19

والدین کا کردار اور نئی نسل: سید ساجد علی شاہ

کبھی ہمارے گھروں میں والدین صرف اولاد کی کفالت کرنے والے نہیں بلکہ ان کے اولین استاد، بہترین رہنما، سب سے بڑے محسن اور کردار کے معمار سمجھے جاتے تھے۔ ماں کی گود پہلی درسگاہ تھی اور باپ کی شفقت زندگی کی سب سے مضبوط پناہ۔ گھر محبت، احترام، ایثار، برداشت اور اخلاقی اقدار کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ بچے بزرگوں کے سامنے نظریں جھکا کر بات کرتے، استاد کا احترام ایمان کا حصہ سمجھا جاتا اور خاندان کی عزت ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کی ترجیحات بدلتی گئیں۔ دولت کی دوڑ، مادہ پرستی، بے پناہ مصروفیات، سوشل میڈیا کا بے جا استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کی یلغار نے ہمارے خاندانی نظام کو اس قدر متاثر کیا کہ والدین اور اولاد کے درمیان موجود محبت، اعتماد اور مکالمے کی وہ مضبوط زنجیر کمزور پڑتی چلی گئی۔ آج جب ہم روزانہ اخبارات کے صفحات پر قتل، خودکشی، منشیات، گھریلو تشدد، اخلاقی انحطاط، بزرگوں کی بے توقیری اور کم سن بچوں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز واقعات پڑھتے ہیں تو دل بے اختیار یہی سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری نئی نسل کو کیا ہو گیا ہے؟ مگر اگر دیانت داری سے اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے تو انگلیاں سب سے پہلے ہمارے اپنے گھروں کی طرف اٹھتی ہیں اولاد کی تربیت صرف اچھے اسکول میں داخلہ دلوا دینے، مہنگے کپڑے پہنا دینے یا ہر خواہش پوری کر دینے کا نام نہیں بلکہ ان کے دل و دماغ میں سچائی، دیانت، حیا، رحم، صبر، برداشت اور خوفِ خدا جیسی صفات پیدا کرنا بھی والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے آج بہت سے والدین اپنی تمام تر توجہ بچوں کے مادی مستقبل پر مرکوز کیے ہوئے ہیں جبکہ ان کے اخلاقی، روحانی اور فکری مستقبل کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ بچے مہنگے موبائل فون تو حاصل کر لیتے ہیں مگر والدین کی شفقت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کے کمروں میں ہر سہولت موجود ہوتی ہے لیکن ان کے دل تنہائی، بے چینی اور عدم تحفظ سے بھرے ہوتے ہیں۔ وہ ہزاروں لوگوں سے سوشل میڈیا پر جڑے ہوتے ہیں مگر اپنے والدین سے چند لمحے بات کرنے کے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ اس فاصلے نے نہ صرف خاندانوں کو کمزور کیا ہے بلکہ پوری معاشرتی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔آج کے والدین کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ بچے صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ کردار سے سیکھتے ہیں۔ اگر گھر میں سچ بولنے کی تلقین کی جائے مگر والدین خود جھوٹ بولیں، اگر بچوں کو احترام کا درس دیا جائے مگر وہ اپنے ہی والدین یا بزرگوں کی بے ادبی دیکھیں، اگر نماز اور اخلاق کی بات کی جائے مگر عملی زندگی اس کے برعکس ہو تو ایسی تربیت کبھی مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔ بچے ہر لمحہ اپنے والدین کا مشاہدہ کرتے ہیں اور انہی کے اندازِ زندگی کو اپنا نمونہ بنا لیتے ہیں۔ اس لیے والدین کی ہر عادت، ہر لفظ اور ہر عمل دراصل نئی نسل کے مستقبل کی بنیاد رکھ رہا ہوتا ہے۔موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے جہاں بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں اخلاقی چیلنجز بھی بڑھا دیے ہیں۔ اگر والدین اپنے بچوں کی رہنمائی نہ کریں تو یہ دنیا ان کی سوچ، کردار اور ترجیحات کو خاموشی سے بدل دیتی ہے۔ آج بہت سے بچے حقیقی زندگی سے زیادہ ورچوئل دنیا میں زندہ ہیں۔ انہیں اپنے خاندان کے افراد کے نام کم اور انٹرنیٹ کی مشہور شخصیات کے نام زیادہ یاد ہیں۔ ان کی گفتگو، لباس، سوچ اور طرزِ زندگی بھی انہی ذرائع سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں والدین کا فرض پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان کی بات سنیں، ان کے مسائل سمجھیں اور محبت سے ان کی رہنمائی کریں۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم، عدم برداشت، منشیات، تشدد اور اخلاقی زوال کا تعلق صرف قانون کی کمزوری سے نہیں بلکہ گھروں میں کمزور ہوتی تربیت سے بھی ہے۔ جب بچہ محبت سے محروم ہو، جب اسے صحیح اور غلط کا فرق نہ سکھایا جائے، جب اس کی صحبت پر توجہ نہ دی جائے اور جب والدین صرف رزق کمانے کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیں تو پھر معاشرہ ایسے ہی المناک واقعات کا شکار ہوتا ہے جنہیں دیکھ کر ہر حساس دل تڑپ اٹھتا ہے۔ آج کتنے ہی والدین اپنے بچوں کی ڈگریوں پر فخر کرتے ہیں مگر ان کے کردار پر مطمئن نہیں۔ حالانکہ کردار کے بغیر تعلیم، اخلاق کے بغیر ترقی اور تربیت کے بغیر آزادی معاشرے کو تباہی کے راستے پر لے جاتی ہے۔ہمیں اپنے گھروں کا ماحول بدلنا ہوگا۔ کھانے کی میز پر دوبارہ گفتگو کو زندہ کرنا ہوگا، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا، ان کے دل کی بات سننی ہوگی، انہیں کتابوں، علم، عبادت، کھیل اور خدمتِ خلق کی طرف راغب کرنا ہوگا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل امن، محبت، برداشت اور انسانیت کی علمبردار بنے تو ہمیں آج ہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ کیونکہ ایک باکردار نسل کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ باکردار والدین کی مسلسل محنت، دعا، قربانی اور بہترین تربیت کا ثمر ہوتی ہے۔آج بھی وقت ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔ اگر ہر ماں اپنی گود کو محبت، اخلاق اور دعا کا مرکز بنا دے، ہر باپ اپنے کردار سے اولاد کے لیے مثال بن جائے، ہر گھر میں سچائی، دیانت، احترام اور خوفِ خدا کی شمع روشن ہو جائے تو یقیناً ہمارا معاشرہ دوبارہ امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ قوموں کی تقدیر ایوانوں میں نہیں بلکہ گھروں میں لکھی جاتی ہے، اور گھروں کی تقدیر والدین کے کردار سے بدلتی ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا، کیونکہ مضبوط والدین ہی مضبوط نسل پیدا کرتے ہیں، مضبوط نسل ہی مضبوط معاشرہ تشکیل دیتی ہے، اور مضبوط معاشرہ ہی ایک کامیاب، باوقار اور روشن پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں