10

ہم اتنے دور کیوں ہو گئے کہ اپنی اولادیں بھی ایک دوسرے کو پہچاننے سے قاصر ہیں؟

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ آخر ہم ایک دوسرے سے اتنے دور کیوں ہو گئے ہیں؟
وہ رشتے جو کبھی خون سے جڑے تھے، جن کے درمیان ہنسی، مذاق، محبت، اپنائیت اور بے شمار خوبصورت یادیں تھیں، آج وہی رشتے چھوٹی چھوٹی باتوں، انا، ضد اور ناراضگی کی نذر ہو گئے ہیں۔
کسی نے ایک بات کہہ دی، کسی نے جواب دے دیا، کسی کا دل دکھ گیا، اور پھر خاموشی نے ایسا گھر کیا کہ برسوں گزر گئے، مگر ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا بھی گوارا نہ رہا۔
افسوس تو اس بات کا ھے کہ ہم اپنی خوبصورت جوانیاں ایک دوسرے سے ناراضگی میں گزار دیتے ہیں۔
وہ وقت جو بھائیوں، بہنوں، کزنز اور اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر ہنسنے، ملنے مذاق کرنے اور محبتیں بانٹنے میں گزرنا چاہیے تھا، ہم اسے نفرتوں، شکووں اور فاصلے بڑھانے میں گزار دیتے ہیں۔
پھر وقت گزرتا ھے
شادیوں کے بعد گھر آباد ہوتے ہیں، بچے پیدا ہوتے ہیں، نئی نسلیں جوان ہونے لگتی ہیں، مگر ہمارے دلوں کی پرانی ناراضگیاں ختم نہیں ہوتیں۔
اور پھر ایک دن ایسا بھی آتا ھے کہ خون کے رشتوں کی اگلی نسل ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جاتی ھے۔
گزشتہ دنوں ایک چھوٹے سے شہر میں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جس نے میرے دل کو اندر تک توڑ دیا۔
دو معصوم بچے دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے۔
ایک بچے نے سلام کرنے کے لیے اپنا ننھا سا ہاتھ آگے بڑھایا اور توتلی زبان میں پوچھا:
“آپ الیاس انکل ہو؟”
میں نے مسکرا کر کہا:
“جی بیٹا، میں الیاس ہوں۔ آپ کا نام کیا ھے؟ آپ کے ابو کا نام کیا ھے ؟”
اس معصوم نے جب اپنے ابو کا نام بتایا تو جیسے اچانک میرے الفاظ ختم ہو گئے۔میری زبان نے میرا ساتھ چھوڑ دیا۔میں نے اس معصوم بچے کو اپنے سینے سے لگایا، اس کے سر پر بوسہ دیا، مگر اندر سے میری روح رو رہی تھی۔
میں سوچ رہا تھا…
اے معصوم بچے! ہم تم سے شرمندہ ہیں ہم بڑے اپنی انا، اپنی ضد اور اپنی ناراضگیوں میں اتنے آگے نکل گئے کہ تمہاری نسل اپنے ہی خون کے رشتوں کو پہچاننے سے محروم ہو گئی۔
اس معصوم کا کیا قصور تھا؟
اس نے تو دنیا میں آتے ہی کسی سے نفرت نہیں سیکھی تھی۔
اس نے تو کسی سے ناراضگی نہیں کی تھی۔اس نے تو کسی کا دل نہیں دکھایا تھا۔پھر اسے اپنے ہی خون کے رشتوں سے کیوں محروم کر دیا گیا؟
قصور اس بچے کا نہیں تھا قصور ہمارا تھا۔
ہم بڑوں نے اپنے دلوں میں ناراضگیوں کے ایسے بیج بوئے کہ ان کی فصل ہماری اولادیں کاٹ رہی ہیں۔
ہم نے ایک دوسرے سے بات کرنا چھوڑ دی، تو ہماری اولادوں نے ایک دوسرے کو جاننا چھوڑ دیا۔
ہم نے ایک دوسرے کے گھروں میں جانا چھوڑ دیا، تو ہماری اولادیں ایک دوسرے کے گھروں سے ناواقف ہو گئیں۔
ہم نے رشتے توڑنے کی سزا شاید خود کو دینی تھی، مگر سزا ان معصوم بچوں کو مل گئی۔
ذرا سوچیں…
اگر ہم نے ایک دوسرے سے نفرت ہی کرنی تھی تو اپنی اولادوں کے سامنے رشتوں کی کہانیاں کیوں سنائیں؟
اگر ملنا ہی نہیں تھا تو انہیں یہ کیوں بتایا کہ فلاں تمہارا چچا ھے، فلاں تمہاری پھوپھی ھے، فلاں تمہارا ماموں ھے، فلاں تمہارا کزن ھے؟
ان معصوموں کو رشتوں کے نام دے کر پھر ان رشتوں سے دور کر دینا بھی تو ایک ظلم ھے۔
وقت بہت تیزی سے گزر رہا ھے۔آج ہم جوان ہیں، کل ہماری تصویریں دیواروں پر ہوں گی۔آج ہمارے پاس ایک دوسرے کو گلے لگانے کا موقع ھے، کل شاید صرف قبریں ہوں گی اور پچھتاوے۔
اس لیے اگر کسی اپنے سے ناراضگی ھے تو ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں۔
فون اٹھائیں کال ملاہیں سلام کریں۔اور گلے لگ جائیں۔
اور اگر قصور اپنا ھے تو معافی مانگ لیں، اور اگر قصور سامنے والے کا ھے تو دل بڑا کرکے معاف کر دیں۔کیونکہ رشتے انا سے بڑے ہوتے ہیں۔
اپنی اولادوں کو یہ تحفہ ضرور دیں کہ وہ اپنے خون کے رشتوں کو پہچان سکیں، ان کے گھروں میں جا سکیں، ان کے ساتھ بیٹھ سکیں اور یہ کہہ سکیں:”یہ میرے اپنے ہیں۔”
خدا کے لیے اپنی چھوٹی چھوٹی ناراضگیوں کو اتنا بڑا نہ بنائیں کہ آنے والی نسلیں اپنے ہی خون کے رشتوں کے چہرے پہچاننے سے قاصر ہو جائیں۔ہم بڑے تو اپنی زندگی گزار جائیں گے
مگر ان معصوم کلیوں کا کیا قصور ھے، جو ہماری نفرتوں کے سائے میں رشتوں کے لیے ترس رہی ہیں؟
آج بھی وقت ھے کسی اپنے کو فون کر لیں۔شاید دوسری طرف بھی کوئی آپ ہی کی طرح آنکھوں میں آنسو لیے آپ کے فون کا انتظار کر رہا ہو۔ رشتے بچا لیجیے
کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد انسان کے پاس صرف پچھتاوا رہ جاتا ھے ، اور پچھتاوے کبھی کسی بچھڑے ہوئے رشتے کو واپس نہیں لاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں