آزاد جموں و کشمیر میں بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا وزیراعظم کے منصب کے لیے انتخاب بظاہر ایک سیاسی فیصلہ ہے، لیکن اس کے پس منظر میں موجودہ سیاسی حالات کو دیکھا جائے تو اس کے اندر ایک واضح سیاسی حکمتِ عملی بھی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کئی سینئر اور تجربہ کار سیاست دانوں کی موجودگی میں ایک نسبتاً نوجوان رہنما کا انتخاب کیوں کیا؟ کیا یہ محض پارٹی کے اندرونی فیصلے کا نتیجہ ہے یا مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ آزاد کشمیر کو اب روایتی طرزِ سیاست سے ہٹ کر ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو تیزی سے فیصلے کر سکے، میرٹ کو ترجیح دے، بیوروکریسی کو جواب دہ بنائے اور براہِ راست عوام کے درمیان جائے؟ موجودہ حالات میں یہ سوال خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
آزاد کشمیر گزشتہ کئی برسوں سے گورننس کے مسائل، سیاسی قیادت اور عام آدمی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، بیوروکریسی کی پیچیدگیوں اور عوامی مسائل کے بروقت حل نہ ہونے جیسے چیلنجز سے دوچار رہا ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی مقبولیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی احتجاجی سیاست کو بھی اسی عوامی بے چینی کی ایک علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ جب عام شہری کو یہ محسوس ہونے لگے کہ حکومت، سیاست دان اور سرکاری افسران اس کی مشکلات سے دور ہیں تو پھر سیاسی نظام کے خلاف ردعمل پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ایسے ماحول میں کسی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔
ممکنہ طور پر یہی وہ پس منظر ہے جس میں بیرسٹر افتخار علی گیلانی کا انتخاب اہم دکھائی دیتا ہے۔ ان کا قانونی پس منظر، نسبتاً نوجوان عمر اور سابقہ وزارتِ تعلیم کا تجربہ انہیں ایک مختلف سیاسی پروفائل فراہم کرتا ہے۔ وزیر تعلیم کی حیثیت سے ان کے دور میں محکمہ تعلیم میں اصلاحات اور میرٹ پر بھرتیوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS) کے نظام کے نفاذ کو ان کی انتظامی کارکردگی کے نمایاں اقدامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر ایک وزیر تعلیم کے طور پر وہ میرٹ اور نظام میں تبدیلی کی طرف قدم اٹھا سکتے تھے تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ وسیع تر حکومتی ذمہ داری میں بھی اسی طرزِ عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم سیاسی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا مسلم لیگ (ن) نے اس فیصلے کے ذریعے اپنے بزرگ اور روایتی سیاست دانوں کو نظرانداز کیا ہے؟ اس کا حتمی جواب تو پارٹی قیادت ہی دے سکتی ہے، لیکن سیاسی طور پر اس فیصلے کو اس سوچ کے تناظر میں ضرور دیکھا جا سکتا ہے کہ شاید اب محض طویل سیاسی تجربہ کافی نہیں، بلکہ حکومت چلانے کے لیے رفتار، انتظامی صلاحیت، جدید سوچ اور عوام سے براہِ راست رابطہ بھی ضروری ہے۔ ممکن ہے مسلم لیگ (ن) کی قیادت یہ سمجھتی ہو کہ ماضی کے روایتی اندازِ حکمرانی سے آزاد کشمیر کے موجودہ مسائل پوری طرح حل نہیں ہو سکتے اور اب ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو پرانے سیاسی طریقۂ کار سے ہٹ کر نتائج دینے کی کوشش کرے۔
اس فیصلے کا ایک اہم پہلو پنجاب ماڈل بھی ہو سکتا ہے۔ پنجاب میں مریم نواز کی حکومت جس انداز میں انتظامی اقدامات، عوامی سہولت کے منصوبوں، ڈیجیٹل سروسز، صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر شعبوں میں تیز رفتاری سے اقدامات کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ممکن ہے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اسی نوعیت کی کارکردگی آزاد کشمیر میں بھی دیکھنا چاہتی ہو۔ تاہم آزاد کشمیر کے حالات، مالی وسائل اور آئینی و انتظامی ڈھانچہ پنجاب سے مختلف ہیں، اس لیے یہاں کسی بھی ماڈل کو جوں کا توں نافذ کرنے کے بجائے مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اس کے باوجود بنیادی تصور ایک ہی ہے: حکومت نظر آئے، فیصلے بروقت ہوں اور عام آدمی کو سرکاری نظام سے ریلیف ملے۔
