پہاڑ بظاہر خاموش ہوتے ہیں، مگر جب ان کے سینے میں جمع برف پگھلنے لگے، گلیشیئرز تیزی سے سکڑنے لگیں اور برفانی جھیلوں میں پانی خطرناک حد تک بڑھ جائے تو یہی خاموش پہاڑ اچانک ایک ایسی چیخ میں بدل جاتے ہیں، جو انسانی بستیوں کی بنیادیں تک ہلا دیتی ہے۔ نیپال میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب نے بھی دنیا کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پانی کے طاقت ور ریلے نے راستے میں آنے والی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لیا اور قیمتی انسانی جانوں اور انفراسٹرکچر کا ضیاع ہوا۔ پیچھے رہ گئیں تباہ شدہ عمارتیں، اجڑے گھر اور ان خاندانوں کی درد بھری داستانیں، جن کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی۔
اس سانحے کو محض ایک سیلاب کہہ کر گزر جانا شاید اس المیے کی اصل گہرائی کو سمجھنے سے انکار ہو گا۔ ہمالیائی خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل محسوس کیے جا رہے ہیں۔ عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھی ہے، جب کہ برفانی علاقوں میں بننے والی گلیشیائی جھیلیں بھی ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہیں۔ ایسی جھیلوں میں پانی کی سطح اچانک بڑھ جائے اور قدرتی بند کم زور پڑ جائے تو پانی ایک دم نیچے کی جانب بہہ سکتا ہے، جس سے چند ہی لمحوں میں تباہ کن سیلابی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔
نیپال جیسے پہاڑی ملک میں یہ خطرہ مزید سنگین ہے۔ یہاں بلند پہاڑ، گلیشیئرز، برفانی جھیلیں، تنگ وادیاں اور تیز بہاؤ والے دریائی راستے ایک ایسا قدرتی نظام تشکیل دیتے ہیں، جہاں معمولی تبدیلی بھی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس نازک توازن کو مزید متاثر کیا ہے۔ برفانی دنیا جس رفتار سے بدل رہی ہے، وہ صرف ماہرینِ ماحولیات کے لیے تشویش کا باعث نہیں، بل کہ ان لاکھوں انسانوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے، جو پہاڑی وادیوں اور دریاؤں کے کناروں پر آباد ہیں۔
مگر یہاں ایک تلخ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ کیا اس تباہی کی تمام ذمہ داری قدرت پر ڈال دینا کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی خطرات میں اضافہ کرتی ہے، مگر انسانی غفلت ان خطرات کو تباہی میں بدل دیتی ہے۔ دنیا بھر میں ہم نے دریاؤں کے قدرتی راستے تنگ کیے، ندی نالوں کے کناروں پر تعمیرات کیں، پہاڑی ڈھلوانوں کو کاٹا، جنگلات کو ختم کیا اور ایسی جگہوں پر بستیاں آباد کر دیں، جہاں قدرت نے شاید کبھی انسان کو مستقل قیام کی اجازت ہی نہیں دی تھی۔ یوں قدرتی خطرات کے سامنے ہماری اپنی کم زوریاں بھی تباہی کی شدت بڑھانے لگتی ہیں۔
پانی کی اپنی یادداشت ہوتی ہے۔ وہ اپنا راستہ نہیں بھولتا۔ ہم راستے میں گھر بنا سکتے ہیں، دیواریں کھڑی کر سکتے ہیں، سڑکیں تعمیر کر سکتے ہیں، مگر جب پہاڑوں سے آنے والا پانی اپنے اصل راستے کی طرف لوٹتا ہے تو اسے ہماری عمارتوں، خواہشات اور منصوبوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو توڑتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی گزرگاہوں کے کناروں پر غیر منصوبہ بند آبادکاری مستقبل کی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
نیپال کا سانحہ ہمیں اسی انسانی غلطی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ خوب صورت وادیوں، دریاؤں اور پہاڑی علاقوں میں رہائش اور سیاحت بلاشبہ دل کش ہے، مگر قدرتی خطرات کو نظر انداز کرکے ان مقامات پر بے ہنگم آبادکاری ایک خاموش خود کشی کے مترادف ہے۔ دریا کے کنارے گھر بنانا، برساتی نالوں کو تعمیرات میں شامل کرنا، پانی کی گزرگاہوں کو بند کرنا اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قدرتی توازن کو بگاڑنا ترقی نہیں، بل کہ آنے والی تباہی کی بنیاد رکھنا ہے۔
یہ سوال صرف نیپال تک محدود نہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقے بھی اسی ہمالیائی اور قراقرمی ماحولیاتی نظام کا حصہ ہیں۔ ہمارے پہاڑوں پر موجود گلیشیئرز، برفانی جھیلیں اور وادیاں بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ گلگت بلتستان، خیبر پختون خوا اور دیگر پہاڑی علاقوں میں اگر ہم نے بے ہنگم تعمیرات، دریاؤں کے کناروں پر آبادکاری اور قدرتی نالوں میں مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا تو کسی بھی غیر معمولی موسمی واقعے کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ نیپال کا واقعہ ہمارے لیے بھی ایک واضح انتباہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں صرف سانحے کے بعد امدادی کارروائیوں تک محدود نہ رہیں۔ خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی، جدید موسمیاتی پیش گوئی، بروقت وارننگ سسٹم، محفوظ مقامات کی نشان دہی اور ہنگامی انخلا کے مؤثر منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں تعمیرات کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں اور دریاؤں، نالوں اور قدرتی گزرگاہوں پر تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر خوب صورت وادی رہائش کے لیے محفوظ نہیں اور ہر دریا کا کنارہ گھر بنانے کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔
نیپال میں بہنے والا پانی ہمیں صرف ایک سانحے کی داستان نہیں سنا رہا، بل کہ مستقبل کا آئینہ بھی دکھا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں رہی، بل کہ ہمارے سامنے موجود ایک تلخ حقیقت ہے۔ قدرت کو شکست دینا انسان کے اختیار میں نہیں، مگر قدرتی خطرے کو انسانی المیے میں تبدیل ہونے سے روکنا ضرور ہمارے اختیار میں ہے۔ اگر ہم نے دریا کے راستے میں گھر بنائے، پہاڑوں کے دامن میں خطرناک بستیاں آباد کیں اور قدرتی نظام کو مسلسل چھیڑا تو ہر تباہی کے بعد صرف قدرت کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں ہو گا۔
ہمیں اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم دریا کے راستے میں دیوار بنیں گے یا پانی کے راستے کو سمجھ کر اپنی بستیوں کو محفوظ بنائیں گے۔ ہم پہاڑوں کی خاموشی کو معمول سمجھیں گے یا اس میں چھپی وارننگ سنیں گے۔ کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی صرف موسم نہیں بدل رہی، یہ ہماری زندگی، ہماری بستیاں اور ہمارے مستقبل کے نقشے بھی بدل رہی ہے۔ نیپال کے پہاڑوں سے اٹھنے والی یہ صدا ہمیں پکار رہی ہے کہ وقت رہتے سنبھل جاؤ۔ اگر ہم نے آج قدرت کے اشاروں کو نظر انداز کیا تو کل سیلاب صرف دروازہ نہیں کھٹکھٹائے گا، شاید دروازہ ہی باقی نہ رہے۔
5











