13

عنوان:ہم کون ہیں؟ از: ایمان جاوید اقبال

کبھی آپ نے رات کے کسی پرسکون پہر، جب شہر کی رونقیں خاموش ہو جاتی ہیں اور صرف اپنے دل کی دھڑکن سنائی دیتی ہے، خود سے یہ سوال کیا ہے کہ “ہم کون ہیں؟” بظاہر یہ ایک مختصر سا سوال معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہی سوال انسان کی پوری زندگی کا محور ہے۔ انسان نے صدیوں سے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ فلسفیوں نے کتابیں لکھیں، صوفیوں نے ریاضتیں کیں، سائنس دانوں نے تحقیق کی اور شاعروں نے اسے اپنے اشعار میں ڈھالا، مگر آج بھی یہ سوال اپنی پوری گہرائی کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔

ہم اپنی شناخت کے لیے اکثر نام، خاندان، قوم، مذہب، پیشہ، ڈگری یا دولت کا سہارا لیتے ہیں۔ ہم خود کو انہی تعارفات میں قید کر لیتے ہیں، حالانکہ یہ سب ہماری شخصیت کا صرف ایک حصہ ہیں، مکمل وجود نہیں۔ اگر کسی انسان سے اس کا نام، عہدہ یا دولت چھین لی جائے تو کیا وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ اس کی اصل پہچان اس کا کردار، اس کی سوچ، اس کے اخلاق اور اس کے اعمال ہوتے ہیں۔

بدقسمتی سے آج کا انسان اپنی اصل شناخت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم نے اپنی زندگی کو تصویروں، پسندیدگیوں اور تعریفوں کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ ہم دوسروں کو متاثر کرنے میں اتنے مصروف ہیں کہ خود کو پہچاننے کا وقت ہی نہیں نکالتے۔ ہم اپنے چہرے کو سنوارتے ہیں مگر اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ حالانکہ چہرے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، مگر کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

انسان کی عظمت اس کے لباس، گھر یا بینک بیلنس سے نہیں بلکہ اس کے رویّے سے پہچانی جاتی ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک سچا لفظ، کسی دکھی دل کو سہارا دینا یا کسی مجبور کا ہاتھ تھام لینا وہ اعمال ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو تاریخ میں زندہ رہتی ہیں، جبکہ دنیاوی شان و شوکت وقت کی گرد میں گم ہو جاتی ہے۔

ہم سب اس دنیا میں ایک مقصد کے ساتھ آئے ہیں۔ کوئی علم بانٹنے کے لیے، کوئی انصاف قائم کرنے کے لیے، کوئی محبت پھیلانے کے لیے اور کوئی اپنے فن کے ذریعے معاشرے میں روشنی پیدا کرنے کے لیے۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ پوری زندگی دوسروں جیسا بننے کی کوشش میں گزار دیتے ہیں اور اپنی اصل صلاحیتوں کو پہچان ہی نہیں پاتے۔ حالانکہ ہر انسان منفرد ہے، اور اسی انفرادیت میں اس کی اصل خوبصورتی پوشیدہ ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کی شناخت صرف اس کی کامیابیوں سے نہیں بنتی بلکہ اس کے ناکامیوں سے نمٹنے کے انداز سے بھی بنتی ہے۔ مشکلات ہر شخص کی زندگی میں آتی ہیں، مگر کچھ لوگ ٹوٹ جاتے ہیں اور کچھ انہی آزمائشوں سے نکھر کر دوسروں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ دراصل مضبوط انسان وہ نہیں جو کبھی گرے ہی نہ، بلکہ وہ ہے جو ہر بار گر کر دوبارہ اٹھ کھڑا ہو۔

اگر ہم واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کون ہیں تو ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ اپنے ضمیر سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم کسی کے لیے آسانی کا سبب ہیں یا مشکل کا؟ کیا ہماری زبان لوگوں کے دل جوڑتی ہے یا توڑتی ہے؟ کیا ہماری موجودگی سے معاشرے میں خیر بڑھتی ہے یا نفرت؟ یہی سوال ہماری اصل شناخت متعین کرتے ہیں۔

بطور مسلمان ہماری سب سے بڑی شناخت اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونا ہے۔ اسی بندگی سے انسان کو عزت، مقصد اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو وہ خود کو بھی پہچان لیتا ہے۔ پھر وہ دنیا کی وقتی چمک دمک کے بجائے ایسے اعمال کو ترجیح دیتا ہے جو ہمیشہ باقی رہیں۔

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم دوسروں کو بتائیں کہ ہم کون ہیں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسے اعمال کریں جو خود ہماری پہچان بن جائیں۔ ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارے کردار کو بولنا چاہیے۔ کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھا ہے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی، سچ کا ساتھ دیا اور اپنے اخلاق سے دل جیتے۔

“ہم کون ہیں؟” کا جواب کسی تعارفی کارڈ، کسی ڈگری یا کسی عہدے میں نہیں ملتا۔ اس کا جواب ہمارے کردار، ہمارے ضمیر اور ہمارے اعمال میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اپنے اندر انسانیت، محبت، دیانت اور رحم کو زندہ رکھ سکیں تو یہی ہماری اصل شناخت ہے۔ باقی ہر تعارف وقت کے ساتھ مٹ جاتا ہے، مگر اچھے کردار کی خوشبو نسلوں تک باقی رہتی ہے۔

ہم کون ہیں؟
ہم وہ ہیں جو اپنے اعمال سے پہچانے جاتے ہیں، کیونکہ نام وراثت میں مل سکتے ہیں، مگر کردار انسان خود تخلیق کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں