معیشت کے میدان سے آنے والی اچھی خبر کو خوش آمدید کہنا چاہیے۔ تقریباً ایک سال کے دوران پاکستان کی ریٹنگ میں دو درجوں کی بہتری یقیناً معمولی کامیابی نہیں۔ اس کاطلب یہ ہے کہ عالمی ادارے اور سرمایہ کار پاکستان کی معیشت کو پہلے کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ مستحکم سمجھ رہے ہیں۔
موڈیز نے Caa1 سے اٹھا کر پاکستان کی ریٹنگB3 کر دی ہے۔ وزیراعظم نے اس کامیابی پر قوم کو مبارک باد دی، معاشی ٹیم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور فرمایا گیا کہ عالمی اداروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ یہ واقعی ایک اچھی خبر ہے۔ ایسی خبر پر خوش ہونا چاہیے، تالیاں بھی بجنی چاہئیں اور اگر ممکن ہو تو مٹھائی بھی تقسیم ہونی چاہیے۔ مگر ایک معمولی سی مشکل ہے۔
عوام مٹھائی خریدنے کے پیسے کہاں سے لائیں؟
یہ سوال شاید موڈیز کی رپورٹ میں شامل نہیں، مگر پاکستان کے ہر گلی محلے میں موجود ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کا کریڈٹ رسک کم سمجھا ہے اس کی مہربانی، لیکن عام پاکستانی کا رسک تو بدستور بڑھ رہا ہے۔ اسے ہر ماہ یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ بجلی کا بل کہاں سے آئے گا، بچوں کی فیس کیسے ادا ہوگی، راشن پورا ہوگا یا نہیں، بیمار گھر کے فرد کی دوا خریدی جائے گی یا گیس کا بل دیا جائے گا۔
موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ B3 کر دی، مگر ذرا کسی غریب گھر کی ’’گھر چلانے کی ریٹنگ‘‘ بھی تو دیکھیے۔ شاید وہ Caa سے بھی نیچے ہو!
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان نے ایک خطرناک معاشی مرحلے سے نکلنے میں پیش رفت کی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی، میکرواکنامک استحکام کے آثار پیدا ہوئے، قرض کی ادائیگی کی صلاحیت میں کچھ بہتری آئی اور عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہونے لگا۔ خود موڈیز نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی بیرونی کمزوری پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی ہے، اگرچہ اس نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ معیشت اب بھی ساختی کمزوریوں، محدود ریونیو بیس اور سرمایہ کاری و بلند پیداواری نمو کی رکاوٹوں سے دوچار ہے۔
لہٰذا خوشی ضرور منائیے، مگر ایسی خوشی نہ منائیے کہ جیسے پاکستان معاشی جنت میں داخل ہوگیا ہو۔ B3 منزل نہیں ہے بلکہ منزل کی طرف جانے والی سیڑھی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس سیڑھی سے اوپر کون چڑھتا ہے؟ کیا صرف حکومت کے معاشی اعدادوشمار اس سیڑھی کے پائیدان چڑھیں گے یا عام پاکستانی بھی اس معاشی سیڑھی پر پاؤں رکھ سکے گا؟ کیونکہ عوام کے سامنے معیشت کا جو چہرہ ہے، وہ کچھ مختلف ہے۔ بازار جائیں تو قیمتیں اشیاء کو ہاتھ نہیں لگانے دیتیں، بجلی کا بل آئے تو آنکھیں سوال کرتی ہیں، اسپتال جائیں تو جیب کے ہلکا ہونے کا شدید احساس اور دکھ ہوتا ہے۔ سرکاری ہسپتال جائیں تو غیرذمہ دار عملہ سانحہ پمز جیسے حادثات برپا کرنے کو تیار بیٹھا ملتا ہے۔ نوکری تلاش کریں تو ڈگری سوال کرتی ہے اور بچے کے مستقبل کی فکر کریں تو پورا نظام سوال بن کر سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔
دو کروڑ سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا کسی بھی معاشی کامیابی کے ماتھے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جس ملک میں والدین غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر بچے کو اسکول کے بجائے معاشی حالات سے تنگ آ کر دکان، ورکشاپ یا کسی مستری کے پاس بھیجنے پر مجبور ہوجائیں، وہاں یہ صرف غربت نہیں، مستقبل کی قسطوں میں فروخت ہے۔
ہم عجیب ملک ہیں۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، ان کو سہولیات دینا ہماری ترجیح ہے، دوسری طرف لاکھوں نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر کے بعد روزگار نہیں ملتا۔ ایک طرف ڈیجیٹل پاکستان، مصنوعی ذہانت اور جدید معیشت کے خواب دکھائے جاتے ہیں، دوسری طرف بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ معیشت کے اعدادوشمار بہتر ہوئے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ معیشت پاکستان کے عوام کے لیے بہتر ہوئی یا صرف فائلوں میں ہی یہ آسمان کی بلندیوں کو چُھو رہی ہے؟
یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ اگر معاشی استحکام آ گیا ہے تو پھر اسپتالوں کی حالت کیوں نہیں بدلتی؟ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری کیوں نہیں آتی؟ بنیادی انفراسٹرکچر کیوں بوسیدہ ہے؟ آئے روز ٹرینیں پٹری سے کیوں اترتی ہیں؟ مریض ادویات کی قیمتیں سن کر کیوں پریشان ہوتے ہیں؟ اور عام شہری کو سرکاری دفتر میں اپنا جائز کام کروانے کے لیے سفارش کیوں تلاش کرنا پڑتی ہے؟ یہیں آکر گڈ گورننس کا دعویٰ بھی امتحان میں آجاتا ہے۔ موڈیز نے بہتر گورننس کی توقعات کو ریٹنگ میں بہتری کی ایک وجہ قرار دیا ہے، لیکن اسی عالمی جائزے میں پاکستان کے کمزور اداروں اور سیاسی و بیرونی خطرات کو بھی اہم چیلنجز قرار دیا گیا ہے۔ ہمیں گڈ گورننس کی تعریف صرف سرکاری پریس ریلیز سے نہیں، عوام کے تجربے سے طے کرنی ہوگی۔ عوام کے لیے اچھی حکومت وہ نہیں جو صرف یہ بتائے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کتنے بڑھ گئے۔ اچھی حکومت وہ ہے جو یہ بتائے کہ اس اضافے سے عام آدمی کی زندگی میں کیا بہتری آئی؟ سرمایہ کاری بڑھے تو کتنی نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں؟ ٹیکس وصولی بڑھی تو کتنے نئے اسکول بنے؟ معاشی استحکام آیا تو کتنے ہسپتال اپ گریڈ یا بہتر ہوئے؟ سرکاری آمدن بڑھی تو عوامی سہولتوں کا معیار کتنا بلند ہوا؟
سیاسی وجوہات کی بنا پر سرکاری پالیسیوں میں عدم تسلسل بھی ہمارے معاشی بحران کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، سیاسی لڑائیاں جاری رہیں اور ہر فریق دوسرے کو ملک کے تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دیتا رہے تو سرمایہ کار اعتماد کیسے کرے گا؟
دنیا میں سرمایہ صرف وہاں نہیں جاتا جہاں منافع زیادہ ہو؛ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں مستقبل قابلِ پیش گوئی ہو۔ سرمایہ کار کو اعتماد ہونا چاہیے کہ آج جو قانون ہے، کل کو اگر حکومت تبدیل ہو گئی تو پھر بھی وہی رہے گا؛ آج جو پالیسی ہے، اس کا بنیادی ڈھانچہ قائم رہے گا؛ عدالتیں، ادارے اور انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔
ہمیں اب ’’ہم نے معیشت بچا لی‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’ہم نے معیشت بدل دی‘‘ تک پہنچنا ہوگا۔ معیشت تب بدلے گی جب برآمدات بڑھیں گی، صنعت چلے گی، زراعت جدید ہوگی، بجلی سستی اور قابلِ اعتماد ہوگی، ٹیکس کا بوجھ منصفانہ ہوگا، سرکاری ادارے جواب دہ ہوں گے، نوجوانوں کو ہنر اور روزگار ملے گا اور تعلیم و صحت کو خرچ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھا جائے گا۔
موڈیز کی ریٹنگ بہتر ہونا خوش آئند ہے۔ اس خبر کو مسترد کرنا دانش مندی نہیں۔ مگر اسے ایسی کامیابی بھی نہیں سمجھنا چاہیے جس پر سفر ختم ہوگیا ہو۔ خود موڈیز کے مطابق B3 اب بھی ایک کمزور اور خطرات سے خالی نہ ہونے والی کریڈٹ پروفائل کی عکاسی کرتی ہے۔
اس لیے وزیراعظم صاحب! قوم کو مبارک باد ضرور دیجیے، مگر ساتھ یہ وعدہ بھی کیجیے کہ اگلی مرتبہ جب کوئی عالمی ادارہ پاکستان کی ریٹنگ بہتر کرے گا تو اس خوشخبری کا اثر صرف اسلام آباد کے ایوانوں میں نہیں بلکہ اٹک سے گوادر، کراچی سے خنجراب اور ہر غریب کے گھر تک محسوس ہوگا۔
عوام کو Moody’s کی B3 سے کوئی حسد نہیں۔ انہیں صرف اتنی سی خواہش ہے کہ ان کی اپنی زندگی بھی کبھی ’’B3‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’A‘‘ گریڈ میں داخل ہو جائے۔ موڈیز خوش ہے، حکومت خوش ہے، معاشی ٹیم خوش ہے۔
اب ذرا عوام کو بھی خوش ہونے کا موقع دے دیجیے۔ کیونکہ کسی ملک کی سب سے بڑی ریٹنگ وہ نہیں جو نیویارک کا کوئی ادارہ جاری کرے؛ سب سے بڑی ریٹنگ وہ ہے جو اس ملک کا عام آدمی اپنے دل میں اپنی حکومت کو دیتا ہے۔
6