افتخار گیلانی کے انتخاب میں ایک سیاسی پیغام یہ بھی پڑھا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں صرف حکومت بنانا نہیں بلکہ اپنی سیاسی ساکھ دوبارہ مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر سیاسی قوتوں کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کو اگر اپنی جگہ مضبوط رکھنی ہے تو اسے کارکردگی دکھانا ہوگی۔ صرف روایتی سیاسی اتحاد، برادریوں اور شخصیات کے سہارے طویل عرصے تک سیاست نہیں چل سکتی۔ آج کا ووٹر یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے علاقے میں سڑک کب بنے گی، بجلی کا مسئلہ کب حل ہوگا، ہسپتال میں سہولت کب ملے گی، نوجوان کو روزگار کے مواقع کب ملیں گے اور سرکاری دفتر میں اس کا کام رشوت یا سفارش کے بغیر کب ہوگا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے بھی حکومت کے لیے یہی سب سے بڑا امتحان ہے۔ کسی تحریک کی مقبولیت کو محض سیاسی طریقوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا؛ اس کا بہترین جواب اچھی حکمرانی، عوامی مسائل کا حل اور لوگوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ ہے۔ اگر نئی حکومت عوام کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو جائے کہ وزیراعظم، وزراء اور بیوروکریسی ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے موجود ہیں، تو ممکن ہے عوامی بے چینی میں کمی آئے اور حکومت پر اعتماد بحال ہو۔
افتخار گیلانی کے حوالے سے ایک مثبت تاثر ان کا قانونی پس منظر اور سابقہ انتظامی تجربہ بھی ہے، جبکہ سیاسی طور پر ان کی شخصیت کے بارے میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ میرٹ، شفافیت اور بہتر گورننس کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی رہنما کے بارے میں کرپشن سے پاک ہونے یا مکمل طور پر بے داغ کردار کا حتمی فیصلہ صرف عملی کارکردگی، شفافیت اور احتساب کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اب ان کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ان کا انتخاب محض سیاسی مصلحت نہیں بلکہ آزاد کشمیر میں طرزِ حکمرانی تبدیل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
بیرسٹر افتخار علی گیلانی کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ اگر وہ برادری ازم، اقربا پروری اور روایتی سیاسی تقسیم سے اوپر اٹھ کر میرٹ کو بنیاد بناتے ہیں، بیوروکریسی کو عوام کے سامنے جواب دہ کرتے ہیں، نوجوانوں کو آگے لاتے ہیں، ترقیاتی منصوبوں میں رفتار پیدا کرتے ہیں اور عام شہری کو براہِ راست ریلیف دیتے ہیں تو ان کی حکومت نہ صرف مسلم لیگ (ن) کے لیے سیاسی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے بلکہ آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز بھی کر سکتی ہے۔ شاید یہی وہ بنیادی سوچ ہے جس کے تحت ایک نسبتاً نوجوان قیادت کو بزرگ اور روایتی سیاسی چہروں پر ترجیح دی گئی ہے: اب آزاد کشمیر کو صرف تجربہ کار سیاست نہیں، بلکہ تجربے کے ساتھ رفتار، میرٹ، انتظامی صلاحیت اور عوام سے براہِ راست جڑی ہوئی حکمرانی بھی درکار ہے۔ وقت بتائے گا کہ افتخار گیلانی اس توقع پر کس حد تک پورا اترتے ہیں، لیکن ان کی نامزدگی نے کم از کم یہ بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ کیا آزاد کشمیر کی سیاست واقعی ایک نئی نسل اور نئے طرزِ حکمرانی کی طرف بڑھ رہی ہے؟











