237

پاکستان کے خلاف سازشوں کا نیا باب تحریر: ممتاز ہاشمی

گزشتہ چند ہفتوں سے مراعات یافتہ اشرافیہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹوں نے پاکستان میں متنازعہ موضوعات کو زیر بحث لانا شروع کر دیا ہے۔ جس کا بظاہر مقصد پاکستان کو ایک نئے بحران میں مبتلا کرنا ہے۔ اس سے پہلے کے ان شخصیات و طبقات کا ذکر کیا جائے بہتر ہے کہ پاکستان کے ماضی کی سیاسی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں۔
آج کے حالات کو سمجھنے کے لیے ماضی کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہوگا پاکستان کے قیام کا مقصد ایک وفاقی فیڈریشن کا قیام تھا جس میں مختلف قومیتوں کے یونٹس جن میں واحد مشترکہ چیز دین اسلام تھا اس کے عملی نفاذ اور اسکے فوائد سے دنیا بھر کو دوبارہ سے متعارف کرانا تھا جو کہ دو قومی نظریے اور فلسفہ اقبال کی بنیاد پر تھا۔

مسلم لیگ کو کامیابی صرف اسی نعرے کو اپنانے پر نلی تھی اور یہ اللہ ہی کا معجزہ تھا کہ اس نے ہر قسم کے نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا۔

اس موقع پر پر جو سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ پاکستان کا حصہ بنیں ان کا اس جدوجہد یا نظریے سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ اپنے برطانوی آقاؤں کے تحت اس کے خلاف کام کرتے رہیے تھے ان کے لیے پاکستان ایک بہت بڑا خزانہ بن کر سامنے آیا کیونکہ ہندوستان کے اندر نہ ہی وہ ہندو بیوروکریسی کا مقابلہ کر سکتے تھے اور نہ ہی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے کوئی سیاسی گنجائش موجود تھیں اسلئے ان قوتوں نے قیام پاکستان کے فوری بعد ہی اپنے پر پرزے نکالنے شروع کر دئیے اور ملک میں قابض ہونے کی سازشوں کا آغاز کر دیا. قائد اعظم کی جلد رحلت اور مسلم للیگ کی باقیات ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کی اہلیت نہیں رکھتی تھی اسلئے جلد ہی ان قوتوں نے عدلیہ کی مدد سے ملک میں جمہوری نظام کو ختم کرنے اور مارشل لاء کی بنیاد ڈال دی۔

اس دوران ملک کی جمہوری بائیں بازو کی قوتوں، طلباء، مزدور، صحافیوں اور دیگر طبقات نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھی اور قربانیاں دیں جبکہ دائیں بازو کی جماعتوں اور استحصالی طبقات نے اس آمریت کے سائے تلے پرورش پائی اور اداروں کو مفلوج کر دیا اسطرح ایک جبر اور استحصال پر مبنی نظام عوام پر مسلط کر دیا گیا۔

اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں اس سے نجات حاصل کرنے کا رحجان پیدا ہونے لگا اور فیڈریشن کے تمام اختیارات مرکز نے سنبھال کر ان وفاقی یونٹس کا استحصال کرنے لگا ملکی وسائل چند بڑے شہروں تک محدود کر دئیے گئے اور اسطرح نہ صرف چھوٹے صوبوں بلکہ سب سے بڑے صوبے مشرقی پاکستان میں احساس محرومی پیدا ہوتا گیا اور دوریاں اور فاصلے بڑھنے لگے۔

اگر اس موقع پر اسلام کے عدم پر مبنی نظام کو اپنایا جاتا تو یہ احساس محرومی یا دوریاں ہرگز پیدا نہیں ہو سکتی تھیں بلکہ ان کی جگہ ایثار اور قربانی کو فروغ ملتا۔

اور اگر صرف جمہوری عمل ہی جاری رہتا تو بھی وسائل کی منصفانہ تقسیم سے اس احساس محرومی کو دور کیا جا سکتا تھا مگر ملٹری ڈکٹیٹروں کی سمجھ میں حالات کی نزاکت نہ تھی اور نہ ہی وہ تاریخ کا ادراک رکھتے تھے بس وہ صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔

آخرکار جب ایوب خان کے خلاف شدید عوامی تحریک شروع ہوئی اور اس میں طلباء، مزدور اور سیاسی قوتوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر آمریت کو کہ وہ اقتدار چھوڑنے، ون یونٹ کے خاتمے، صوبائی اکائیاں کی بحالی اور انتخابات کرانے پر مجبور کر دیا۔

جس کے نتیجے کے طور پر 70 میں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا گیا اور اس کو آئین ساز اسمبلی کا نام دیا گیا۔ ان انتخابات کے انعقاد میں سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹز کا ایک اہم پلان تھا جس میں دائیں بازو کی اسٹیبلشمنٹ کی حامی جماعتوں کی کامیابی کا یقین تھا اور اس کے بعد اپنی گرفت ان اداروں پر برقرار رکھنا تھا۔

مگر ایک عوامی انقلاب کے ذریعے عوام نے ان انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیئے اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ واحد بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری جبکہ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی نے واضح اکثریت حاصل کئی۔

اس عوامی انقلاب کو روکنے کے لیے اسٹیبلشمنٹز نے مختلف حربوں کا استعمال کیا اور 120 دن کی معیاد جو نئے آئین کو مرتب کرنے کے لئے لگائی گئی تھی اس کو ڈھال بنایا۔ کیونکہ وفاقی یونٹس میں شدید اختلافات تھے اور اس بات کا خدشہ تھا کہ یہ آئین کی تیاری میں صوبائی خودمختاری کے مسائل حل نہیں ہو سکتے اسلئے اس مدت کو ختم کرنے کی بات کی گئی مگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس کے بجائے مشرقی پاکستان میں عوام کے خلاف آپریشن شروع کر دیا اور اسطرح سے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا موجب بنا۔

اس عظیم سانحے اور فوجی شکست سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ وقتی طور پر اقتدار سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی اور جمہوری حکومت کو اقتدار منتقل کر دیا۔

اس کے بعد سیاسی قیادت نے پاکستان کو ایک متفقہ آئین نصیب ہوا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ صوبائی خودمختاری کی ضمانت دی گئی تھی۔اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا مگر جلد ہی دوبارہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس جمہوری عمل کو روک کر دوبارہ سے ملک میں طویل مارشل لاء کا نفاذ کر دیا۔ اس کے لیے ایک سازش دائیں بازو کی قوتوں سے ملکر تیار کی گئی جس میں جماعت اسلامی کا نمایاں کردار تھا۔

اس آمریت نے ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا،کیا اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے لسانی اور نسلی تعصب کو فروغ دینے کے لیے تنظیموں کی بنیاد ڈالی جس سے عوام اور مختلف صوبوں کے درمیان اختلافات نے جہنم لیا جس سے ملی سالمیت خو خطرات لاحق ہوے مگر ملٹری ڈکٹیٹروں کو ان چیزوں کا ادراک نہیں تھا وہ طاقت کے نشے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ایک کو دبانے کے لیے ریاستی اداروں کا استعمال کرتے تھے اس دوران عوامی تحریکوں نے ان کے خلاف ایک اہم کردار ادا کیا اور اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کیلئے دباؤ ڈالا جانے لگا اور آخرکار ضیاء الحق کی موت کے بعد ملک میں جمہوریت کو دوبارہ سے زندہ ہونے کا موقع ملا۔

اگرچہ یہ نیم جمہوری دور کا آغاز تھا مگر اس میں بھی اہم امور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا کلی اختیار تھا۔ مگر یہ بھی ان سے برداشت نہیں ہوئی اور اس پر شب خون مارنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا اور اس کے لیے جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے ذریعے افراتفری و فسادات کی سازشوں کے لامتناہی سلسلے شامل تھے۔

مگر جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پیدا کردہ نواز شریف نے اپنی مقبولیت اور عوامی حمایت کے مدنظر ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے تو اس کو بھی اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا ہے اسطرح سے عوامی حمایت کی حامل قوتوں کو توڑنے کا عمل جاری رکھا آخرکار جب نواز شریف نے اپنی سیاسی حمایت کے بل بوتے پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر کاری وار کیا تو دوبارہ سے ملک میں مشرف نے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اور جمہوریت کا خاتمہ کر دیا۔

اس عرصے میں عمران خان کو تیار کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا گیا اور اس کے لیے وسائل کو بروئے کار لانے کا اہتمام کیا گیا۔ ان آمرانہ ادوار میں آہین کی وفاقی حیثیت کو مکمل طور پر مجروح کر دیا گیا تھا اور اس میں ایسی ترامیم کرتے دی گئی تھی جس سے ایک مکمل مرکزی حیثیت حاصل ہو گی جس سے صوبوں میں احساس محرومی نے مزید اضافہ کیا۔

آخرکار عوامی قیادت جو جلاوطن تھی انہوں نے ایک معاہدہ طے کیا جس کو میثاق جمہوریت کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس میں ایک دوسرے کے جمہوری حقوق کے تحفظ اور آئین کی اصل حالت میں بحالی کیلئے اقدامات شامل تھے۔

اس کے بعد 2007 میں مجبور ہو کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی لیڈرشپ کو پاکستان آنے اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دینے پر مجبور ہونا پڑا مگر اس دوران بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا اور ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی مگر آصف علی زرداری کی بروقت کارروائی نے ان کے عزائم کو ناکام بنا دیا اور پاکستان ایک بار پھر سے جمہوریت کی جانب گامزن ہو گیا اس موقع پر سیاسی قیادت نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور متحد ہو کر پاکستان کے آئین میں کی گئی آمرانہ دور کی ترامیم کو ختم کرنے اور آہین کی وفاقی حیثیت کو دوبارہ سے زندہ کیا جس سے صوبوں کو خودمختاری حاصل ہوئی اور ان کے احساس محرومی کو ایک حد تک ختم ہونے کا امکان پیدا ہوا۔

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ ان آئینی اصلاحات میں عدلیہ سے متعلق اصلاحات کو عدلیہ نے نافذ ہونے سے روکنے کیلئے اپنا غیر آئینی طور پر اثر انداز ہو کر روکا۔

بہر کیف جو بھی اصلاحات نافذ ہوہی اس سے ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ کے لیے سیاسی معاملات میں مداخلت کے راستے بند ہونے لگے اور یہ صورتحال ان استحصالی طبقات کو قابل قبول نہیں تھی اسلئے اس نظام کے خلاف سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی۔

ہماری سیاسی تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ عسکری ادارے مقبول قیادت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کے لیے مختلف سیاسی کٹھ پتلی گروپس اور جماعتیں تشکیل دیتے ہیں۔ اس لیے ہر وقت سیاسی مقبول قیادت اسٹیبلشمنٹ کی ان سازشوں کو ناکام بنانے آور حکومت کو غیر مستحکم ہونے سے بچانےمیں مصروف رہتی ہے اور یوں اپنے پروگرام اور فلاحی ایجنڈوں کو نافذ کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اس سے ملک کی معیشت اور وسائل ڈوبتے ہیں اور معاشرے میں کرپٹ کلچر کو جنم دیتا ہے۔ اگرچہ تمام مقبول سیاسی قیادت فوجی اداروں کو چیلنج کرتی ہے لیکن ان کرپٹ اداروں نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا۔ انہوں نے کرپٹ عدلیہ کی مدد سے بھٹو کو پھانسی دی۔ اب یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بھٹو کو سزائے موت کا حکم دینے والے چیف جسٹس اور دوسرے ججوں نے اعتراف کیا کہ یہ فوجی آمر کے دباؤ پر کیا گیا۔ ہماری تاریخ میں بہت کم ایماندار جج ہیں جنہوں نے دباؤ کا مقابلہ کیا اور اسٹیبلشمنٹ کا حصہ نہیں بنے۔

ل تاریخ شاہد ہے کہ کس طرح فوجی اداروں نے اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا کے ذریعے عمران خان کو پروموٹ کیا اور اس کے بعد تمام سول اور فوجی اداروں نے 2017 میں غیر قانونی طور پر نواز شریف حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عدلیہ کا استعمال کیا۔ اور اسےعدلیہ کے ہاتھوں سلاخوں کے پیچھے بھج دیا۔ اسکے باوجود وہ نواز شریف کی مقبولیت میں کمی نہ کرسکے آخری حربے کے طور پرانہوں نے انتخابی نتائج چرانے کی پوری کوشش کی اور 2018 کے انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری میں ملوث رہے۔ ان تمام کاوشوں کے باوجود اسٹیبلشمنٹ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی اور پنجاب میں نواز شریف کو واضح طور پر برتری حاصل ہوئی۔ اس مرحلے پر انہوں نے مختلف لوگوں کو لالچی اور رشوت کے ذریعے اکٹھا کر کے ایک کھٹ پتلی حکومت تشکیل دی۔

اگر ہم ان فوجی حکمرانی کے ادوار کا جائزہ لئے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر ان ہی کی حکومت رہی ہے اور آج پاکستان کو جس تباہی اور بربادی کا سامنا ہے ان کے ذمے دار فوجی حکمران ہیں

فوجی اور سول اداروں کی اجارہ داری 51 سے58

ایوب خان اور یحی خان 13 سال

ضیاء الحق 11 سال

مشرف 9 سال

ایوب خان کے دور میں ملک کا سب سے بڑا نقصان کیا گیا اور پاکستان کے دریاؤں کو انڈیا کے ہاتھ بیچ دیا گیا۔ اور ملٹری ڈکٹیٹر نے جو معاہدہ کیا وہ پاکستان کی تباہی اور بربادی کی بنیاد بنا۔ اس کے بعد پاکستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی ترقی کی رفتار گرنا شروع ہوئی ناکہ جدید مشنری دور میں اس میں اضافہ ہوتا۔ اس معاہدہ کی وجہ سے ملک کو ماحولیاتی مسائل پیدا ہوئے۔ اور جو مقدار پانی کو سمندر میں جانے کے لیے انتہائی ضروری ہے وہ میسر نہیں ہے اور اس سے نہ صرف آبی حیات کو خطرات لاحق ہوے بلکہ سمندر کو کراچی کی شہری حدود میں شامل کرنے کے رحجان نے شدید ماحولیاتی مسائل پیدا کر رہا ہے جوکہ آنے والے زمانے میں شدید تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ان تمام سے فائدہ صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اپنے لیے اربوں روپے کی زمینوں کو حاصل کر کے لیے ہیں۔

ملک کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کا عمل یحی خان کے دور میں مکمل ہوا اور تاریخ کی بدترین شکست پاکستان کو ہندوستان کے ہاتھوں ہوئی جس میں ایک لاکھ فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔

ضیاء الحق کے دور میں انڈیا نے سیاچن پر قبضہ کیا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے افغان جہاد کے نام پر اربوں ڈالر کھائے۔

مشرف دور میں پاکستان نے مکمل طور پر امریکی ایجنٹ کا کردار ادا کیا اور لاکھوں مسلمانوں کے قتل میں واضح حصہ دار بنا۔ اس دور میں ہزاروں بےگناہ پاکستانیوں کو جس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی شامل ہیں ان کو ڈالرز کے عوض امریکہ کو فروخت کیا گیا۔

اس کے مقابلے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی میں قائم عمران خان کی حکومت کا دور دراصل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہی دور کہلایا جاتا ہے کیونکہ اس دور میں تمام تر اختیارات ان کے پاس تھے اور وہ اس دور میں ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے حتی کہ اس دور میں پاکستان دشمن عناصر کو بھی ان میں رسائی حاصل ہو گئی اور وہ پاکستان میں بغاوت کرانے کے 9 مئی کے عمل کے اصل کردار تھے۔
بہرکیف یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کی تخلیق اللہ سبحانہ و تعالٰی کا ایک معجزہ ہے اور اس نے ہی اس کی حفاظت کا اہتمام کر رکھا ہے اور ہر وقت پاکستان کی سالمیت کو برقرار رکھا ہے حالانکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی ناکامی و نااہلی ہمیشہ سے عیاں ہے۔ جس کا واضح ثبوت اسٹیبلشمنٹ کی قائم کردہ یا ان کی پشت پناہی کرنے والی سیاسی جماعتوں کے کردار سے ثابت ہوتی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اپنی نااہلی کی وجہ سے ان میں پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر کو پروان چڑھنے سے روکنے میں ناکام رہی۔
ان تمام حالات و واقعات نے پاکستان کو ہمیشہ سے ہی بحران میں مبتلا رکھا ہے اور جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا ہے سول ادارے کمزور ہوتے گئے اور غیر قانونی کاموں کو فروغ ملتا گیا نتیجے کے طور پر ملک کے وسائل محدود ہوتے گئے اور قرضے بڑھتے گئے مراعات یافتہ طبقات کو آمرانہ ادوار میں مزید تحفظ ملتا گیا اور ان کے عوام مزید مشکلات کا شکار ہوتے گئے۔ پاکستان کو مالی طور پر دیوالیہ ہونے پر پہنچا دیا گیا۔
اگرچہ پاکستان کے ہر انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کا ایک اہم کردار رہا ہے اور سیاسی نظام کو غیر مستحکم کرنے اور اس کے نتیجے میں پورا انتظامی نظام کو غیر فعال بنانے میں انہیں اصل اختیارات کے مالک اداروں کا ہاتھ رہا ہے۔
نتیجے کے طور پر 2022 کے انتخابات کی صورتحال کے بعد کوئی جماعت بھی اقتدار لینے کو تیار نہیں تھی کیونکہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا اسوقت نواز شریف نے اس شرط پر اقتدار لینے کی حامی بھری کہ ان تمام سول اداروں کے نظام ( سسٹم ) کو درست کرنے کی ذمہ داری ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہی کی ہوگی جنہوں نے ان اداروں کے نظام کو تباہی و برباد کر دیا ہے۔ سول حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور ملک میں سرمایہ کاری لانے کے لیے کام کرے گی تاکہ ملک میں بےروزگاری و مہنگائی میں کمی لائی جائے۔ درحقیقت سیاسی حکومت نے انتہائی محنت سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے اقدامات کئے جن کے اب مثبت نتائج نکلنے کا وقت آ رہا ہے۔ مگر بین الاقوامی حالات اور خطے میں جنگی صورتحال نے دوبارہ سے معاشی بحران پیدا کر دیا ہے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اگرچہ یی اضافہ پوری دنیا میں دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بھی اس عرصے میں اپنا موثر کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے اور اسمگلنگ، منیب لانڈرنگ، وغیرہ میں کچھ حد تک کامیاب بھی رہی ہے بھارت کو جنگ میں عبرتناک شکست نے پاکستان کو دنیا میں ایک اہم حیثیت دلا دی ہے جس کا سہرا اگرچہ ملٹری کو جاتا ہے مگر اس کے لیے جدید میزائل، جنگی جہازوں اور دیگر ذرائع سیاسی قیادتوں کے ذریعے ہی فراہمی کا اہتمام ہوا تھا۔
آج جب ملک میں مختلف علاقوں میں پاکستان کے خلاف جارحیت عروج پر ہے اور بھارت و افغانستان ملکر پاکستان میں دہشتگردی اور انتشار پھیلانے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں اور ہر روز عوام اور سیکورٹی فورسز شہادتیں دے رہے ہیں اس موقع پر چند موقع پرست حلقوں کی جانب سے متنازعہ مسائل کو چھیڑنا ایک انتہائی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے اور اس میں سازشوں کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔
اس متنازعہ مسائل کو شروع کرنے والے تین کلیدی کردار ہیں علیم خان، محسن نقوی اور میاں عامر محمود۔ اور یہ تینوں ہی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اہم کارندوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ان میں سے پہلے دو تو وفاقی حکومت کے اہم ترین عہدوں پر براجمان ہیں اور اگر ان کے خیال میں سسٹم ناکام ہو گیا ہے تو وہ خود بھی اس ناکامی کے اہم ذمہ دار ہیں اور ان کو یہ باتیں کرنے سے پہلے خود مستفی ہو جانا چاہیے تھا۔ تیسرے میاں عامر محمود ہیں جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے ہی پورے پنجاب کے تعلیمی اداروں پر قابض ہیں اور اخبار و اپنا ٹی وی چینل بھی رکھتے ہیں ان کو موجودہ پنجاب حکومت کی تعلیمی اصلاحات سے نقصان ہو رہا ہے اور پنجاب میں جس طرح سے سرکاری تعلیمی اداروں کی بحالی کا کام زوروں پر ہے اور غریب عوام کو مفت تعلیم کی فراہمی کا اہتمام کیا جا رہا ہے وہ ان کے لیے ناقابل برداشت نقصان ہے۔ انہوں نے ہی اسلام آباد میں ایک سیمنار کرنے کا اہتمام کیا جس کے لیے مراعات یافتہ طبقات کو چارٹرڈ جہازوں سے لایا گیا اور اس میں نظام کی ناکامی کا شوشہ چھوڑا گیا اور نئے صوبوں کے متنازعہ موضوع کو زیر بحث لایا گیا۔
علیم خان بذات خود عمران خان کے دور میں بڑی مراعات حاصل کرتے رہے ہیں اور زمینوں و رہائشی اسکیموں کے مختلف اسکینڈلز میں شامل ہیں جس میں سب سے زیادہ دریائے راوی کے قدرتی بہاو کے راستے پر رہائشی اسکیموں کا اجراء ہے جو لاہور اور گرد و نواح کے لیے ماحول کی بربادی کا اہم سبب ثابت ہو گا۔
سسٹم کی ناکامی کی بات کرنے والے محسن نقوی خود سب سے ناکام وزیر داخلہ ہیں ان کے ذمے تمام سولسکیورٹی ایجنسیوں اور انٹیلیجنس شامل ہیں۔ اس دور میں ہی پاکستان میں مختلف ممالک سے اسلحہ و گروپوں کے پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردی میں کامیابیوں ان کی وزارت کے نظام کی مکمل ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ حالیہ مہینوں میں جب سیاسی قیادت آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی سے مذاکرات میں مصروف تھی تو اس دوران بھارت اور دیگر علاقوں سے اسلحہ و دہشت گرد تنظیموں کے افراد آزاد کشمیر میں داخل ہوئے اور آج وہ ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں کیا اس ناکامی پر ان کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔
اب ذرا بات اس نظام کی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے حل کی جو تجویز پیش کی ہے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان مراعات یافتہ طبقات نے تمام مسائل کا حل مزید صوبوں کے قیام کو قرار دیا ہے۔
اب اگر دیکھا جائے تو ایک الگ انتظامی یونٹ بنانے سے اس صوبے کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے جو اس معاشی بحران میں کسی طرح بھی قابل عمل حل نہیں ہے۔ دوسرے اگر اتظامی یونٹ چھوٹے کرنے سے کوئی مسئلہ حل ہو جاتا تو بات الگ تھی مگر مزید انتظامی یونٹ بنانے سے سول اداروں کی بحالی کیلئے کوئی لائحہ عمل نہیں ہو گا بلکہ وہ مزید طاقتور ہو کو وسائل پر قابو ہو جائیں گے۔ اس کی مثال پنجاب کی موجودہ صورتحال ہے پنجاب جو پاکستان کی آبادی کی اکثریت یعنی 14 کروڑ سے زائد پر مشتمل ہے اس کے سول اداروں کی بحالی اور مضبوطی صرف پچھلے ڈھائی برس کی سخت محنت سے انتہائی بلندیوں پر ہے اور وہاں پر نظام ( سسٹم ) نہ صرف کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے بلکہ سسٹم کی ناکامی کے دعویداروں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب میں اس عرصے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ جب تک اداروں کو مضبوط نہ کیا جائے بلدیاتی نظام کی بحالی کوئی فعال کردار ادا نہیں کر سکتا بلکہ وہ ان اداروں کی کرپشن میں شامل ہو جاتے ہیں جس کا ثبوت سندھ، کے پی کے اور بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کی موجودگی میں اداروں کی بدحالی سے واضح ہے۔
اس لیے اس بحث کو مکمل طور پر ختم کر دینے اور وفاقی و صوبائی اداروں کی بحالی کیلئے کوئی لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
آخر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے درخواست ہے کہ وہ ان افراد پر نظر رکھیں جو اس نازل صورتحال میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ سیاسی قوتوں کو بھی اس نازل صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان مراعات یافتہ طبقات کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل کی جا سکے اور کسی کو دوبارہ سے عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھانے میں کامیابی حاصل نہ ہو سکے۔ اس موقع پر عوام کا بھی اہم کردار ہے کہ وہ ان طبقات اور افراد کے پاکستان کے مفادات کے خلاف اقدامات پر ان کے خلاف متحرک ہو جائیں۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی اپنی رحمت سے ان پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو ناکامی سے دوچار کرئے گا۔ ان شاءاللہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں