سلیمان شاکر گوجرانوالہ کے سماجی و مذہبی راہنما ہیں۔ اُن کی سماجی و فلاحی خدمات کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی خدادا صلاحیتوں سے اپنے کاز کو اُجاگر کرنے میں اہم کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں۔ ایسا ہی کارنامہ انہوں نے ”گولڈن پیس ایوارڈ” حاصل کرکے سرانجام دیا ہے۔ یہ ایوارڈ اُنہیں ملائیشیا میں منعقد ہونے والی ”عالمی امن کانفرنس” میں پاکستان کی شاندار نمائندگی اور اپنے کاز کو بہترین انداز میں پیش کرنے پر دیا گیا۔ اس کانفرنس میں دنیابھر سے 42ممالک نے شرکت کی اور پاکستان سے پانچ لوگوں نے شرکت کی جبکہ یہ ایوارڈ گوجرانوالہ کے سپوت ”داعی اتحاد امت، سفیر امن جناب سلیمان شاکر (چیئرمین علماء ونگ قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی پنجاب، سینئر ممبر IBMحکومت پنجاب) کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
محمدسعید بھٹی صدر کاروان ویلفیئر سوسائٹی جو کہ گوجرانوالہ میں ہونے والی تقریبات کے روح رواں ہیں، انہوں نے اپنے دیرینہ ساتھی جناب سلیمان شاکر کو یہ اہم کارنامہ سرانجام دینے پر اُن کی حوصلہ افزائی کے لیے حسب روایت تقریبِ پذیرائی کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب پذیرائی پنجاب کونسل آف دی آرٹس، کاروان ویلفیئر سوسائٹی اور گوجرانوالہ ادبی فورم کے اسٹراک سے آرٹس کونسل ہال گوجرانوالہ میں انعقاد پذیر ہوئی۔ اس تقریب میں شہر بھر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، صحافیوں، ادیبوں، شعرائ، قلم نگاروں، سماجی و فلاحی اداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ممتاز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کی صدارت چودھری شفقت ندیم گورایہ نے کی اور مہمانانِ گرامی میں مولانا زاہد الراشدی ، بابر رضوان باجوہ، زاہد نعیم سندھو، چودھری شاہد وڑائچ، ڈاکٹر نورین شکیل،میڈم رابعہ ڈار، قاسم کریم المشرقی شامل ہیں۔
تقریب کا آغاز حافظ عبداللہ کی پرسوز تلاوت کلام پاک سے ہوا جب کہ نعت رسول مقبولۖ پیش کرنے کی سعادت سعید بٹ نے حاصل کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض محمد سعید بھٹی نے نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے۔
مقررین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سلیمان شاکر اتحاد امت کے علمبردار، بین المذاہب، بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اُن کی گراں قدر خدمات لائق صدتحسین ہیں۔ ملائیشیا میں منعقدہ ”عالمی امن کانفرنس” میں دنیا بھر سے 42ممالک کے شرکاء کی موجودگی میں پاکستان کے حصے میں ”گولڈ پیس ایوارڈ” کا آنا پوری قوم کے لیے اعزا ز کا مقام ہے۔ جو کہ سلیمان شاکر کی شبانہ روز کاوشوں کا ثمر ہے۔ا نہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرکے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ شاکر صاحب جیسی شخصیات نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہیں۔ جو کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت اورپرامن تشخص اجاگر کر رہی ہیں۔ پوری دنیا میں امن، روداری اور ہم آہنگی کا جو نعرہ بلندکیا جا رہا ہے، وہ خطۂ پاکستان کے اس عظیم شہر گوجرانوالہ سے بلند ہوا ہے۔ جس کا سہرا مولانا کے سر ہے۔ اُن کا شروع سے یہ کردار رہا ہے کہ وہ وطن عزیز میں رواداری کے فروغ کے لیے، استحکام کے لیے ہر قسم کی دہشت گرد اور انتہاپسندی کو شکست فاش دیتے ہوئے ، قیام امن کے لیے ہمہ تن گوش میدانِ عمل میں تیاری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار اجاگر کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ اُن کا کردار ہمیں اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ جس طرح بین الاقوامی سطح پر انہوں نے اپنا کردار منوایاہے، اسی طرح من حیث الامت ہم خواہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہوں، وطن عزیز پاکستان کی پہچان کے حوالے سے اس بات کے امین ہیں کہ ہمیں ہر سطح پر پاکستان کا امیج روداری، عالمی امن و استحکام کے لحاظ سے اجاگر کرنا ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ مولانا صاحب نے عام لوگوں کو امن و امان، رواداری کا درس دینے سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ انہوں نے مشکلات کے باوجود اپنی کاوشوں کو جاری رکھا۔ مایوسی کو اپنے قریب نہ پھٹکنے دیا۔ دھیرے دھیرے اُن کی کاوشیں رنگ لانے لگیں، پہلے اُنہیں شہر گوجرانوالہ، پھر صوبے بھر میں، پھر ملک بھر میں اُن کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ جن کی بدولت انہیں بین الاقوامی فورم پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا۔ جہاں پر انہوں نے بڑے مدلل اندازمیں اپنے کاز، بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری، موسمیاتی تبدیلیوں کو بیان کیا۔ جس پر اُنہیں اس ایوار ڈ کا حق دار ٹھہرایا گیا۔ جہاں یہ اعزاز مولانا صاحب کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے وہاں یہ اہل گوجرانوالہ کے لیے بھی فخر کی بات ہے۔ یہ ایوارڈ ہر اُس شعبے کے لیے عزت کا سبب ہے جس کے ساتھ مولانا کا ذاتی یا جماعتی تعلق ہے۔ گوجرانوالہ ڈویژن کی سطح پر کوئی کاز، کوئی مشن خواہ وہ مدارس کے حوالے سے ہو، ختم نبوت کے حوالے سے ہو، امن و امان کے حوالے سے ہو، آل پارٹی کانفرنس کے حوالے سے ہو،تو سرفہرست جس شخصیت کا نام آتا ہے جو امن کی بات، امن کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں گے۔ وہ شخصیت مولانا سلیمان شاکر کی ہے۔ جنہوں نے دوسروں کی بھلائی و خیرخواہی کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے۔ دوسروں کی خیرخواہی کرنے والوں کوا للہ تعالیٰ عزتوں سے نوازتے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ جس کا بڑا ثبوت مولانا کو ملنے والا ”گولڈن پیس ایوارڈ” ہے۔ اس موقع پر مولانا صاحب کی فیملی بھی مبارک باد کی مستحق ہے کہ وہ مولانا صاحب کے کاز کے آگے رکاوٹ نہیں بنی بلکہ اُنہیں ہر مقام پر سپورٹ کیا۔
تقریب میں معروف شاعر زرمین مرزا اور خالد اقبال خالد نے منظوم کلام پیش کرکے مولانا صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔مولانا سلیمان شاکر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا میں منعقد ہونے والی ”انٹرنیشنل ڈپلومیٹ کانفرنس” یہ پانچویں کانفرنس تھی جو کہ ہر تین ماہ کے بعد مختلف ممالک میں انعقاد پذیر ہوتی ہے۔ اس میں دنیا بھر سے ایسے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے جو کہ اپنے اپنے ملک میں امن و عامہ، باہمی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو دور کرنے کے لیے کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہوں۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے 42ممالک کے شرکاء شریک ہوئے۔ پاکستان سے پانچ لوگوں نے شرکت کی، مگر ایوارڈ میرے حصے میں آیا ۔ یہ میرے لیے، میرے شہر کے لیے خصوصاً میرے ملک کے لیے بڑے فخر کا مقام ہے کہ دنیا کے 42ممالک کے موجودگی میں پاکستان کا پرچم سربلند ہوا۔وہ منظر ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے جب دنیا بھر سے آئے ہوئے شرکاء کی موجودگی میں میرا نام وطن عزیز کے نام کے ساتھ ”گولڈ پیس ایوارڈ” کے لیے پکارا گیا، اور ہمیں اسٹیج پر بلایا گیا۔ یہ یقینا محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے میرے لیے فکر کی بات ہے کہ 42ممالک کے شرکاء میں سے میرا اور پاکستان کا نام پکارا گیا۔ اس ایوارڈ کے ملنے سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن ہوا ۔ دنیا بھر کے میڈیا میں اس کو کوریج ہو رہی ہے اور پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوتیں پاکستان پر انتہاپسندی کا لیبل لگاتی تھیں، اُنہیں پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور دنیابھر میں امن و عامہ کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔ موجودہ عالمی بحران میں پاکستان کی پُرامن پالیسی نے دنیابھر کو تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھنے سے روک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے کاز کے لیے ،باہمی رواداری کے لیے مدرسوں، سکولوں، گردواروں، مندروں اور تمام مکاتب فکر کی مساجد میں جا کر کام کیا ہے۔ بھائی چارے کو فروغ دینے کی سعی کی ہے۔ لوگوں کو احساس دلایا ہے کہ دوسروں کا مؤقف سنیں گے تو آپس میں رواداری کا ماحول پیدا ہو گا۔ لوگوں کو یہ بھی باور کرایا گیا ہے۔ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ آئے دن موسمی حالات کی وجہ سے سیلاب کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ آسمانی آفات کی وجہ سے جو نقصانات ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے دنیا کا ماحول بدل رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں خصوصاً فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے اپنے ملک کے ماحول کے مطابق پودے لگانے کی ضرورت ہے۔ درخت لگانے کی اہمیت کا اندازہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ارشاد نبویۖ ہے: ”جو بھی مسلمان درخت لگائے یا فصل بوئے پھر اس میں سے جو پرندہ، چوپایہ یا انسان کھائے تو وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہو گا۔” درخت اور پودے ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن مہیا کرتے ہیں اور آکسیجن انسانی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر انسان زندہ نہیںرہ سکتا۔ درخت درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکتے ہیں۔ درخت سلائیڈنگ کی روک تھام کا باعث بھی بنتے ہیں۔ عالمی ماحول کے درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ”گلوبل وارمنگ” کہلاتا ہے۔ جس کی وجہ درختوں کو تیزی سے کاٹنا اور صنعتوں کا بغیر حفاظتی اقدامات کے تیزی سے قیام میں لانا اور بسوں، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہے۔ درخت اور پودے گلوبل وارمنگ میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے ہم زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ فضائی آلودگی سے بچ سکیں۔
تقریب کے میزبان محمد سعید بھٹی، رانا اظہر، میاں نذیر اور ظفر مہر نے آنے والے تمام معزز مہمانانِ گرامی اور شرکاء کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں اظہارِخیال کرنے والوں میں امجدمحمود معاویہ، طاہرحمید قادری، محمد آفاق احمد ایڈووکیٹ، ڈاکٹر محمداعظم، عطاء الرحمن، قاری انس، چودھری شفقت ندیم گورایہ، رابعہ ڈار، میاں سلیم، ملک زلفی ناز، عائشہ شاکر، ڈاکٹرنوشین شکیل، زاہد نعیم سندھو شامل ہیں۔ آخر میں مولانا سلیمان شاکر نے پاکستان کی سلامتی و ترقی کے لیے دعا کی۔
27











