12

فارماسیوٹیکل مافیا بے لگام حمید علی

مہنگائی نے پہلے ہی پاکستانی عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خور و نوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، مگر سب سے زیادہ تشویش ناک صورتِ حال ادویات کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی ہے۔ بیماری کسی انسان کی پسند نہیں ہوتی، مگر پاکستان میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیمار ہونا بھی اب صرف صاحبِ حیثیت لوگوں کا حق رہ گیا ہے۔ غریب آدمی کے لیے دوا خریدنا بھی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔

یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ آخر فارماسیوٹیکل مافیا کو کھلی چھوٹ کس نے دے رکھی ہے؟ آخر کیوں ہر چند ماہ بعد ضروری ادویات کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا جاتا ہے؟ کیا کسی نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایک دیہاڑی دار مزدور، ایک پنشنر، ایک بیوہ یا ایک سفید پوش خاندان ان مہنگی ادویات کا خرچ کیسے برداشت کرتا ہوگا؟

دل، شوگر، بلڈ پریشر، دمہ، گردوں اور کینسر جیسے امراض میں مبتلا لاکھوں مریض روزانہ ادویات استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے دوا کوئی عیش و عشرت کی چیز نہیں، بل کہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ مگر جب ایک ہی دوا کی قیمت چند ہی مہینوں میں کئی گنا بڑھ جائے تو مریض کے پاس یا تو علاج چھوڑنے کا راستہ بچتا ہے یا پھر اپنے بچوں کی ضروریات قربان کرنے کا۔

افسوس اس بات کا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا کوئی واضح جواز عوام کے سامنے نہیں رکھا جاتا۔ کبھی خام مال مہنگا ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے، کبھی ڈالر کی قدر کو وجہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی پیداواری لاگت کا حوالہ دے دیا جاتا ہے۔ اگر یہ تمام دلائل درست بھی مان لیے جائیں تو پھر یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ کیا قیمتوں میں اضافے کی کوئی حد مقرر نہیں؟ کیا عوام کی برداشت اور قوتِ خرید کا بھی کوئی حساب رکھا جاتا ہے؟

اس سارے معاملے میں سب سے بڑا سوال حکومت سے ہے۔ حکومت کہاں ہے؟ کیا عوام کو مہنگی ادویات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ہی ریاست کی ذمہ داری ہے؟ اگر زندگی بچانے والی ادویات بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو ریاست کے وجود کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟

اسی طرح ایک اور اہم سوال ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سے بھی ہے۔ ڈریپ کہاں ہے؟ اگر قیمتوں کا تعین اور نگرانی اسی ادارے کی ذمہ داری ہے تو پھر عوام کو مسلسل مہنگی ادویات کیوں خریدنا پڑ رہی ہیں؟ کیا ڈریپ صرف فائلوں تک محدود ہو چکی ہے، یا اس کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی مؤثر حکمتِ عملی بھی موجود ہے؟

اصل سوال ذمہ داری کا ہے۔ آخر اس بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومت، ڈریپ، دوا ساز کمپنیاں یا وہ نظام جس میں عوام کی تکلیف کو کبھی ترجیح ہی نہیں دی جاتی؟ جب تک ذمہ داری کا تعین نہیں ہو گا، جواب دہی نہیں ہو گی اور قانون سب پر یکساں لاگو نہیں ہو گا، تب تک مہنگی ادویات کا یہ عذاب ختم ہونے والا نہیں۔

ادویات کسی بھی معاشرے میں تجارت کا ذریعہ ضرور ہو سکتی ہیں، مگر انہیں بے لگام منافع خوری کا ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، نہ کہ صرف ان لوگوں کی سہولت جن کی جیب بھاری ہو۔ اگر ایک مریض دوا نہ خرید سکنے کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو اس کا اخلاقی بوجھ صرف اس کے خاندان پر نہیں، پوری ریاست پر عائد ہوتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کا فوری ازسرِنو جائزہ لے، ڈریپ کو مکمل طور پر فعال اور خودمختار بنائے، من مانے نرخ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور ضروری ادویات کو ہر صورت عام آدمی کی دسترس میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ صرف اجلاس، بیانات اور نوٹیفکیشن عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔

پاکستان کے عوام خیرات نہیں مانگ رہے، وہ صرف یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بیماری ان کے لیے موت کا پروانہ نہ بنے۔ دوا ہر مریض کی پہنچ میں ہونی چاہیے، کیوں کہ ایک مہذب ریاست کی پہچان اس کی بلند عمارتیں نہیں، بل کہ اپنے کمزور اور بیمار شہریوں کے لیے اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر آج بھی ادویات کی قیمتوں کو بے لگام چھوڑ دیا گیا تو کل صرف بیمار ہی نہیں، پورا نظام عوام کے اعتماد سے محروم ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں