک صحافی کو محض رپورٹر سے صاحبِ قلم بناتی ہے۔
الیاس اعوان کے ساتھ میرا تعلق صرف صحافت تک محدود نہیں۔ وہ میرے اچھے صحافتی دوست ہیں۔ صحافت کے نشیب و فراز، حالات کی تبدیلیاں، پیشہ ورانہ مشکلات اور زندگی کے مختلف معاملات پر ہماری گفتگو ہمارے تعلق کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ میرے نزدیک ایسی دوستی کسی اعزاز سے کم نہیں جس کی بنیاد مفاد نہیں بلکہ خلوص اور احترام ہو۔
دوسری جانب فائزہ شاہ کاظمی اسلام آباد کی معروف صحافتی شخصیت ہیں اور آواز پاکستان سے وابستہ ہیں۔ اسلام آباد جیسے شہر کے صحافتی مرکز میں رپورٹنگ کرنا اپنے اندر ایک بڑی ذمہ داری رکھتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں، سیاسی سرگرمیوں اور قومی معاملات کو قریب سے دیکھتے ہوئے عوام تک درست معلومات پہنچانا ایک تجربہ کار صحافی ہی کا کام ہے۔
فائزہ شاہ کاظمی کی صحافتی شناخت اس بات کی عکاس ہے کہ خواتین صحافی بھی پاکستان کے صحافتی میدان میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی صحافتی سرگرمیاں اور میڈیا سے وابستگی اس شعبے میں خواتین کی مضبوط نمائندگی کا خوبصورت مظہر ہیں۔
اور پھر بات آتی ہے میری اپنی صحافتی رفاقت کی۔ میں نے بھی اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قلم اور خبر کے نام کیا ہے۔ اسلام گڑھ اور آزاد کشمیر کے مقامی مسائل، عوامی مشکلات، سیاسی و سماجی معاملات اور اپنے خطے کی آواز کو اجاگر کرنا میرے صحافتی سفر کا بنیادی مقصد رہا ہے۔
ہم تینوں کا تعلق مختلف جگہوں اور مختلف صحافتی تجربات سے ہو سکتا ہے، لیکن ایک چیز ہمیں آپس میں جوڑتی ہے: صحافت سے محبت۔
الیاس اعوان کا قلم ہو، فائزہ شاہ کاظمی کی اسلام آباد سے رپورٹنگ ہو یا میری آزاد کشمیر سے عوامی مسائل کی ترجمانی—ہم سب اپنے اپنے دائرے میں صحافت کی خدمت کی کوشش کر رہے ہیں۔
آج کے دور میں جب صحافت کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، صحافیوں کے درمیان باہمی احترام، اتحاد اور دوستی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ اختلافِ رائے صحافت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کرنا صحافتی اخلاقیات کا تقاضا ہے۔
میرے لیے الیاس اعوان کشمیری اور فائزہ شاہ کاظمی صرف آواز پاکستان سے وابستہ صحافتی ساتھی نہیں، بلکہ ایسے رفقائے صحافت ہیں جن کے ساتھ تعلق کو میں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا:
قلم الگ الگ ہوں تو بھی منزل ایک ہو سکتی ہے،
آوازیں مختلف ہوں تو بھی پیغام ایک ہو سکتا ہے،
اور صحافی الگ الگ شہروں میں ہوں تو بھی دوستی ایک دل میں زندہ رہ سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے قلم کو ہمیشہ حق اور سچ لکھنے کی توفیق دے اور ہماری صحافتی رفاقت کو خلوص، احترام اور اعتماد کے ساتھ قائم رکھے۔
یہی دوستی ہے، یہی صحافت ہے، اور یہی “آواز” ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں