محترم قارئین ۔ تاریخ کے جھروکوں سے جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمان و مکان کے اُفق پر ابھرنے والی تہذیبیں اور قومیں ظاہری اسباب، بیرونی حملوں یا وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ اپنے ہی اعمال، اخلاقی دیوالیہ پن اور ربانی قوانین کی کھلی سرکشی کے باعث صفحہ ہستی سے مٹیں؛ یعنی باہر والا صرف قبر کھودتا ہے اور قومیں اپنے ہاتھوں سے موت کے پروانے پر دستخط کرتی ہیں۔ اگر ہم گم شدہ اور تباہ ہونے والی تاریخی و قرآنی اقوام کا تفصیلی پوسٹ مارٹم کریں تو روئے زمین پر مجموعی طور پر سات ایسی بڑی نافرمان اور مٹ جانے والی اقوام کے مستند شواہد، تفصیلی واقعات اور ان کی وجوہات سامنے آتی ہیں جن کی فائلیں اللہ رب العزت نے رہتی دنیا تک کے لیے نشانِ عبرت بنا کر کھول دی ہیں۔ ان میں سب سے پہلا نام ’قومِ نوحؑ‘ کا ہے، جنہیں ساڑھے نو سو سال تک سچائی کی دعوت دی گئی مگر انہوں نے شرک، جمود، ضد اور نسلی تکبر کو اپنا شعار بنایا، انہوں نے وقت کے پیغمبر اور ان کی صحرا میں بننے والی کشتی کا تمسخر اڑایا جس کی پاداش میں زمین کے چشمے ابل پڑے اور آسمان سے ہولناک بارش کے طوفان نے نوحؑ کے سگے بیٹے سمیت پوری قوم کو ہمیشہ کے لیے گہرے پانیوں میں غرق کر دیا۔ دوسری مٹ جانے والی قوم ’قومِ عاد‘ ہے، جنہیں اللہ نے بے پناہ جسمانی ساخت، غیر معمولی قد و قامت اور ستونوں والے عظیم الشان محل بنانے کی نعمت سے نوازا تھا، مگر طاقت کے نشے میں چور ہو کر وہ “ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے” کا نعرہ لگانے لگے اور کمزوروں پر ظلم و استحصال کی انتہاء کر دی، چنانچہ ان کا یہ تکبر سات راتوں اور اٹھ روز تک چلنے والی ایک ایسی ہولناک، یخ بستہ اور چیختی ہوئی آندھی کی نذر ہوا جس نے ریت کے ذروں کو ان کے اجسام میں داخل کر کے انہیں کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح اکھاڑ پھینکا۔ تیسری گم شدہ قوم ’قومِ ثمود‘ تھی، جن کے پاس پہاڑوں کو تراش کر عالی شان مکانات بنانے کی شاندار ٹیکنالوجی اور ہنرمندی موجود تھی، مگر انہوں نے اس نعمت کو خدا کا شکر گزار بننے کے بجائے اپنی ذاتی مہارت سمجھا، خدا کی نشانی یعنی صالحؑ کی اونٹنی کے پاؤں کاٹ کر اسے بے دردی سے قتل کیا اور وقت کے پیغمبر کے خلاف خفیہ سازشیں رچائیں، جس کے نتیجے میں ایک خوفناک، دل دہلا دینے والے صوتی دھماکے (صیحہ) اور لرزہ خیز چیخ نے ان کے دلوں کو پھاڑ دیا اور ان کے پہاڑی گھر ہی ان کی ابدی قبریں بن گئے۔اسی تسلسل میں چوتھی تباہ ہونے والی قوم ’قومِ لوطؑ‘ ہے، جو بحیرہ مردار (Dead Sea) کے ارد گرد سدوم کے علاقوں میں آباد تھی، یہ قوم تاریخ کی بدترین اخلاقی پستی، بے حیائی اور غیر فطری جنسی جرائم میں مبتلا ہو چکی تھی اور فواحش کو اپنا حق سمجھتی تھی، جس پر الٰہی غضب کا ایسا کوڑا برسا کہ جبرائیلؑ نے ان کی بستیوں کو زمین کی گہرائیوں سے اٹھا کر آسمان تک پہنچایا اور پھر انہیں الٹ کر رکھ دیا، ساتھ ہی ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی ہولناک بارش کر کے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ پانچویں مٹ جانے والی قوم ’قومِ شعیبؑ‘ (اہلِ مدین و اصحاب الایکہ) ہے، جو ایک خوشحال تجارتی مرکز کے مالک تھے مگر ان کے اعمال میں ناپ تول میں کمی، تجارتی بددیانتی، ملاوٹ اور ڈاکے ڈالنا شامل ہو چکے تھے، انہوں نے معاشی انصاف کے اصولوں کو یکسر مسترد کر دیا، جس پر پہلے ان کا پورا علاقہ شدید حبس اور آگ برسانے والے گہرے بادلوں (عذابِ ظلہ) کے سائے میں آیا اور پھر زمین دوز زلزلے کے شدید جھٹکوں نے انہیں ان کے زرق برق مکانوں میں اوندھے منہ گرا کر ہلاک کر دیا۔ چھٹی مثال ’قومِ فرعون‘ اور آلِ قبط کی ہے، جو مصر کی زرخیزی، نیل کی نعمتوں اور طاقتور ریاستی مشینری کے گھمنڈ میں مبتلا تھی اور خود کو زمینی خدا سمجھ کر بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح اور عورتوں کو غلام بناتی تھی، انہوں نے سچ کے واضح دلائل اور معجزات کو جادو قرار دے کر مسترد کیا، جس کے بعد بحیرہ احمر کے پانیوں نے فرعون اور اس کے پورے لشکر کو ایک ہی لمحے میں نگل لیا۔ ساتویں اور آخری بڑی تاریخی قوم ’اصحاب الرس‘ اور ’قومِ تبع‘ کی ہے، جنہوں نے اپنے کنوؤں، باغات اور مادی وسائل کی فراوانی کے زعم میں انبیاء کو جھٹلایا، گڑھوں میں پھینک کر قتل کیا اور زمین پر فساد پھیلایا، جنہیں بتدریج ایسے غائبانہ عذابوں سے مٹایا گیا کہ آج ان کا صرف نام باقی ہے۔ ان تمام ساتوں گم شدہ اقوام کا اگر ایک منظم اور مشترک الٰہی فارمولا دیکھا جائے تو وہ “نعمت، گھمنڈ، سچ کا انکار ابدی تباہی” ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مادی ترقی، ہتھیاروں، تیل یا ٹیکنالوجی کی نعمت پا کر قومیں خود کو ناگزیر سمجھنے لگتی ہیں، حق کی آواز دباتی ہیں اور سچ بولنے والے دانشمندوں کو کردار یا میڈیاء سے قتل کرتی ہیں، تو قدرت کا اٹل قانون حرکت میں آتا ہے اور پھر وہ قومیں جغرافیے کے نقشے سے مٹ کر محض تاریخ کی گم شدہ فائلیں بن جاتی ہیں
6











