10

لینن، سامراجی جال اور عالمگیر سیاست کے بدلتے رخ و اثرات:احمدخان اچکزئی

محترم قارئین، ولادیمیر لینن نے 1916ء میں اپنی تاریخی تصنیف “سامراجیت: سرمایہ داری کا آخری مرحلہ” رقم کر کے عالمی طاقتوں کی معاشی ہوس اور توسیع پسندانہ عزائم کو جس باریکی سے بے نقاب کیا، اس نے بین الاقوامی سیاست کے تمام مروجہ اصول بدل کر رکھ دیے۔ لینن کے نزدیک سامراجیت صرف کسی ملک پر فوجی پیش قدمی یا جغرافیائی قبضے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظام کے اندر سے جنم لینے والا وہ معاشی سانچہ تھا جس کے تحت عالمی وسائل اور ماليات چند اجارہ دار قوتوں کے ہاتھ میں یرغمال بن کر رہ جاتے ہیں۔لینن نے اپنے اس سامراجی نظریے میں پانچ بنیادی نکات کی نشان دہی کی تھی: صنعتی و مالیاتی اجارہ داری کا قیام، تجارتی سامان کی جگہ “سرمائے کی برآمد” کے ذریعے پس ماندہ اقوام کو قرضوں میں جکڑنا، بین الاقوامی کارٹیلز کے ذریعے عالمی مارکیٹوں پر قبضے، اور نوآبادیاتی طاقتوں کی جانب سے کرہ ارض کی بندر بانٹ۔ یہی وہ سامراجی کشمکش تھی جس کے نتیجے میں پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک باب رقم ہوئے اور دنیا ایک دائمی خوف میں مبتلا ہو گئی۔عالمی سطح پر لینن کی سامراج مخالف فکر نے بیسویں صدی میں گہرے اور ہمہ گیر اثرات مرتب کیے۔ ایک طرف جہاں 1917ء کے بالشویک انقلاب کے بعد سرائیکی-سائکس-پیکو جیسے خفیہ اور مکروہ مغربی معاہدوں کو اعلانیہ شائع کر کے بین الاقوامی سامراج کا اصلی چہرہ ننگا کیا گیا، وہیں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نوآبادیاتی تحریکوں کو نظریاتی اور اخلاقی توانائی فراہم کی گئی۔ اس فکر نے عالمی سطح پر محنت کشوں کے حقوق اور فلاحی ریاست کے تصور کو تقویت دی۔ لیکن دوسری جانب، سامراجیت کے خاتمے کے اس نعرے سے جس سوویت ماڈل نے جنم لیا، اس نے خود ایک سخت گیر ریاستی آمریت کو جنم دیا جہاں فرد کی آزادی سلب کر لی گئی اور بعد میں یہی سوویت یونین “سرخ سامراجیت” کی شکل اختیار کر کے علاقائی غصب کا باعث بنا۔مسلم دنیا کے نقطہ نظر سے لینن کے سامراجی نظریے اور سوویت اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی تضادات کی ایک طویل داستان ملتی ہے۔ سوویت یونین کے قیام کے بعد وسطی ایشیا کے قدیم اور تاریخی اسلامی مراکز سمرقند، بخارا اور فرغانہ میں مساجد و مدارس کو قفل لگائے گئے، عربی الرسم الخط کو منسوخ کیا گیا اور مسلم شناخت کو مٹانے کی منظم کوشش کی گئی۔ دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ، الجزائر اور فلسطین میں برطانوی و فرانسیسی تسلط کے خلاف نبرد آزما رہنماؤں نے اپنے سیاسی مقاصد اور سفارتی توازن کے لیے اسی لیننی بیانیے اور سوویت تکنیکی و عسکری مدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم اسلامی عقائد اور مادی اشتراکی فلسفے میں بنیادی نظریاتی تصادم کے باعث مسلم دنیا میں ایک گہری سیاسی و فکری تقسیم بھی پیدا ہوئی۔آج کے جدید دور میں، جب نوآبادیاتی دور کی جگہ نيو کیپٹلزم اور معاشی پابندیوں کی جدید سامراجیت نے لے لی ہے، لینن کے اس تجزیے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ اگرچہ سوویت ماڈل انسانی اور مذہبی آزادیوں پر قدغن لگانے کے باعث اپنی ناکامی سے ہم کنار ہوا، لیکن بین الاقوامی معاشی اجارہ داریوں اور طاقتور ممالک کے توسیع پسندانہ عزائم کو سمجھنے کے لیے لینن کا سامراجی تجزیہ آج بھی بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ کا ایک اہم اور حقیقت پسندانہ باب ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں