قلم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ عظیم نعمت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خیالات، احساسات، تجربات اور مشاہدات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں بھی قلم کی قسم کھائی گئی ہے، جو اس کی عظمت اور اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ ایک لکھاری معاشرے کا وہ حساس اور باشعور فرد ہوتا ہے جو صرف الفاظ نہیں لکھتا بلکہ قوموں کی سوچ، فکر اور کردار کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ وہ معاشرے کے مسائل کو محسوس کرتا ہے، دکھ درد کو اپنی تحریر میں سمیٹتا ہے، مظلوم کی آواز بنتا ہے، ظالم کے سامنے کلمۂ حق بلند کرتا ہے اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے سچ لکھنا ایک جرم بن گیا ہو۔ اگر کوئی قلم کار معاشرتی برائیوں، کرپشن، ناانصافی، مہنگائی، بے روزگاری، اقربا پروری، اخلاقی زوال یا عوامی مسائل پر قلم اٹھاتا ہے تو بجائے اس کی تحریر پر غور کرنے کے، اس کی ذات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے اور اسے مختلف القابات سے نوازنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک لکھاری کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ سچ بولتا اور سچ لکھتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ جرم نہیں بلکہ ایک عظیم خدمت ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اہلِ قلم نے سخت آزمائشوں کا سامنا کیا۔ بہت سے ادیب، شاعر، صحافی اور دانشور صرف اس لیے مشکلات کا شکار ہوئے کہ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ مگر انہوں نے اپنے قلم کا سودا نہیں کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خاموش قلم زندہ معاشروں کی علامت نہیں ہوتا۔ اگر اہلِ قلم مصلحت کا شکار ہو جائیں، حقائق کو چھپانے لگیں اور صرف خوشامد پر مبنی تحریریں لکھیں تو معاشرے میں اندھیرا پھیل جاتا ہے۔ پھر جھوٹ کو سچ، ظلم کو انصاف اور برائی کو اچھائی سمجھا جانے لگتا ہے۔ ایک ذمہ دار لکھاری کا فرض ہے کہ وہ حقائق کو تحقیق کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرے، کسی کی ذاتی تضحیک نہ کرے، مگر سچ کو بھی نہ چھپائے۔بدقسمتی سے آج سوشل میڈیا نے لکھنے کے عمل کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ ہر شخص چند جملے لکھ کر خود کو مصنف، کالم نگار یا تجزیہ نگار سمجھنے لگا ہے، جبکہ حقیقی لکھاری بننے کے لیے مسلسل مطالعہ، وسیع مشاہدہ، تحقیق، زبان و بیان پر عبور، املاء اور رموزِ اوقاف کی درستگی، اخلاقی ذمہ داری اور دیانت داری بنیادی شرائط ہیں۔ اصل لکھاری اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ایک لفظ کسی کی عزت بھی بڑھا سکتا ہے اور کسی کی زندگی بھی متاثر کر سکتا ہے، اس لیے وہ سوچ سمجھ کر لکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج اصل لکھاری کو بھی مصنوعی ذہانت، نقل اور غیر معیاری تحریروں کے ہجوم میں پہچاننا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس سے محنت کرنے والے اہلِ قلم کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ ایک مہذب معاشرہ ہمیشہ اپنے ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں، صحافیوں اور دانشوروں کی عزت کرتا ہے، کیونکہ یہی طبقہ معاشرے کی فکری سمت متعین کرتا ہے۔ اختلافِ رائے ہر انسان کا حق ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کر دینا کسی بھی مہذب قوم کی نشانی نہیں۔ اگر کسی تحریر میں غلطی محسوس ہو تو دلیل اور شائستگی سے اس کی اصلاح کی جا سکتی ہے، لیکن گالم گلوچ، کردار کشی، دھمکیاں اور نفرت آمیز رویے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم دلیل سے زیادہ جذبات کے اسیر بنتے جا رہے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ تحریر کو پڑھے بغیر صرف لکھنے والے کے نام کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں، حالانکہ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے بات کو سمجھا جائے، پھر اس پر اظہارِ خیال کیا جائے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اہلِ قلم کو تحفظ فراہم کیا جائے، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نئی نسل میں مطالعے اور معیاری تحریر کا ذوق پیدا کیا جائے۔ اسکولوں، کالجوں، جامعات اور ادبی تنظیموں کو چاہیے کہ نوجوان لکھنے والوں کی رہنمائی کریں تاکہ وہ ذمہ دار، باکردار اور بااصول قلم کار بن سکیں۔ معاشرے کی اصلاح صرف قانون سے ممکن نہیں بلکہ شعور سے ممکن ہے، اور شعور پیدا کرنے میں قلم کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ اگر قلم خاموش ہو جائے تو معاشرہ فکری طور پر مفلوج ہو جاتا ہے، کیونکہ خاموش قلم ظلم کی طاقت کو بڑھا دیتا ہے۔ لکھاری ہونا ہرگز جرم نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری، قومی خدمت اور اخلاقی فریضہ ہے۔ جرم تو یہ ہے کہ سچ کو دبایا جائے، حقائق کو مسخ کیا جائے، اہلِ قلم کی آواز کو خاموش کیا جائے اور معاشرے کو لاعلمی کے اندھیروں میں دھکیل دیا جائے۔ زندہ قومیں اپنے قلم کاروں کو عزت دیتی ہیں، ان کے اختلافِ رائے کو برداشت کرتی ہیں اور ان کی تحریروں سے اپنی اصلاح کا راستہ تلاش کرتی ہیں۔ قلم کی روشنائی وقتی نہیں ہوتی بلکہ نسلوں تک اپنا اثر چھوڑتی ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ ہم لکھاری کو مجرم نہیں بلکہ قوم کا معمار، رہنما اور ضمیر سمجھیں، کیونکہ جب تک قلم زندہ ہے تب تک شعور زندہ ہے، امید زندہ ہے اور ایک بہتر، مہذب اور باوقار معاشرے کی تعمیر کا خواب بھی زندہ رہے گا۔ آج سچ لکھنے والا قلم کار کس طرح مخالفت، تنقید اور بے جا الزامات کی زد میں آ جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر معاشرے سے اہلِ قلم کی آواز خاموش کر دی جائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ اس کا جواب تاریخ کے ہر دور میں موجود ہے۔ جب بھی قلم پر پابندیاں لگیں، حق گوئی کو جرم سمجھا گیا، اختلافِ رائے کو بغاوت قرار دیا گیا اور اہلِ فکر کو خاموش کرایا گیا، وہاں ظلم مضبوط ہوا، جھوٹ کو تقویت ملی، ناانصافی نے جڑیں پکڑیں اور معاشرہ فکری طور پر زوال کا شکار ہو گیا۔ قلم صرف سیاہی سے لکھی جانے والی چند سطریں نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو ضمیر کو بیدار کرتی، حکمرانوں کو جواب دہ بناتی، عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کرتی اور آنے والی نسلوں کی فکری رہنمائی کرتی ہے۔ اسی لیے ہر دور میں بااصول لکھاری نے مشکلات برداشت کیں مگر اپنے قلم کا سودا نہیں کیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں اختلافِ رائے کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر کوئی کالم نگار، صحافی یا ادیب معاشرتی برائیوں، کرپشن، نااہلی، مہنگائی، بے روزگاری، ظلم یا اخلاقی زوال پر قلم اٹھاتا ہے تو بجائے اس کی بات پر غور کرنے کے اس کی ذات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اس کی نیت پر شک کیا جاتا ہے، اسے مختلف سیاسی یا سماجی خانوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس کے کردار کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ ایک سچا لکھاری نہ کسی فرد کا دشمن ہوتا ہے اور نہ کسی ادارے کا مخالف، بلکہ وہ صرف برائی، ناانصافی اور جھوٹ کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ اس کی تنقید کا مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ اصلاح ہوتا ہے، کیونکہ وہ معاشرے کو بہتر دیکھنا چاہتا ہے۔ آج ایک اور افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ مطالعے کی روایت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ پوری تحریر پڑھے بغیر صرف عنوان دیکھ کر فیصلہ سنا دیتے ہیں، چند جملے پڑھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے تبصرے کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں معیاری لکھنے والوں کی محنت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، جبکہ ایک حقیقی قلم کار اپنی شناخت برسوں کے مطالعے، تحقیق، مشاہدے، زبان و بیان پر عبور، دیانت داری اور مسلسل محنت سے بناتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ہر لفظ ایک امانت ہے اور اس کے اثرات صرف آج تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ اگر اہلِ قلم خوف کی وجہ سے خاموش ہو جائیں تو معاشرہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے، کیونکہ خاموش قلم ظالم کے ہاتھ مضبوط اور مظلوم کی امید کمزور کر دیتا ہے۔ ایک مہذب اور باشعور قوم ہمیشہ اپنے ادیبوں، شاعروں، کالم نگاروں، صحافیوں اور دانشوروں کو عزت دیتی ہے، ان کی بات سنتی ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کرتی ہے اور تعمیری تنقید کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بناتی ہے۔ ہمیں بھی یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ ہر تنقید دشمنی نہیں ہوتی، ہر اختلاف نفرت نہیں ہوتا اور ہر سچ تلخ ہونے کے باوجود معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ اہلِ قلم کی عزت کرنا دراصل علم، شعور اور سچائی کی عزت کرنا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک ترقی یافتہ، مہذب اور انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے لکھنے والوں کو خوف نہیں بلکہ اعتماد دینا ہوگا، ان کی آواز دبانے کے بجائے ان کے دلائل کا جواب دلیل سے دینا ہوگا اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھنا ہوگا۔ لکھاری ہونا جرم نہیں بلکہ ایک مقدس امانت، قومی خدمت اور معاشرے کے ضمیر کی حفاظت کا نام ہے۔ جرم تو سچ کو چھپانا، جھوٹ کو فروغ دینا، اہلِ قلم کی آواز دبانا اور آنے والی نسلوں سے شعور کی روشنی چھین لینا ہے۔ جب تک قلم آزاد رہے گا، حق کی شمع روشن رہے گی، شعور زندہ رہے گا اور ایک بہتر معاشرے کی امید بھی قائم رہے گی۔
62











