127

نومنتخب وزیراعظم آزادکشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی نے حلف اٹھا لیا

مظفرآباد ( خبرنگار )پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما بیرسٹر افتخار علی گیلانی نے آزاد جموں و کشمیر کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ افتخار گیلانی نے جمعے کو قائد ایوان کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 30 جب کہ ان کے مدِمقابل پیپلزپارٹی کے امیدوار مختارعباسی نے 14 ووٹ حاصل کیے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد جموں و کشمیر کا وزیرِاعظم منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد جمو و کشمیر میں جمہوری عمل کا تسلسل خوش آئند ہے۔آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس جمعے کو اسپیکر چوہدری طارق فاروق کی صدارت میں ہوا جس میں قائدِ ایوان کے انتخاب کا عمل مکمل کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے بیرسٹر افتخار گیلانی جب کہ پیپلزپارٹی نے سردار مختار عباسی کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے اسپیکر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کے قائدِ ایوان منتخب ہونے کا اعلان کیا۔واضح رہے کہ انتخاب میں کامیابی کے لیے کسی بھی امیدوار کو 27 ووٹ درکار تھے۔ ووٹنگ کے دوران افتخار گیلانی نے مطلوبہ تعداد سے 3 ووٹ زیادہ حاصل کیے اور آزاد جموں و کشمیر کے 17 ویں وزیرِاعظم منتخب ہوگئے۔افتخار گیلانی ن لیگ کی جانب سے ٹیکنوکریٹ نشست پر قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنے ہیں۔بیرسٹر افتخار گیلانی اس سے قبل بھی آزاد کشمیر کی سیاست میں فعال کردار ادا کرچکے ہیں۔ وہ 2011 اور 2016 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے جب کہ 2016 کے بعد انہیں آزاد کشمیر کابینہ میں وزیرِ تعلیم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔اس سے قبل عام انتخابات میں وہ مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 29 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے، تاہم انتخابات میں انہیں پیپلزپارٹی کے مختار عباسی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔خیال رہے کہ افتخار گیلانی حالیہ انتخابات میں ٹیکنوکریٹ نشست پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔بیرسٹر افتخار گیلانی پہلی بار 2011 میں منتخب ہو کر آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پہنچے تھے، افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم بھی رہ چکے ہیں۔ نومنتخب وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر محض زمین کے ٹکڑے کا مسئلہ نہیں، مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوگا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب افتخار گیلانی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی دہشت گردی اور 5 اگست 2019 کے بھارتی جبری اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں، قائداعظم کا یہ قول سنتے سنتے یہاں تک پہنچے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پاکستان کشمیر کے بغیر اور کشمیر پاکستان کے بغیر ادھورا ہے۔نومنتخب وزیراعظم کا افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سرحدوں پر چوکس کھڑے جوانوں کی وجہ سے ہم چین سے سوتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔افتخار گیلانی نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ بھارت کے دانت کھٹے ہوئے، فیلڈ مارشل کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آج ہر کشمیری کا سینہ چوڑا ہے، کشمیریوں کے لیے مضبوط پاکستان ہی ہماری آزادی کی ضمانت ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اس وقت مشکل وقت سے گزر رہا ہے، دو اضلاع میں انتخابات نہیں ہوئے، بہت جلد سدھنوتی اور پونچھ میں الیکشن ہوں گے، جبکہ یہ ایوان 7 نشستوں کے بغیر ادھورا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ مہنگائی، روزگار اور نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے، حکومت کو ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا، صرف تقریروں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پنجاب میں تعمیر و ترقی کے ماڈل کو دنیا میں سراہا جاتا ہے، خواہش ہے کہ اسی طرح کا ماڈل آزاد کشمیر میں بھی بنائیں۔افتخار گیلانی کا کہنا تھا کہ حکومت میں تقرریوں کا نظام شفاف ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ ن نے 2016 سے 2021 تک جو میرٹ قائم کیا تھا، اسے آگے بڑھایا جائے گا۔ زراعت، لائیو اسٹاک اور سیاحت آزاد کشمیر کے اہم شعبے ہیں، انہیں مزید ترقی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام کے تحت روزگار کے مواقع بڑھائیں گے، آنے والے چند سالوں میں ملازمتوں کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، ہمیں نئی ٹیکنالوجی اور جدید طریقے اپنانے ہوں گے تاکہ روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جاسکے۔نومنتخب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں مزید اصلاحات لائی جائیں گی تاکہ عوام کا اعتماد بڑھے، جبکہ صحت کا نظام بہتر بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ لوگوں کو علاج کے لیے دوسرے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ چند دنوں میں کابینہ تشکیل دی جائے گی۔افتخار گیلانی نے بیوروکریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی نظام کی خامیوں کی نشاندہی کرنا ہوگی۔ ایوان سے وعدہ کرتا ہوں کہ نہ خود آرام سے بیٹھوں گا اور نہ اپنی ٹیم کو بیٹھنے دوں گا۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ خامیوں کی نشاندہی کرکے پٹواری کلچر اور تھانے کے کلچر کو جدید بنائیں گے تاکہ کسی شہری کو کسی کی سفارش کی ضرورت نہ پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں