5

قلم کی حرمت یا انا کی جنگ؟ سید ساجد علی شاہ

لفظ کبھی تہذیب کا لباس ہوا کرتے تھے۔ اہلِ قلم اختلاف بھی کرتے تھے تو دلیل کے ساتھ، تنقید بھی کرتے تھے تو احترام کے دائرے میں رہ کر۔ کسی کی تحریر کمزور ہوتی تو اسے سنوارنے کی کوشش کی جاتی، کسی کی سوچ سے اختلاف ہوتا تو دلیل سے جواب دیا جاتا۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے ادب کو ادب بنایا اور اہلِ قلم کو معاشرے کا باشعور طبقہ قرار دیا۔ مگر آج دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے، کیا واقعی ہمارے ادبی گروپ اب بھی ادب کی آماجگاہ ہیں یا وہ میدانِ جنگ بن چکے ہیں جہاں ہر دوسرا شخص خود کو علم و ادب کا امام سمجھتا ہے اور ہر مخالف رائے رکھنے والے کو ذلیل کرنا اپنا فرض؟ مصنوعی ذہانت (AI) نے بلاشبہ دنیا کو بے شمار آسانیاں دی ہیں۔ اس نے لکھنے والوں کے لیے نئے امکانات پیدا کیے، تحقیق کے دروازے کھولے، زبان کی اصلاح میں مدد دی اور نئے قلم کاروں کو اعتماد بخشا، مگر افسوس کہ ہمارے بعض ادبی حلقوں میں اس نعمت کو بھی انا، غرور اور اجارہ داری کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ چند ماہ پہلے تک جن لوگوں کو ایک درست جملہ لکھنے میں دشواری ہوتی تھی، آج وہ مصنوعی ذہانت سے تحریریں لکھوا کر خود کو استادِ ادب ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مسئلہ مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں بلکہ اس کے نام پر دوسروں کی تضحیک، تحقیر اور کردار کشی ہے۔ اگر کسی نے AI سے مدد لے لی تو اس پر طنز کے تیر برسائے جاتے ہیں، اور اگر کسی نے اپنی سوچ اور محنت سے لکھا تو اسے کم علم یا فرسودہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ گویا ہر حال میں دوسروں کو نیچا دکھانا ہی مقصد بن چکا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کسی ادبی گروپ میں علمی اختلاف چند لمحوں میں ذاتی دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ الفاظ کا وقار ختم ہو جاتا ہے، دلیل کی جگہ گالی گلوچ لے لیتی ہے اور تہذیب کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔ کتنا المناک منظر ہے کہ ادب کے نام پر قائم ہونے والے گروپوں میں بدترین زبان استعمال کی جاتی ہے۔ ماں، بہن، خاندان اور شخصیت تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں دہرانا بھی شرمناک محسوس ہوتا ہے۔ پھر یہی لوگ خود کو ادیب، شاعر، نقاد اور استاد کہلوانے پر اصرار کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ادب یہی سکھاتا ہے؟ اگر زبان میں شائستگی نہ رہے، اگر قلم سے نفرت ٹپکے، اگر گفتگو میں برداشت نہ ہو اور دلیل کی جگہ گالی آ جائے تو پھر کتابوں کے انبار بھی انسان کو ادیب نہیں بنا سکتے۔ آج ہمارے ادبی گروپوں کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہاں علم کم اور انا زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ہر شخص اپنی بات کو آخری سچ سمجھتا ہے، کوئی کسی کی سننے پر آمادہ نہیں اور اختلاف برداشت کرنا گویا کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے جہاں نئے لکھنے والوں کو سہارا دیا، وہیں بعض لوگوں نے اسے اپنی برتری ثابت کرنے کا ہتھیار بنا لیا۔ کوئی ہر تحریر کے نیچے لکھ دیتا ہے کہ “یہ AI کی لکھی ہوئی ہے”، کوئی دوسرے کو “جعلی ادیب” کہہ کر اپنی فتح کا اعلان کرتا ہے، اور کوئی اسلوب پر بات کرنے کے بجائے نیت پر حملہ کرتا ہے۔ یہ رویہ ادب کا نہیں بلکہ احساسِ کمتری کا آئینہ ہے۔ ادب کا اصل حسن تو یہ ہے کہ اگر کسی کی تحریر کمزور ہو تو اسے مضبوط بنایا جائے، اگر کوئی غلطی کرے تو محبت سے اصلاح کی جائے اور اگر کوئی نیا لکھنے والا ہو تو اس کی حوصلہ افزائی کی جائے، مگر افسوس کہ ہمارے بعض ادبی گروپوں میں نئے قلم کاروں کا خیرمقدم کرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے تاکہ وہ دوبارہ قلم اٹھانے کی ہمت ہی نہ کر سکیں۔ نہ جانے کتنے باصلاحیت نوجوان صرف اس لیے خاموش ہو گئے کہ انہیں گالیوں، طنز، تمسخر اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے خواب ٹوٹ گئے، ان کا اعتماد بکھر گیا اور ادب ایک اور اچھے لکھنے والے سے محروم ہو گیا۔ یہ نقصان کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری اردو زبان کا ہے۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ اکثر گروپوں کے منتظمین خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ جب تہذیب کا خون ہوتا ہے تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، مگر معمولی نوعیت کے اختلاف پر فوراً کارروائی کر دیتے ہیں۔ اصول اگر سب کے لیے برابر نہ ہوں تو انصاف دم توڑ دیتا ہے۔ ادب کا مقصد انسان کو بہتر بنانا ہے، بدتر نہیں۔ اگر ہماری تحریریں انسانیت، برداشت، اخلاق اور محبت پیدا نہیں کر رہیں تو ہمیں اپنے قلم، اپنے رویے اور اپنی نیت پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت نہ اچھی ہے نہ بری، وہ صرف ایک ذریعہ ہے۔ اصل فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اسے علم بانٹنے کے لیے استعمال کرتا ہے یا تکبر پھیلانے کے لیے، اصلاح کے لیے استعمال کرتا ہے یا تضحیک کے لیے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت سے نہیں بلکہ اپنی سوچ سے ڈریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم مشینوں سے مقابلہ کرتے کرتے اپنی انسانیت ہی کھو بیٹھیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم الفاظ کے ماہر تو بن جائیں مگر اخلاق سے خالی ہو جائیں۔ ادبی گروپ اگر واقعی ادب کے مراکز بننا چاہتے ہیں تو انہیں اختلاف کو دشمنی بنانے کے بجائے مکالمے میں بدلنا ہوگا، تنقید کو اصلاح تک محدود رکھنا ہوگا، ذاتیات سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا، گالی دینے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی اور نئے لکھنے والوں کی عزت کرنی ہوگی۔ یاد رکھیے، مصنوعی ذہانت ادب کی دشمن نہیں، مگر بدتہذیبی ضرور ادب کی قاتل ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں کتابوں میں ادب تلاش کریں گی مگر ادیبوں کے کردار میں نہیں۔ قلم کی اصل طاقت الفاظ کی خوبصورتی نہیں بلکہ کردار کی پاکیزگی ہے۔ جو شخص گالی دے کر جیتنا چاہتا ہے، وہ حقیقت میں اپنی شکست کا اعلان کر چکا ہوتا ہے، جبکہ جو شخص دلیل، برداشت اور اخلاق کے ساتھ اختلاف کرتا ہے، وہی حقیقی ادیب کہلانے کا حق دار ہے۔ آئیے، ادب کو دوبارہ ادب بنائیں، اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ مکالمہ بنائیں، مصنوعی ذہانت کو خدمتِ علم کا ذریعہ بنائیں، انا اور تکبر کا ہتھیار نہیں، کیونکہ جس دن اخلاق مر جاتا ہے، اسی دن ادب کا جنازہ اٹھ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں