18

مستنصر حسین تارڑ: سفر اور سخن کا امین حمید علی


اردو ادب کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنی تحریروں ہی سے نہیں بلکہ اپنے فکر و شعور، مشاہدے اور طرزِ اظہار سے بھی ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ بھی انہی نابغۂ روزگار ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ناول، سفرنامہ، افسانہ، خاکہ، کالم اور ٹیلی وژن کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ان کی تحریروں میں زندگی کی حرارت، فطرت کی دل کشی، انسان دوستی، تہذیبی شعور اور مشاہدے کی گہرائی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اردو ادب کے مقبول ترین اور معتبر ترین اہلِ قلم میں شمار کیے جاتے ہیں۔

مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاہور ہی میں حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ مزید تعلیم کے لیے برطانیہ گئے، جہاں کے مشاہدات نے ان کی شخصیت اور فکر کو نئی وسعت عطا کی۔ وطن واپسی پر انہوں نے تدریس، نشریات اور ادب کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں، مگر ان کی اصل شناخت ایک ادیب، سفرنامہ نگار اور ناول نگار کی حیثیت سے قائم ہوئی۔

پاکستان ٹیلی وژن کے ابتدائی دور میں بچوں کے پروگرام “اکڑ بکڑ” نے انہیں گھر گھر متعارف کرایا۔ ان کی شگفتہ گفتگو، برجستہ انداز اور دل آویز شخصیت نے انہیں عوام میں بے حد مقبول بنایا۔ تاہم، اس شہرت کے باوجود انہوں نے ادب سے اپنا تعلق کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔

اگر مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلے ان کے سفرناموں کا ذکر ناگزیر ہے۔ انہوں نے سفرنامے کو محض مقامات کی معلومات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ادب کی ایک باوقار اور تخلیقی صنف کا درجہ دیا۔ ان کے سفرناموں میں صرف راستوں کی تفصیل ہی نہیں بلکہ انسان، تہذیب، تاریخ، ثقافت، فطرت اور فلسفۂ حیات بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ قاری یوں محسوس کرتا ہے، جیسے وہ خود مصنف کے ہمراہ دنیا کے مختلف گوشوں کی سیر کر رہا ہو۔

ان کے نمایاں سفرناموں میں “نکلے تیری تلاش میں”، “اندلس میں اجنبی”، “خانہ بدوش” اور “ہنزہ داستان” سمیت متعدد یادگار تصانیف شامل ہیں۔ ان کتابوں نے اردو سفرنامے کو نئی جہت، نیا اسلوب اور نئی ادبی وقعت عطا کی۔

ناول نگاری کے میدان میں بھی مستنصر حسین تارڑ کا مقام نہایت بلند ہے۔ ان کے ناول انسانی نفسیات، معاشرتی تبدیلیوں، وقت کی بے ثباتی اور تہذیبی کشمکش کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں روانی، دل کش منظر نگاری، فطری مکالمہ نگاری اور کرداروں کی نفسیاتی گہرائی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔

ان کے معروف ناولوں میں “راکھ”، “بہاؤ”، “قلعہ جنگی”، “خس و خاشاک زمانے”، “ڈھائی”، “شہرِ خالی، کوچہ خالی” اور “میرے بھی صنم خانے” خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً “بہاؤ” کو اردو ناول کی اہم ترین تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں قدیم تہذیب، انسانی بقا اور فطرت سے تعلق کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کی تحریروں کا سب سے نمایاں وصف ان کی زبان ہے۔ ان کی نثر سادہ، رواں، شستہ اور دل نشیں ہونے کے باوجود ادبی حسن سے بھرپور ہوتی ہے۔ وہ مشکل خیالات کو بھی نہایت سہل اور دل آویز پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ یہی خوبی انہیں ہر عمر کے قارئین میں مقبول بناتی ہے۔ ان کی تحریروں میں تصنع نہیں بلکہ زندگی کی سچائی، احساس کی لطافت اور مشاہدے کی صداقت نمایاں ہوتی ہے۔

انہوں نے پاکستانی معاشرے، دیہی زندگی، پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں اور انسانی رشتوں کو جس محبت اور باریک بینی سے قلم بند کیا ہے، وہ ان کے منفرد تخلیقی شعور کا مظہر ہے۔ ان کی تحریریں صرف معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ قاری کے اندر سوچنے، محسوس کرنے اور زندگی کو نئے زاویۂ نظر سے دیکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہیں۔

اردو ادب کے فروغ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں متعدد اعزازات سے نوازا، جن میں ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز نمایاں ہیں۔ یہ اعزازات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی ادبی خدمات نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

مستنصر حسین تارڑ آج بھی اپنی عمر کے اس مرحلے میں پوری فکری توانائی کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔ ان کی ہر نئی تصنیف قارئین کے لیے ایک ادبی تحفہ ثابت ہوتی ہے۔ نوجوان لکھنے والے ان کے اسلوب، مطالعے، مشاہدے اور تخلیقی بصیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، جب کہ ادب سے محبت رکھنے والے انہیں اپنے عہد کا ایک معتبر اور قابلِ احترام ادیب تسلیم کرتے ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مستنصر حسین تارڑ نے اردو ادب کو صرف معیاری کتابیں ہی نہیں دیں بلکہ ایک ایسا ادبی ذوق بھی عطا کیا ہے، جس نے لاکھوں قارئین کو کتاب، مطالعے اور فکر سے جوڑ دیا۔ ان کے سفرناموں نے دنیا کو اردو زبان میں سمویا، ان کے ناولوں نے انسان اور معاشرے کے باطن کو آشکار کیا، اور ان کی نثر نے اردو ادب کے حسن میں گراں قدر اضافہ کیا۔

مستنصر حسین تارڑ کی شخصیت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ سچا ادیب زمانے کی تبدیلیوں کے باوجود اپنی تخلیقی روشنی سے معاشرے کو منور کرتا رہتا ہے۔ ان کا ادبی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی علم، شعور، جمالیات اور فکری رہنمائی کا قیمتی اثاثہ رہے گا، اور اردو ادب کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ احترام، محبت اور فخر کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں