11

معصوم فرشتوں کو درندوں سے بچائیں :حمید علی

یہ کالم لکھتے ہوئے دل بوجھل ہے۔ ایک ایسا معاشرہ، جہاں بچیاں بے خوف ہو کر گلیوں میں کھیلتی تھیں، دکان تک چلی جاتی تھیں اور والدین اطمینان سے انہیں چند قدم اکیلا بھیج دیتے تھے، آج وہی معاشرہ خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم کہاں آ پہنچے ہیں؟

گزشتہ کچھ دنوں کے دوران ملک کے مختلف شہروں سے کم سن بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے افسوس ناک واقعات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ہر نیا واقعہ چند دن تک زیرِ بحث رہتا ہے، سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے، بیانات آتے ہیں، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ لیکن جن گھروں سے معصوم بچیاں رخصت ہو جاتی ہیں، وہاں یہ خاموشی کبھی نہیں اترتی۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں صرف اچھے ارادے کافی نہیں رہے، بل کہ احتیاط بھی ناگزیر ہو چکی ہے۔ والدین کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ پانچ یا سات سال کی بچی کو محلے کی دکان پر روٹی لینے بھیج دینا، دودھ یا دوسری چیز منگوانا، یا بازار میں چند لمحوں کے لیے اکیلا چھوڑ دینا، اب معمولی بات نہیں رہی۔ چند منٹ کی غفلت بعض اوقات پوری زندگی کا دکھ بن جاتی ہے۔

یہ کسی کو خوف زدہ کرنے کی بات نہیں، بل کہ زمینی حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ جب معاشرے میں جرائم کی نوعیت بدل جائے تو احتیاط کے طریقے بھی بدلنے پڑتے ہیں۔ جس طرح ہم اپنے گھر کے دروازے رات کو مقفل کرتے ہیں، اسی طرح اپنی اولاد کی حفاظت کے لیے بھی نئے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مجرم کسی مخصوص گلی، شہر یا طبقے سے تعلق نہیں رکھتے۔ وہ ہر اس جگہ موجود ہو سکتے ہیں جہاں انہیں موقع مل جائے۔ اس لیے والدین کو یہ سوچ کر مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے کہ ہمارا محلہ محفوظ ہے یا یہاں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ احتیاط ہر جگہ اور ہر وقت ضروری ہے، کیونکہ ایک لمحے کی غفلت کسی مجرم کے لیے موقع بن سکتی ہے۔

والدین کی ذمہ داری صرف اچھی تعلیم، اچھے لباس اور بہتر مستقبل تک محدود نہیں۔ سب سے پہلی ذمہ داری ان کی جان اور عزت کی حفاظت ہے۔ اگر گھر میں روٹی ختم ہو گئی ہے تو چند قدم خود چل کر لے آئیں۔ اگر دودھ یا دوائی درکار ہے تو کسی بالغ فرد کو بھیج دیں۔ یہ معمولی سی مشقت کسی بڑے سانحے سے بچا سکتی ہے۔ چند لمحوں کی آسانی کبھی بھی بچوں کی سلامتی سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔

آج کے دور میں بچوں کی تربیت کے انداز میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ “اجنبیوں سے بات نہ کرنا”۔ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق اعتماد کے ساتھ یہ بھی سکھایا جائے کہ اگر کوئی شخص انہیں تنہا لے جانے کی کوشش کرے، غیر ضروری طور پر قریب آئے یا کسی چیز کا لالچ دے تو وہ فوراً انکار کریں، شور مچائیں اور کسی قابلِ اعتماد بڑے شخص تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ یہ آگاہی ان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور مشکل حالات میں بہتر فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔

معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر کسی گلی، بازار یا پارک میں کوئی بچہ پریشان حالت میں نظر آئے یا کوئی مشکوک سرگرمی دکھائی دے تو اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔ ایک ذمہ دار شہری کی بروقت توجہ کسی بڑے سانحے کو روک سکتی ہے۔ ہم سب کو اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنے کی عادت اپنانی ہوگی، کیونکہ محفوظ معاشرہ صرف قانون سے نہیں، اجتماعی شعور سے بھی وجود میں آتا ہے۔

ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف فوری، شفاف اور مؤثر قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ جب انصاف بروقت ہوتا ہے تو عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے اور قانون شکنی کرنے والوں کو واضح پیغام ملتا ہے کہ ایسے جرائم کی کوئی گنجائش نہیں۔

میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے، متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی شناخت اور وقار کا مکمل خیال رکھا جائے، اور ساتھ ہی عوام میں احتیاطی تدابیر اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے۔ سنسنی پھیلانے کے بجائے آگاہی پیدا کرنا زیادہ ضروری ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ بچے صرف گھر کی ذمہ داری نہیں، پورے معاشرے کی امانت ہیں۔ جب ایک بچہ غیر محفوظ ہوتا ہے تو درحقیقت پورا معاشرہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص یہ طے کر لے کہ وہ اپنے محلے کے بچوں کو بھی اپنی اولاد کی طرح محفوظ دیکھنا چاہتا ہے تو یقیناً بہت سے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔

آج ضرورت الزام تراشی کی نہیں، احساسِ ذمہ داری کی ہے۔ اپنی معصوم بچیوں کو محفوظ رکھنا صرف ایک خاندانی معاملہ نہیں، یہ ہماری قومی ذمہ داری بھی ہے۔ احتیاط اختیار کرنا کمزوری نہیں، دانش مندی ہے۔ اگر ہماری معمولی سی توجہ ایک معصوم زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں۔

ہم اپنے بچوں کو صرف اچھی تعلیم اور بہتر مستقبل ہی نہیں دیں گے، بل کہ انہیں ایک محفوظ ماحول بھی فراہم کرنے کی کوشش کرنی ہو گی۔ والدین، اساتذہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، میڈیا اور معاشرے کا ہر فرد اگر اپنی اپنی ذمہ داری پوری کرے تو یقیناً ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ محفوظ اور بااعتماد معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ معصوم فرشتوں کا تحفظ محض ایک نعرہ نہیں، ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری کو نبھانے کا وقت آج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں