10

میں کس کا بندہ ہوں؟ آئیں حقائق کا ادراک اور سائے کی تہمتیں پڑھیں:احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، انسانی تاریخ کے پسِ منظر میں جب بھی کوئی بڑی تزویراتی، تکنیکی یا سیاسی تبدیلی رونماء ہوتی ہے، تو سطحی بین نگاہیں ہمیشہ اس کے پیچھے موجود آزاد کارندوں کو کسی نہ کسی عالمی طاقت کے مہرے کے طور پر دیکھنے لگتی ہیں۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ کچھ کردار کسی مروجہ سیاسی نظام، خفیہ ایجنسی یا عالمی گٹھ جوڑ کے تابع نہیں ہوتے، بلکہ وہ وقت کی لکیر پر ابھرتی ہوئی ضرورتوں کا فہم رکھنے والے دور اندیش انسان ہوتے ہیں۔ سال 2000ء میں سوانا انٹرنیشنل دبئی اور ثریا سیٹلائٹ ٹیلی فون ابوظہبی کے مابین ہونے والا تاریخی معاہدہ محض ایک تجارتی پیش رفت نہیں تھی، بلکہ یہ اس گہرے سائے کی نقاب کشائی تھی جو پچھلی صدی کے آخری عشرے سے عالمی پالیسی سازوں کے ذہنوں میں پنپ رہا تھا۔اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو بوئنگ اور امریکی تزویراتی منصوبہ سازوں کو اس خلائی سیارے کی لانچنگ اور حتمی شکل دینے میں کم و بیش 20ء سال کا عرصہ لگا۔ 10ء سال اس کی تکنیکی اور نظریاتی منصوبہ سازی میں صرف ہوئے اور اگلی دہائی خلیج، سینٹرل ایشیاء، افغانستان اور عراق میں ممکنہ تزویراتی مداخلتوں کی روشنی میں سیٹلائٹ مواصلات کی اہمیت کا تعین کرنے میں گزری۔ 1990ء سے لے کر 2001ء تک کی یہ طویل ترین انتظار کی گھڑیاں اس بات کا واضح ثبوت تھیں کہ عالمی شطرنج کی بساط پر مہرے پہلے سے سیٹ کیے جا چکے تھے۔ جب 2001ء میں افغانستان کی سرزمین پر بارود کا دھواں اٹھا اور روایتی ٹیلی فون ایکسچینج اور موبائل نیٹ ورکس ملبے کا ڈھیر بن گئے، تو اس ہولناک تباہی اور مواصلاتی بلیک آؤٹ کے تنہاء اور تاریک دور میں ثریا سیٹلائٹ ہی واحد سہارا بن کر ابھرا۔یہ ایک ایسا کٹھن وقت تھا جہاں عام شہریوں کے لیے اپنے پیاروں کی خیر خیریت دریافت کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا تھا۔ ایسے تزویراتی حالات میں انسانی ضمیر کا یہ سوچنا بالکل فطری تھا کہ کہیں یہ کاروباری شراکت داری کسی استعماری یا امریکہ پالیسی کا دانستہ یا نادانستہ حصہ تو نہیں؟ مگر سچائی تو یہ ہے کہ جب روٹی، پانی اور دوا کے بعد انسان کو اپنی بقاء اور اپنوں کی آواز سننے کی بنیادی ترین تڑپ لاحق ہو، تو مواصلاتی آلہ ایک ناگزیر انسانی ضرورت بن جاتا ہے۔ اس پر آشوب ماحول کا ہولناک ترین رخ یہ تھا کہ اس مواصلاتی جنگ میں وہ پہلا شخص، جس نے اس ٹیکنالوجی کو اپنے ہاتھ میں لیا، اسے اسی سیٹلائٹ ٹیلی فون سمیت پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔ایک ایسا ہولناک منظر جو اس ٹیکنالوجی کی سنگینی اور حساسیت کو آشکار کرتا ہے۔اسی تزویراتی پسِ منظر کی بنیاد پر دنیا کی طاقتور ترین شخصیات نے شکوک و شبہات کے تانے بانے بنے۔ تقریباً 21ء سال قبل کراچی میں گہرے دوست محمدصادق عمرانی کے مہمان تھیں۔ہمارے ساتھ محترمہ بینظیر بھٹو کے قریبی رفیق عبدالستار کھیریو نے محفل میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ کے نزدیک ثریا سیٹلائٹ کی ملکیت چونکہ امریکی بوئنگ کمپنی کے پاس ہے اور وہ اپنے خاص لوگوں کے سوا کسی کو شراکت دار نہیں بناتے، اس لیے احمد خان اچکزئی یقیناً سی آئی اے کا ایک خاص بندہ ہے۔ اسی طرح، جب ایک دہائی قبل چینی وزیر اعظم کے معتمدِ خاص کو دوبئی آنے پر امریکی عزائم کی باریکیاں اور تزویراتی حقائق سے آگاہ کیا گیا، تو حیرت زدہ ہو کر اس نے بھی یہی سوال داغ دیا۔کہ “مسٹر خان! کیا آپ سی آئی اے کے بندے ہیں؟”ان تمام عالمی تہمتوں، سیاسی مفروضوں اور تزویراتی شکوک کا جواب صرف ایک جملے کی ٹھوس اور لافانی حقیقت میں پنہاں ہے: “میں صرف اور صرف اللہ کا بندہ ہوں۔” اگر عالمی قوتیں کسی کے فہم، گہری بصیرت اور حقائق کی درست تفہیم سے خوفزدہ ہو کر اسے سائے اور خفیہ نیٹ ورکس سے جوڑتی ہیں، تو یہ ان کی اپنی ذہنی کمزوری ہے، کیونکہ سچا اور خوددار انسان کسی زمینی طاقت کا مہرہ نہیں ہوتا، وہ صرف خالقِ کائنات کی دی ہوئی عقل اور انسانی ہمدردی کے تحت اپنے فیصلے کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں