محترم قارئین، کائنات کے پوشیدہ اسرار اور مابعد الطبیعاتی حقائق بعض اوقات انسانی عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔ آج سے چھبیس برس قبل، جب میں اپنے مادی وجود کو ہر قسم کے دنیاوی سہارے سے یکسر خالی کر کے، اپنے تمام تر اثاثے بھائیوں کے نام کر کے، ہجرت کے کٹھن سفر پر روانہ ہوا، تو بظاہر مین ایک مفلس و قلاش مسافر تھا۔ منزلِ مقصود دبئی جیسی اجنبی سرزمین تھی، جہاں خوابوں کی تعبیر تو دور، محض ایک ٹیکسی ڈرائیور کی حیثیت سے حلال روزی کمانا اور اہل و عیال کے نفقے کا بندوبست کرنا ہی سب سے بڑا ہدف تھا۔ لیکن اس ظاہری بے سروسامانی کے پیچھے ایک ایسی باطنی ثروت چُھپی تھی جس نے مروجہ معاشی قوانین کو یکسر الٹ کر رکھ دیا۔ جاتے ہوئے پروردگارِ عالم کے حضور عاجزی سے ہاتھ اٹھا کر، گریہ و زاری کے ساتھ ایک انوکھی اور عدیم النظیر خواہش کا اظہار کیا گیا، “یا اللہ! آپ ہی میرے کاروبار میں شریک بن جائیں۔” یہ کوئی روایتی دعا نہیں تھی، بلکہ خالقِ کائنات کے ساتھ ایک پختہ، غیر متزلزل اور والہانہ عہد و پیماں تھا۔ وعدہ یہ تھا کہ اس غیبی شراکت داری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے منافع کا ایک بڑا حصہ اللہ کے بندوں کی فلاح و بہبود، آسودگی اور سماجی ترقی پر بے دریغ خرچ کیا جائے گا۔
پھر چشمِ فلک نے وہ حیران کن اور محیر العقل منظر دیکھا جس کی مادی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس الٰہی شراکت داری کے قائم ہوتے ہی، ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ثریا سیٹلائٹ ٹیلی فون کمپنی جیسی بین الاقوامی اور دیوہیکل کارپوریٹ ہستی کے ساتھ تجارتی اشتراک کا ایک ایسا غیبی دروزاہ کھلا جس نے آمدنی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ ہر گزرتے مہینے کے ساتھ کمپنی کے کھاتے میں چھ سے سات کروڑ روپے کا رقم اور فلک بوس منافع منتقل ہونے لگا۔ یہ کوئی اتفاقی کامیابی یا عام کاروباری اتار چڑھاؤ نہیں تھا، بلکہ یہ اس دانا و بینا ذات کا براہِ راست جواب تھا جس کے حکم کے بغیر کائنات کا ایک ادنیٰ پتہ بھی اپنی جگہ سے ہلنے کی سکت نہیں رکھتا۔ آج جو کچھ بھی مادی و سماجی نیٹ ورک قائم ہے، وہ اسی غیبی اور مبارک شراکت کے لازوال منافع کا مرہونِ منت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات انسانی نفس کم مائیگی کا احساس دلاتا ہے اور ضمیر ملامت کرتا ہے کہ اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے بحرِ دولت کے مقابلے میں اب بھی راہِ خدا میں کم خرچ کیا جا رہا ہوں، لیکن فوراً ہی اس علیم و خبیر ذات پر کامل یقین دل کو ڈھارس بندھاتا ہے کہ وہ نیتوں کے بھید جانتا ہے اور اس کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہے۔اسکے ساتھ ساتھ معاشرتی زبوں حالی اور اجتماعی بے حسی کا المیہ سکے کا دوسرا رخ انتہائی بھیانک، تلخ اور دل دہلا دینے والا ہے۔ ہمارا موجودہ معاشرہ جس شدید اخلاقی، سماجی اور روحانی زبوں حالی کا شکار ہے، اس نے انسانی رشتوں کے تقدس اور ہمدردی کے جذبے کو یکسر مفلوج کر دیا ہے۔ لوگ کسی اپنے کی موت پر تو بڑی دلجمعی اور تجسس سے یہ کریدنے پہنچ جاتے ہیں کہ “یہ کیسے مرا؟” لیکن اسی انسان کی جیتے جی تلخ زندگی میں کبھی بھولے سے بھی یہ دریافت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ “وہ کیسے جی رہا ہے؟” یہ تضاد اور منافقت ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ہمارے آس پاس، ہمسائے میں رہنے والے قریبی اقرباء، مساکین اور سفید پوش لوگ شدید بیماریوں، جان لیوا فاقوں اور ناقابلِ بیان تکلیفوں کی بھٹی میں جھلس رہے ہوتے ہیں، مگر ہماری مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی چادر اتنی تانی جا چکی ہے کہ ہمیں ان کی سسکیاں سنائی نہیں دیتیں۔ حتیٰ کہ ہم اسلام کے اہم ترین مالیاتی رکن، یعنی زکوٰۃ جیسے مقدس فریضے کو بھی نمائش، خود ستائی اور ریا کاری کی نذر کر کے اس کی اصل روح کو مسخ کر دیتے ہیں۔ حل اور روشن مستقبل کا راستہ اگر اسی فرض زکوٰۃ کو نمائش کے بجائے خالصتاً شرائط و ضوابط کے تحت، اپنے اردگرد کے کم از کم چار حقدار پڑوسیوں میں خاموشی سے تقسیم کر دیا جائے، تو معاشرے سے افلاس، بھوک اور پسماندگی کا سدِ باب ممکن ہے۔ ہمارے ملک اور علاقوں میں متمول اور صاحبِ ثروت افراد کی کوئی کمی نہیں ہے، ان سے یہی دردمندانہ اپیل اور مخلصانہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس کے کمزور رشتہ داروں اور پسے ہوئے ہمسایوں کے دکھ درد کا مداوا کریں۔ زندگی کا اصل حسن ایک دوسرے کی اچھائی اور فلاح میں بڑھ چڑھ کر مدد کرنے میں ہے۔ یاد رکھیے، موت کے بعد تو ہر ذی روح کا حتمی حساب کتاب رب ذوالجلال کے مطلق اختیار میں ہے، وہاں کوئی سفارش کام نہیں آئے گی۔ لہٰذا، حرص و ہوا اور زیادہ کی اندھی لالچ کو ترک کر کے، اپنے کاروبار، اپنی نیتوں اور اپنی زندگی میں اللہ جل شانہ کو شریک بنا لیں۔ یہی وہ واحد نسخہ کیمیا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر آپ دنیا اور آخرت، دونوں جہانوں میں ابدی فائدے، نجات اور خدا کی نظر میں امتیازی مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
39











